’اگلی بار اصلی مسٹر بین بھیجنا‘، زمبابوے کے صدر کی جیت کے بعد پاکستان کو ’وارننگ‘ اور انڈین صارفین کی خوشی

    • مصنف, تابندہ کوکب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
    • مقام, اسلام آباد

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ہونے والا ورلڈ کپ ٹی ٹوئٹنی کا میچ ایک اپ سیٹ کے ساتھ زمبابوے نے ایک رن سے جیت لیا۔ یہ جیت کھیل کے میدان میں تو زمبابوے کی جیت تھی ہی لیکن سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی زمبابوے کے لیے یہ کامیاب دن رہا کیونکہ انھوں نے برسوں پہلے اپنے ساتھ ہونے والے ’دھوکے کا بدلہ‘ لے لیا تھا۔

میچ میں کامیابی کے بعد زمبابوے کے صدر نے ایک ٹویٹ میں اپنی ٹیم کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی پاکستان سے کہا کہ ’اگلی بار اصلی مسٹر بین بھجوانا۔‘

ان کی اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹویٹ کی کہ ’ہمارے پاس شاید اصلی مسٹر بین تو نہیں لیکن کرکٹ کھیلنے کا اصلی جذبہ ضرور ہے اور ہم پاکستانیوں میں دوبارہ ابھرنے کی ایک دلچسپ عادت ہے۔۔۔‘

شہباز شریف نے مزید لکھا کہ ’صدر صاحب مبارک ہو آپ کی ٹیم بہت اچھا کھیلی۔‘

دراصل مسٹر بین کے حوالے سے بات شروع ہوئی تھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستانی ٹیم کی پریکٹس کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کیے جانے کے بعد جس کے ساتھ کہا گیا کہ ’یہ اگلا چیلنج ہے۔‘

اس ٹویٹ کے جواب میں زمبابوے کے ایک شہری نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’ہم بطور زمبابوے کے شہری آپ کو معاف نہیں کریں گے۔۔۔ ایک بار آپ نے ہمیں مسٹر بین کی جگہ دھوکے باز مسٹر بین دیا تھا۔۔۔ ہم یہ معاملہ کل حل کریں گے۔ دعا کرو کے بارش آپ کو بچا لے۔‘

زمبابوے کی جانب سے میچ جتینے کے بعد اسی ٹوئٹر صارف نے ایک اور ٹویٹ کی کہ ’میں تو پہلے ہی بتا دیا تھا۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ زمبابوے کی پاکستان کے خلاف جیت پر زمبابوے سے زیادہ انڈین سوشل میڈیا صارفین خوش نظر آ رہے ہیں۔

انڈیا میں یہ میچ اور اس سے متعلق میمز ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ انڈین سوشل میڈیا صارفین زمبابوے کو مبارکباد دیتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ وہاں کے شہری بھی اسی جوش و خروش سے سوشل میڈیا پر جشن منائیں۔

اس لیے ایک میم میں انڈین صنعت کار مکیش امبانی کی تصویر کے ساتھ میم بنائی گئی ہے جس پر لکھا ہے ’زمبابوے والوں کو دو دو جی بی کا ڈیٹا مفت بھیجو۔‘

پاکستانی مسٹر بین زمبابوے کب اور کیا کرنے گئے تھے؟

پاکستانی مسٹر بین جو خود کو ’پاک بین‘ کہلواتے ہیں ان کا اصلی نام آصف میمن ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز ان کے سنہ 2016 میں کیے گئے زمبابوے کے دورے کی ہیں۔

میچ سے قبل انھوں نے بتایا تھا کہ وہ سنہ 1990 سے اپنا کاروبار کرتے ہیں تاہم سنہ 2010 میں حبیب بینک نے انھیں اپنا برانڈ ایمبیسیڈر بنایا تو انھیں شہرت ملی۔ جس کے بعد وہ بحیثیت پاکستانی مسٹر بین نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا تھا کہ وہ زمبابوے ایک انڈین تاجر محمد عارف کی دعوت پر گئے تھے۔ انھوں نے بتایا ’مجھے وہاں جانے پر جو پروٹوکول دیا گیا میں خود حیران تھا۔ میرے آگے پیچھے اس قدر گاڑیاں تھیں کہ مجھے لگا شاید میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے۔ لیکن بعد میں دیکھا یہ تو صرف میرے لیے تھا۔ پروٹو کول ایسا تھا جسیے ہمارے ہاں کسی وزیر مشیر کو دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران انھوں نے مختلف شہروں میں دس مقامات پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اور اس دوران تمام بینرز پر واضح الفاظ میں ’پاک بین‘ لکھا گیا تھا جس کا مطلب تھا کہ لوگوں سے بالکل دھوکا نہیں کیا گیا تھا کہ انھیں اصلی مسٹر بین دیکھنے کو ملیں گے۔

آصف میمن کے بقول چھ سال میں پہلی بار انھوں نے اس دورے سے متعلق سوشل میڈیا پر ایسا ردعمل دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو وہ سوشل میڈیا پر کمنٹس دیکھ کر ناراض ہوئے تھے اور پھر انھیں تھوڑا افسوس ہوا۔۔ ان کا کہنا تھا کہ زمبابوے کے لوگ بہت پیار کرنے والے ہیں اور انھیں خود کو دیا گیا گرم جوش استقبال اب بھی یاد ہے۔

محمد آصف یعنی پاک بین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے بعد سے وہ کسی غیر ملکی دورے پر نہیں گئے تاہم وہ کئی ملکوں میں پاکستانی بین کی حیثیت سے پرفارم کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’پہلے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اصلی مسٹر بین آ گئے ہیں لیکن جب میں بولنا شروع کرتا ہوں تو لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔‘

پاکستان کے زمبابوے کے خلاف میچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نقلی مسٹر بین تھا لیکن ہماری کرکٹ ٹیم اصلی ہے اس لیے وہ اچھا کھیل کر میچ ضرور جیتیں گے۔‘ 

سوشل میڈیا پر بحث

 اس موضوع کو لے کر سوشل میڈیا پر اس قدر دلچسپ تبصرے ہونے لگے کہ پاکستان میں مسٹر بین ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔ کچھ شائقین کا کہنا تھا کہ اب یہ میچ پاکستان اور زمبابوے کا نہیں بلکہ زمبابوے بمقابلہ مسٹر بین ہے۔

ایک اور پاکستانی صارف نے لکھا ’مسٹر بین آج آپ جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں، کل ہمارے کھلاڑی کھیلیں گے۔‘

ایمن شہیل نامی صارف نے لکھا ’زمبابوے کے شہریوں سے معذرت، ہم اگلی دفعہ احتیاط کریں گے بطور ہرجانہ اگلی بار شو کرنے کے لیے پروفیسر سرگیؤ ماکوینا کو شو کرنے کے لیے بھیجیں گے۔ بس کل ذرا آرام سے کھیلنا۔‘

کچھ صارفین اور پاکستان میں مختلف سلیبریٹیز جیسے دکھنے والے افراد کی تصاویر شیئر کرنے اور میمز بنانے لگے۔ انھیں میں سے ایک صارف عبدالباسط جنجوعہ کا کہنا تھا ’میں اس کی سختی سے مذمت کرتا ہوں اور ہم کشیدگی ختم کرنے کے لیے تصفیے کے طور پر شاہ رخ خان کو بھیج رہے ہیں۔‘

ٹوئٹر صارفین صورتحال کا لطف لیتے ہوئے استہزائیہ تبصرے کرتے نظر آئے۔ نامعلوم افراد نامی ٹوئٹر ہنڈل نے لکھا ’ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ ہم دفتر خارجہ سے اس بابت فوری معافی اور وضاحت کی توقع کر رہے ہیں۔ ہم کرکٹ میں دشمنیاں نہیں چاہتے۔‘

اذہان مرزا نے اس صورتحال کے پیش نظر آج کے میچ کا نیا بینر بنا ڈالا۔ جس کا عنوان تھا ’دنیا مسٹر بین بمقابلہ پاکستانی بین کے لیے تیار نہیں۔‘

حجاب زاہد نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ’مسٹر بین تنازع کی وجہ سے کل کے میچ کے حوالے سے جوش و خروش صفر سے 100 پر چلا گیا ہے۔ اگر سٹیڈیم میں کوئی مسٹر بین کے حلیے میں نہیں آتا تو وہ موقع ضائع کر دے گا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا ’میں مرتے دم تک پاکستانی کی جانب سے نقلی مسٹر بین زمبابوے جانے کے معاملے کو یاد کر کے ہنستا رہوں گا۔‘