پاکستان انڈیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ: قصور محمد نواز کا نہیں تھا، سمیع چوہدری کا کالم

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

کرکٹ میں وننگ کمبینیشن بہت اہمیت کا حامل ہے اور بڑے ایونٹس میں ٹیمیں اسے چھیڑنے سے گریز کرتی ہیں۔ مگر ٹی ٹونٹی کرکٹ میں بعض اوقات یہ کمبینشن الٹے بھی پڑ جاتے ہیں اور گیارہ کھلاڑی اپنے اپنے حصے کی بہترین کاوش کے بعد بھی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔

جیسے ٹی ٹونٹی میں بیٹنگ آرڈر کبھی حتمی نہیں ہو سکتا اور ہمیشہ لچک کا مظاہرہ کرنے والے کپتانوں کے لیے کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، ویسے ہی بہترین ٹیمیں کنڈیشنز کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ایک آدھ تبدیلی کی گنجائش بھی رکھتی ہیں۔

پاکستان نے کئی ایک تجربات کے بعد اپنی بہترین الیون کی شکل نکالی ہے جو مسابقتی سطح کی دشوار گزار کرکٹ سے نبرد آزما ہونے کی پوری پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ کرکٹ میں جب کوئی ٹیم اپنی بہترین الیون دریافت کرے تو پھر تھنک ٹینک بسا اوقات زمینی حقائق کو درخورِ اعتنا نہیں جانتے اور ہمہ قسمی کنڈیشنز میں اپنے ثابت شدہ فارمولے پہ سختی سے کاربند رہتے ہیں۔

مگر میلبرن کی یہ پچ اس امر کی متقاضی تھی کہ بہترین الیون میں سپن کی نسبت پیس کا پلڑا بھاری ہوتا۔ جیسا باؤنس اس وکٹ میں تھا، حق تو یہ تھا کہ پاکستان جیسی ذرخیز پیس بیٹری رکھنے والی ٹیم چار پیسرز کے ساتھ میدان میں اترتی۔

جس پچ پہ ارشدیپ سنگھ اور بھونیشور کمار نئے گیند کے ساتھ ایک معمہ بنے ہوئے تھے، وہاں اگر محمد حسنین بھی حارث رؤف، نسیم شاہ اور شاہین شاہ کے ہمرکاب ہوتے تو بھارتی مڈل آرڈر پہ بھلا کیا گزرتی؟ اور اگر بیچ میں سپنرز کے چھ اوورز سانس لینے کی جگہ نہ دیتے تو کیا کوہلی اور پانڈیا آخر تک ایسے ہی اپنے حواس مجتمع رکھ پاتے؟

روہت شرما کی خوش بختی رہی کہ ٹاس جیت گئے اور پچ کے تازہ ترین باؤنس کا بھرپور استعمال کیا۔ انڈین بولنگ کی پلاننگ بھی عمدہ تھی کہ دونوں پاکستانی اوپنرز پہ بھرپور ریسرچ کا اہتمام کیا اور یقینی بنایا کہ دونوں بلے باز پاور پلے کے بعد پاکستانی اننگز کا حصہ نہ رہیں۔

میلبرن کی پچ پہ جیسی تباہ کن بولنگ انڈین پیسرز نے پاور پلے میں کی، پاکستان بالکل پچھلے قدموں پہ جاتا نظر آیا اور اگر شان مسعود ایک کنارہ نہ سنبھالتے تو حالات نہایت دگرگوں ہو سکتے تھے مگر افتخار نے پچ کے مزاج سے جو موافقت پائی، اس نے شان کا بوجھ بھی خاصا کم کر دیا۔

یہ پچ پیسرز کی جنت تھی اور فرق صرف سپن کے اوورز سے پڑنا تھا۔

شرما نے چار پیسرز استعمال کئے اور پانڈیا جیسے بہترین آل راؤنڈر کی موجودگی سے انھیں یہ سہولت بھی میسر ہے کہ وہ دو سپنرز کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ سو، جونہی سپن کے اوورز مہنگے پڑنے لگے تو وہ فورا پیسرز کو اٹیک میں واپس لائے اور مڈل اوورز میں پاکستانی بیٹنگ کے سبھی پلان ملیا میٹ کر دیے۔

بابر اعظم کو مگر ایسی کوئی سہولت دستیاب نہ تھی۔ مصباح الحق اور وقار یونس کی مینیجمنٹ نے بہت محنت کر کے فہیم اشرف کی شکل میں ایک ایسا فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر تیار کیا تھا جو کسی بھی فارمیٹ میں کنجوسی سے اپنا کوٹہ پورا کر سکتا تھا۔ مگر ثقلین مشتاق کے تھنک ٹینک نے پراسرار وجوہ کے سبب، فہیم اشرف پہ سرمایہ کاری ترک کر دی اور یہ بھی نہ سوچا کہ آسٹریلیا میں چوتھے پیسر کی ضرورت کیونکر پوری کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

بہرحال اس فیصلے کے بعد بھی پاکستان کا بولنگ اٹیک ہر لحاظ سے بہترین رہا ہے اور اس نے مختلف کنڈیشنز میں بے شمار کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ لیکن میلبرن کی کنڈیشنز کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے پاس بھرپور گنجائش تھی کہ شاداب اور نواز کی بیٹنگ صلاحیتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آصف علی اور حیدر علی میں سے کسی ایک کو آرام دے کر چوتھے پیسر کو الیون کا حصہ بنایا جاتا۔

جب سرفراز احمد کو کہیں ایسے گھمسان کا سامنا ہوا کرتا تھا تو ان کے پاس بھرپور سہولت میسر ہوتی تھی کہ اپنے سات بولنگ آپشنز کو گھما پھرا کر اپنے کمزور بولر کا کوٹہ بچا جائیں۔ مگر بابر کو یہاں میلبرن میں ایسی کوئی سہولت میسر نہ تھی کیونکہ وہ اپنے ساتھ پیس کے محض بارہ اوورز ہی لائے تھے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان نے شاندار کرکٹ کھیلی اور ٹاپ آرڈر کے انہدام کے بعد بہترین کاؤنٹر اٹیک کیا۔ جہاں مڈل اوورز میں اچانک وکٹیں لڑکھڑائیں، وہاں لوئر آرڈر کی کاوش کام آئی اور ایک قابلِ قدر مجموعہ تشکیل دیا گیا۔ پاور پلے کی تباہ کن بولنگ اور شاداب کے سپیل نے انڈین اننگز کے دو تہائی حصے تک یہ میچ پاکستان کی جیب میں رکھا۔

مگر پھر بابر اعظم کے بولنگ وسائل آڑے آئے اور وراٹ کوہلی یہ میچ ان کی جیب سے لے اڑے۔