گوادر میں احتجاج کے دوران پولیس اہلکار ہلاک، ’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں پر مقدمے کا اعلان

Gwadar
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں منگل کے روز احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکار کی ہلاکت ’حق دو تحریک‘ کے مظاہرین کی جانب سے فائرنگ سے ہوئی۔

حق دو تحریک نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ سکیورٹی فورسز نے کی تھی۔

اگرچہ موبائل سروس بند ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکار کی ہلاکت کے الزام کے حوالے سے حق دو تحریک کے رہنماﺅں سے رابطہ نہیں ہوسکا تاہم حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'گوادر میں تشدد اور فائرنگ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے خود کی اور حالات کی تمام ذمہ داری خود انھی پر عائد ہوتی ہے۔‘

گوادر شہر اور ضلع کے دیگر علاقوں میں حق دو تحریک کے رہنماﺅں کے گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا جبکہ گوادر میں تجارتی مراکز بھی بند اور اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی بند رہی۔

پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بارے میں حکومت کا مؤقف

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

گوادر میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی شناخت یاسرسعید کے نام سے کی گئی ہے۔

حکومت بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس سے اہلکار کی گردن پر گولی لگی۔

ترجمان کے مطابق اہلکار کو فوری طور پر جی ڈی اے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

انھوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف پولیس اہلکار کی ہلاکت پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا کہ مظاہرین کی اشتعال انگیزی کا مقصد پُرامن ماحول اور مذاکرات کی فضا کو سبوتاژ کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے بھی پولیس اہلکار کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سپیشل ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے۔

حق دو تحریک کے رہنما مولانا ہدایت الرحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ ’حق دو تحریک ہمیشہ پرامن جدوجہد کی ہے۔ دو ماہ دھرنا پرامن تھا، تمام بڑے جلوس پرامن تھے۔ حکومت مافیا کے سامنے سرنگوں ہو کر تشدد پر اتر آئی ہے‘۔

سماجی رابطوں کی میڈیا پر ایک ویڈیو میں انھوں نے حالات کی خرابی ذمہ داری حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ رات کو پر امن دھرنے پر حملہ کرکے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

Gwadar

،تصویر کا ذریعہBahram Baloch

انھوں نے کہا کہ ہمارے خواتین اوربزرگوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ تشدد کر کے ایک بزرگ خاتون کے ہاتھ کو توڑ دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں حق دوتحریک کے کارکنوں کو لاپتہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی پر امن تھے اور آئندہ بھی پر امن رہیں گے اس لیے وزیر داخلہ بلوچستان کو چاہیے کہ وہ غلط بیانی کرکے قوم کو گمراہ نہ کریں۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں گزشتہ دو ماہ سے’حق دو تحریک’ کا دھرنا جاری ہے۔

مظاہرین صوبے سے ٹرالر مافیا، پینے کے صاف پانی سیمت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ گوادر میں غیر قانونی سمندری شکار پر پابندی اور غیر ضروری چوکیوں کو ختم کرنے سمیت دیگر کئی مطالبات بھی شامل ہیں۔