ورلڈ کپ کی تاریخ میں قطر اپنا افتتاحی میچ ہارنے والا پہلا میزبان ملک بن گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شمعون حافظ
- عہدہ, بی بی سی سپورٹس، دوحہ
اتوار کو ورلڈ کپ 2022 کے آغاز پر میزبان ملک قطر اور ایکواڈور کے درمیان ہونے والے پہلے میچ میں ایکواڈور نے قطر کو صفر کے مقابلے میں دو گول سے شکست دی ہے۔
اس طرح اب تک ہونے والے فٹبال کے عالمی مقابلے میں قطر وہ پہلا ملک بن گیا ہے جو میزبان ہو کر بھی اپنا پہلا میچ ہار گیا ہے۔
ایکواڈور کے اینر ویلنشیا نے میچ کے پہلے ہی ہاف میں دو گول کر کے اپنی فتح کو یقینی بنا لیا تھا۔
اس سے قبل 12 سال تک سوالات، تنقید اور افواہوں کا سامنا کرنے کے بعد قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا آغاز اتوار کی شام ہوا۔
پہلی بار ایک اسلامی ملک میں منعقد ہونے والا یہ ٹورنامنٹ ابتدا سے ہی تنازعات میں گھرا رہا تاہم فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی 32 ٹیموں کو فٹ بال پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
افتتاحی تقریب کے بعد ٹورنامنٹ کا آغاز میزبان قطر اور ایکواڈور کے درمیان میچ سے ہوا۔
اس رپورٹ میں اس ٹورنامنٹ سے جڑے چند تناعازت کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ اس بار فٹ بال کا عالمی چیمپیئن کون بن سکتا ہے۔
تنازعات
قطر میں ہونے والا عالمی ٹورنامنٹ شاید تاریخ میں سب سے متنازع کپ ہو گا جس کے بارے میں انعقاد سے قبل ہی بہت سی باتیں ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشرق وسطی کے اس چھوٹے سے ملک نے جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ کے مقابلے میں میزبانی کا حق حاصل کیا تاہم اس پورے عمل کے دوران کرپشن کے کئی الزامات بھی لگے جن کی قطر تردید کرتا ہے۔
فروری 2021 میں برطانوی اخبار گارڈین نے ایک خبر میں کہا کہ فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی ملنے کے بعد سے قطر میں انڈیا، پاکستان، نیپال بنگلہ دیش اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ساڑھے چھ ہزار مزدور مر چکے ہیں۔
یہ تعداد ان اعداد و شمار کی بنیاد پر دی گئی جو قطر میں موجود ان ممالک کے سفارت خانوں نے فراہم کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم قطر کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمارگمراہ کن ہیں کیوںکہ ملک میں ہونے والی تمام اموات ان لوگوں کی نہیں جو ورلڈ کپ سے جڑے منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔
قطر حکومت کے مطابق 2014 سے 2020 کے درمیان ورلڈ کپ سٹیڈیمز کی تعمیر کے دوران 37 اموات ہوئیں جن میں سے صرف تین کام کی وجہ سے تھیں۔
دوسری جانب انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ قطر حکومت کے اعداد و شمار درست نہیں۔
ملک میں اسلامی قوانین کے اطلاق کی وجہ سے بھی خدشات موجود رہے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہم جنس پرست شائقین کے ساتھ قطر میں کیسا برتاؤ کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب اسی معاملے پر کھلاڑیوں پر بھی دباؤ رہا کہ وہ اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں اور اس معاملے پر کھل کر بات کریں۔
انگلینڈ کے کھلاڑی کونور کوڈی نے جمعرات کو دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم سیاستدان نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم کبھی بھی سیاست دان نہیں ہو سکتے لیکن ہماری ٹیم نے گذشتہ چند برس میں بہت کچھ کیا اور لوگوں کی مدد کی۔‘
فیفا کے سابق صدر، سیپ بلیٹر، جن کے دور میں قطر کو فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق دیے گئے، نے گذشتہ ہفتے کہا کہ ’یہ فیصلہ ایک غلطی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم ٹورنامنٹ کے آغاز سے ایک دن قبل فیفا کے موجودہ صدر جیانی انفینٹینو نے مغرب پر قطر میں انسانی حقوق کے معاملے پر رپورٹنگ کے معاملے میں دوغلے پن کا الزام لگایا۔
دوحہ میں ایک غیر معمولی طویل پریس کانفرنس میں انھوں نے ایک گھنٹے تک بات کی اور قطر اور ٹورنامنٹ کا دفاع کیا۔
یہاں درجہ حرات موسم گرما میں 50 ڈگری تک جا پہنچتا ہے اور اسی لیے پہلی بار فٹبال ورلڈ کپ موسم سرما میں ہو رہا ہے تاہم یہاں موسم سرما میں بھی دن کے دوران 32 ڈگری تک درجہ حرات رہتا ہے جو شام میں 22 ڈگری تک نیچے آتا ہے۔
اسی وجہ سے یورپی فٹ بال لیگز کو سیزن کے درمیان میں کھیل روکنا پڑا۔
ایک اور تنازع حال ہی میں شروع ہوا جب ٹورنامنٹ کی انتظامیہ نے صرف دو دن قبل اعلان کیا کہ شائقین فٹ بال سٹیڈیمز کی حدود کے اندر شراب خرید اور پی نہیں سکتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ارجنٹائین میں 1978 کے فٹ بال ورلڈ کپ کے بعد یہ سب سے مختصر ورلڈ کپ ہو گا جو مجموعی طور پر 29 دن میں ختم ہو جائے گا۔
اس کا مطلب ہے کہ گروپ سٹیج کے دوران روزانہ کی بنیاد پر چار میچ کھیلے جائیں گے اور ناک آوٹ مرحلے سے قبل کوئی وقفہ بھی نہیں ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے
شائقین کے لیے یہ کیسا تجربہ ہو گا؟
قطر کی آبادی 30 لاکھ سے کم ہے لیکن فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران دنیا بھر سے 12 لاکھ سے زیادہ شائقین یہاں کا رخ کریں گے۔
گذشتہ ماہ فیفا نے بتایا تھا کہ اب تک 30 لاکھ ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں جن میں سے 37 فیصد ٹکٹ قطر کے رہائیشیوں نے خریدے ہیں۔
دوحہ میں فٹ بال ورلڈ کپ سے قبل جشن کا سماں ہے اور گلیوں میں ان تمام ممالک کے جھنڈے لہرا رہے ہیں جن کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
یہاں پر سٹالز بھی سجائے گئے ہیں جہاں ارجنٹائن کے لیونیل میسی کی شرٹ سب سے زیادہ فروخت ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ لیونیل میسی، جو فٹ بال کی دنیا کا ایک بڑا نام ہیں، پیرس سینٹ جرمین کی ٹیم کے لیے بھی کھیلتے ہیں جو قطر کی ملکیت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر نے انفراسٹرکچر پر اربوں کا سرمایہ لگایا ہے۔ سڑکوں پر مقامی افراد کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک سعودی عرب سے آنے والے بھی نظر آتے ہیں جبکہ سڑکوں پر فیفا کی شٹل بسیں دوڑتی دکھائی دیتی ہیں۔
یہ سوال ابھی باقی ہے کہ یہ نظام ان ہزاروں لاکھوں شائقین کا بوجھ کیسے اٹھائے گا جو دنیا بھر سے یہاں پہنچنے والے ہیں۔
ایک سٹیشن پر موجود اہلکار نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مشکل تو ہو گا۔ چھوٹے سٹاپس پر تو رش نہیں ہو گا لیکن سٹیڈیم کے پاس مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ہر دن چار میچ ہیں تو بہت رش ہو گا۔‘
البدا پارک میں منعقد ہونے والے فین فیسٹیول نے بھی ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل جشن کا سماں پیدا کر دیا جہاں اذان کی آواز کے وقت موسیقی روک دی جاتی ہے۔
ملک میں کھلے عام شراب نوشی پر پابندی ہے تاہم مخصوص علاقوں میں، جن میں فین پارک شامل ہے، اس کی خرید و فروخت کے لیے قوانین میں چھوٹ دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ورلڈ کپ کون جیتے گا؟
برازایل نے 2002 کے بعد سے ورلڈ کپ نہیں جیتا اور وہ یورپ کے باہر سے کپ جیتنے والی آخری ٹیم تھی۔ اوپٹا ماہرین نے اعداد و شمار اور پیشنگوئی کرنے والے ماڈل کا سہارا لیتے ہوئے برازیل کو فیورٹ قرار دیا ہے تاہم ارجنٹائن تیسری بار کپ جیتنے کے لیے دوسری فیورٹ ٹیم ہے۔
یاد رہے کہ ارجنٹائن اس وقت 36 میچز میں لگاتار ناقابل شکست ہے۔ انگلینڈ کی فارم کچھ زیادہ اچھی نہیں۔ وہ گذشتہ چھ میچز میں نہیں جیت سکے۔
بی بی سی کے سپورٹس ماہرین میں سے سات نے برازیل کے حق میں جبکہ تین کے مطابق ارجنٹائن جیتے گا۔ دو نے فرانس اور انگلینڈ کے حق میں صرف ایک نے ووٹ دیا۔
زخمی کھلاڑیوں کی طویل فہرست
ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی ایک بڑا سٹار، فرانس کے کریم بنزیما، زخمی ہو کر باہر ہو گئے۔ سینیگال کے فارورڈ کھلاڑی سیدیو مین بھی گھٹنے میں چوٹ کی وجہ سے قطر میں میدان میں نہیں نظر آئیں گے۔ وہ بائیرن میونخ کے لیے کھیلتے ہوئے صرف 10 دن قبل ہی زخمی ہو گئے تھے۔
بینزیما اور مین کے علاوہ فرانس کے پال پوگبا، جرمنی کے ٹیمو ورنر، انگلینڈ کے ریس جیمز، پرتگال کے ڈیوگو جوٹا اور ارجنٹائن کے لو سیسلو بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہیں۔ مانچسٹر کے ارلنگ ہالانڈ اور لیور پول کے محمد صلاح میدان میں اس لیے نظر نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے ملکوں کی ٹیم کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔













