منطق سے عاری پاکستان ٹیم کی ’سڈنی پارٹی‘

- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام سڈنی
پاکستان کے 43 پر چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے، پریس باکس میں مایوسی تھی اور بات واپسی کی ٹکٹوں کی طرف جاتی نظر آ رہی تھی۔ یہ تین نومبر کی بات ہے اور سڈنی میں اس وقت رات تقریباً پونے آٹھ کا وقت تھا۔ عام طور پر ایسے مواقع پر پریس باکس میں تنقید اور طعنہ زنی کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ جو سازشی نظریات کبھی صرف سوشل میڈیا کی حد تک ہی محدود رہتے ہیں، تحریروں کا حصہ بننے لگتے ہیں۔
ماحول کچھ ایسا ہی بن چکا تھا۔ بابر اعظم کے بلے کی خاموشی ان کی کپتانی پر سوال اٹھانے کے لیے دلیل کے طور پر استعمال ہونے والی تھی اور پاکستان کی ہار کی پیشگوئی کرنے والے سینا چوڑا کر گھوم رہے تھے۔
کرکٹ پر تجزیے، تبصرے اور اعداد و شمار کے ذریعے پیشگوئیاں کرنے والی ویب سائٹ ’کرک وز‘ کے فریڈی وائلڈ نے ٹویٹ کیا کہ ان کے بنائے گئے ماڈل کے مطابق اس موقع پر پاکستان کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات صرف چار فیصد تھے۔
لیکن پھر پاکستان نے وہ کیا جس کے لیے پاکستان جانا جاتا ہے۔ ہر تجزیہ کار، مبصر اور لکھاری کی پیشگوئیاں ایک ایک کر کے غلط ثابت ہوئیں۔
اس چار فیصد امکان کے باوجود نہ صرف پاکستان نے ایک اِن فارم جنوبی افریقہ کو شکست دی بلکہ پھر اس کا مومینٹم ایسا توڑا کہ وہ نیدرلینڈز کے خلاف بھی سنبھل نہیں پائی اور ایڈیلیڈ کے اس معجزے اور بنگلہ دیش کے خلاف فتح کے باعث پاکستان سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
تاہم اب صورتحال بدل چکی تھی، بات ایڈیلیڈ سے سڈنی کی ٹکٹ کروانے کی ہو رہی تھی، 92 ورلڈکپ سے موازنے عروج پر تھے اور یہی ٹیم اب کم از کم اس کے چاہنے والوں کے نزدیک ’ناقابلِ تسخیر‘ ہو چکی تھی۔
اس بات کی کوئی منطق نہیں ہے، اس کیفیت کو سمجھانے کے لیے شاید الفاظ بھی کسی ڈکشنری میں نہ ملیں لیکن بدھ کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں موجود ہر پاکستانی تماشائی اس یقین کے ساتھ یہ میچ دیکھنے جا رہا تھا کہ ’اب یہ ٹیم نہیں رکنے والی۔‘

میچ سے پہلے سڈنی کی ہی ایک خاتون سے جب پوچھا گیا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی تو اچھی ہے تو پاکستان کی جیت کا کتنا امکان ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’نیوزی لینڈ دباؤ میں ہے کیونکہ وہ جیت کر آئی ہے، ہم تو دعاؤں کے ذریعے آئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
48 ہزار کی گنجائش والا قدیم تاریخی سڈنی کرکٹ گراؤنڈ آہستہ آہستہ بھرنے لگا۔ یہاں کھیلے گئے گذشتہ میچ کی طرح یہ میچ بھی ویک ڈے پر کھیلا جا رہا تھا، اس لیے لوگ شام چار بجے کے بعد سے گراؤنڈ کا رخ کرتے دکھائی دیے۔ جب میچ شروع ہونے کو تھا تو اس وقت بھی کئی ہزار ابھی باہر قطاروں میں لگے گراؤنڈ میں آنے کا انتظار کر رہے تھے۔
شاہین آفریدی جو اس ٹورنامنٹ سے پہلے انجری کے باعث ٹیم سے باہر تھے اور ٹورنامنٹ کے آغاز میں ردھم میں نظر نہیں آ رہے تھے اپنے پہلے اوور کی دوسری ہی گیند پر ہاتھ پھیلائے کھڑے تھے۔
اس گیند پر تو فن ایلن کے بلے کی ایج انھیں بچا گئی لیکن اگلی ہی گیند پر وہ ایک بار پھر ایل بی ڈبلیو ہوئے، ایک بار پھر ریویو لیا گیا لیکن اس مرتبہ ناکام رہے۔ شاہین آفریدی اور پہلے اوور میں وکٹ لینے کا تعلق قائم رہا اور پاکستان کے پاس وہ قیمتی چیز پہلے ہی اوور میں آ گئی جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں انتہائی مفید ہوتی ہے، یعنی مومینٹم۔
تاہم اس کے بعد سے اگلے چند اوورز میں گراؤنڈ پر پاکستانی کھلاڑیوں کی انرجی دیکھ کر سابق انگلش کھلاڑی ناصر حسین کا یہ جملہ یاد آ گیا کہ آپ کو بہت جلد یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ میدان میں پاکستان کی کون سی ٹیم کھیلنے آئی ہے اور عموماً اس کا پیمانہ ان کی فیلڈنگ ہوتی ہے۔

پاور پلے کے دوران سرکل میں پاکستانی فیلڈرز ڈائیوز لگا کر یقینی چوکوں کو روکتے دکھائی دیے، اور چھٹے اوور میں شاداب خان کا ڈیوون کانوے کا رن آؤٹ ان کی اس ورلڈ کپ میں بہترین بیٹنگ اور بولنگ کے ساتھ فیلڈنگ میں بھی اضافہ تھا۔
لیکن صرف شاداب ہی نہیں درمیان کے اوورز میں لیگ سائیڈ باؤنڈریز پر کھڑے محمد حارث، شان مسعود اور محمد نواز اس گراؤنڈ پر ایسے بھاگ کر دو رنز کو ایک میں تبدیل کر رہے تھے جیسے انھیں اس گراؤنڈ کے چپے چپے کا علم ہو۔
میچ سے پہلے نیوزی لینڈ کی فیلڈنگ کو پاکستان سے ایک درجہ بہتر قرار دیا جا رہا تھا لیکن پاکستان کی جانب سے جس پھرتی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا، وہ بتانے لائق تھا۔
گراؤنڈ میں پاکستان کی جانب سے بچائے گئے ہر رن پر تالیوں اور نعروں کے ساتھ داد دی جا رہی تھی۔ گراؤنڈ میں موجود ایک کردار ’پاکستانی ہلک‘ نے ہم سے گراؤنڈ سے باہر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پہلے دو میچ ہارنے کے باوجود وہ ہر میچ میں پاکستان کو سپورٹ کرنے آتے رہے کیونکہ انھیں یقین تھا کہ پاکستان کچھ کر دکھائے گا۔‘
اب تک گراؤنڈ میں 36 ہزار سے زیادہ لوگ بیٹھ چکے تھے اور پاکستانی فاسٹ بولرز میں ڈیتھ اوورز میں بہترین بولنگ کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ گراؤنڈ میں تماشائیوں کی جانب سے اب ہر یارکر، سلو بال اور باؤنڈری نہ لگنے پر تماشائی داد دے رہے تھے۔
اور پھر وہ نیوزی لینڈ کا ٹوٹل دیکھ کر اکثر افراد کو پاکستان اور انڈیا کا گذشتہ برس ہونے والا مقابلہ یاد آنے لگا۔ جب انڈیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 152 رنز کا ہدف دیا تھا اور یوں اننگز بریک کے دوران تمام نظریں بابر اور رضوان کی جوڑی پر مرکوز ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیے

ایڈیلیڈ میں ہم سے ملنے والے اکثر پاکستانی مداحوں نے محمد رضوان اور بابر اعظم میں سے کسی ایک کو نمبر تین پر بھیجنے کی بات کی تھی اور محمد حارث سے اوپن کروانے کی تجویز دی تھی۔
بابراعظم کی فارم اس ورلڈ کپ میں موضوعِ بحث رہی ہے اور ان پر اس حوالے سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے لیکن سب یہ بھی جانتے تھے کہ بابر اعظم کس کلاس کے بلے باز ہیں۔
آسٹریلیا آ کر معلوم ہوا کہ ان کی یہاں بھی خاصی مقبولیت ہے اور انھیں پائے کا بلے باز مانا جاتا ہے۔ آپ کے اکثر ایسے دوست جو کرکٹ سے لگاؤ نہیں بھی رکھتے تھے، وہ بھی بابر اعظم کا نام جانتے ہیں۔
سڈنی میں بابر کا کیچ پہلی ہی گیند پر ڈراپ ہوا لیکن پھر ان کی جانب سے لگائے گئے ہر چوکے پر شائقین نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔
میچ سے پہلے ہمیں اکثر تماشائی 92 ورلڈکپ کی شرٹس پہنے دکھائی دیے تھے، اور اکثر کو اس بات پر یقین تھا کہ یہ سب بالکل اسی انداز میں ہو رہا ہے جیسا 30 برس پہلے ہوا تھا۔

ایک تماشائی نے میچ سے پہلے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسے 92 میں میانداد سیمی فائنل میں فارم میں آ گئے تھے ایسے ہی بابر بھی آج فارم میں آئیں گے۔ ان کی اننگز بہت اہم ہے۔‘
اور پھر بابر اور رضوان کی جوڑی کی 100 رنز کی شراکت نے پاکستان کی فتح یقینی بنا دی اور پاور پلے میں ہی پاکستان کو برتری دلوا دی اور یوں پاکستان نے بلاشبہ اس ٹورنامنٹ میں بہترین کرکٹ کھیلنے والی ٹیم کو ناک آؤٹ کر دیا۔
پاکستان کی اس کارکردگی پر بات کرتے ہوئے ایک تماشائی نے میچ کے بعد کہا کہ ’بھائی ملک بھی تو دعاؤں پر ہی چل رہا ہے، تو ٹیم بھی دعاؤں پر چلنی ہے۔ یہ سارے میچ جیتنے لگے تو مزہ تو نہیں آئے گا۔‘ کل سڈنی میں صحیح معنوں میں پاکستان کی پارٹی تھی اور ٹھیک ہفتہ قبل جس ٹیم کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے صرف چار فیصد چانسز تھے، اب وہ میلبرن میں فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی تھی۔ اس کیفیت کے لیے الفاظ ڈھونڈنا یقیناً مشکل ہے۔












