افتخار احمد: کپتان اور مینجمنٹ نے ایک کام دیا ہے کہ وکٹ پر آخر تک رکنا ہے

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پرتھ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین افتخار احمد کے ساتھ عجیب صورتحال ہے۔ پرفارمنس نہ کرنے پر تو تنقید سمجھ میں آتی ہے لیکن پرفارمنس کرنے کے باوجود ناقدین ان پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے

اس تنقید کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں طنزیہ جملے پڑھنے کو عام ملتے ہیں۔

افتخار احمد بھی شاید اس صورتحال کے عادی ہو چکے ہیں اور جب پرتھ میں پاکستانی ٹیم کی پریکٹس کے بعد گفتگو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر آپ کا کیا ردعمل ہوتا ہے تو افتخار احمد نے پرسکون انداز میں کہا ʹمجھے بتائیے کہ آپ کے خیال میں کیا جواب دوں، میرے پاس تو کوئی بھی جواب نہیں ہے۔ میں ہمیشہ تنقید کو مثبت انداز میں لیتا ہوں ʹ۔

یاد رہے کہ افتخار احمد نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پہلے میچ 51 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی تھی جس میں دو چوکے اور چار چھکے شامل تھے جبکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنا دوسرا میچ جمعرات کو زمبابوے کے خلاف پرتھ میں کھیلنے والی ہے۔

مصباح بھائی سے بہت کچھ سیکھا ہے

افتخار احمد کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ وہ مصباح الحق کے انداز میں اپنی اننگز کو آگے بڑھاتے ہیں یعنی پہلے کچھ گیندیں کھیل کر سیٹ ہونا اور پھر بولنگ پر اٹیک کرنا۔

وہ اس بارے میں کہتے ہیں ʹمصباح الحق ہمیشہ سے میرے فیورٹ رہے ہیں۔ انھوں نے میرے ساتھ بہت کام بھی کیا ہے لیکن میں ٹیم میں اپنے کردار کے بارے میں ضرور بتانا چاہوں گا کہ جب ابتدائی وکٹیں جلد گر جاتی ہیں تو مجھے اننگز کو آگے لے کر چلنا پڑتا ہے۔

’یہ کام مجھے میرے کپتان اور ٹیم منیجمنٹ نے دے رکھا ہے کہ وکٹیں گرنے کے بعد آپ نے آخر وقت تک کریز پر رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شروع میں تھوڑا سا وقت لیتا ہوں اور پھر اٹیک کرتا ہوں۔ میری یہی کوشش رہتی ہے کہ میری پرفارمنس پاکستانی ٹیم کے کام آئے چاہے میں ایک گیند کھیلنے کے لیے آؤںʹ۔

انڈیا سے ہارنے پر دل خفا ہے

افتخار احمد بہت صاف گوئی سے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک بڑے میچ میں شکست کے بعد دل خفا ہے۔

وہ کہتے ہیں ʹیہ کہنا غلط ہوگا کہ کچھ نہیں ہوا۔ دراصل ہم بیس، پچیس کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں اسی لیے ہمارا دل بھی دکھی ہے لیکن جس طرح کپتان اور ٹیم منیجمنٹ نے شکست کے بعد تمام کھلاڑیوں کو حوصلہ دیا وہ بہت اہم ہے۔‘

ان کے مطابق ’کپتان بابراعظم کا پیغام واضح تھا کہ یہ ہمارا آخری میچ نہیں تھا۔ تمام کھلاڑیوں نے سخت محنت کی اپنے طور پر کوشش کی اور ہمیں اگلے میچوں کے لیے تیار رہنا چاہیےʹ۔

یہ بھی پڑھیے

ہر میچ نیا ہوتا ہے

افتخار احمد کے لیے پرتھ سٹیڈیم نیا نہیں ہے۔ اسی میدان میں انھوں نے 2019 میں آسٹریلیا کے خلاف چھ چوکوں کی مدد سے 45 رنز بنائے تھے۔ یہ وہ میچ تھا جس میں پاکستانی ٹیم آٹھ وکٹوں پر صرف 106 رنز بنا کر دس وکٹوں سے ہاری تھی اور افتخار احمد اور محمد رضوان ہی دو بیٹسمین ڈبل فگرز میں آ سکے تھے۔

اسی سیریز میں افتخار احمد نے کینبرا میں کھیلے گئے میچ صرف 34 گیندوں پر 62 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی تھی جس میں تین چھکے اور پانچ چوکے شامل تھے۔

افتخار احمد کا کہنا ہے ʹ یقیناً میں نے اس میدان میں اس سے قبل ایک میچ کھیلا ہے لیکن ہر میچ اور ٹیم نئی ہوتی ہے۔میری کوشش ہوگی کہ ٹیم اچھا کھیلے۔

’زمبابوے کو ہم کسی طور پر بھی کمزور نہیں سمجھ سکتے ہمیں اس کے خلاف اسی بھرپور طریقے سے کھیلنا ہوگا جس طرح کسی بڑے ٹیم کے خلاف کھیلتے وقت سوچ ہوتی ہے ʹ۔