سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ: کیا متوسط طبقے کو اس میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے؟

شادی بیاہ ہو یا پیسے محفوظ کرنے کا ارداہ، پاکستان میں اکثر خاندان سونا خریدتے دکھائی دیتے ہیں لیکن گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے اسے جہاں عام لوگوں کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے وہیں جو لوگ پیسہ محفوظ کر کے اسے دوگنا کرنے کے خواہش مند ہیں وہ اس میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

ویسے تو عالمی سطح پر ہی سونے میں سرمایہ کاری کے رجحان میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا۔ سٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اور معیشت میں غیر یقینی صورتحال کے خدشات کی وجہ سے، سرمایہ کار بعض اوقات سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھتے ہیں۔

لیکن حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ سونے کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی ہو۔

پاکستان میں سونے کی قیمت رواں ہفتے فی تولہ دو لاکھ 38 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

انڈیا میں مدراس گولڈ اینڈ ڈائمنڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری شانتا کمار کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر میں سونے کی قیمتوں کا تعین لندن بلین مارکیٹ سے کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا میں سونے کے لین دین کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ دنیا میں سونے کی کان کنی کے بڑے کاروباری اور صنعت کار لندن بلین مارکیٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اب اس مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس کا اثر بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں پر نظر آرہا ہے۔‘

بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں اور مادوں کا وزن ٹرائے اونس سسٹم کے تحت کیا جاتا ہے۔ ایک اونس میں 31.1 گرام ہوتے ہیں۔

اس وقت پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 278 سے زائد پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بھی سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے سونے کی قیمتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ عالمی سطح پر درآمدی ڈیوٹی اور جنگی حالات نے بھی سونے کی قیمتوں کو متاثر کیا۔

اس وقت سونے میں سرمایہ کاری کرنا کتنا درست ہے؟

ماہرین امریکی معیشت کے بحران کو بھی سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ مانتے ہیں۔

شانتا کمار کہتے ہیں کہ ’امریکہ میں بے روزگاری کا انڈیکس بہت نیچے چلا گیا۔ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ بھی گر رہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں بھی ترقی کی رفتار نظر نہیں آ رہی۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ اس سب کا اثر معیشت پر پڑ رہا ہے اور اس کا اثر سونے کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔‘

لیکن اگر سونے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو کیا متوسط طبقے کو سونے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے؟

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جب آپ کے پاس پیسہ ہو تو آپ سونا خرید لیں تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر سرمایہ کاری مختصر مدت کے لیے ہے تو پھر سونا خریدنا اچھا فیصلہ نہیں۔

شانتا کمار کہتے ہیں کہ ’لیکن اس وقت شادی یا طویل مدتی کے لیے سونا خریدنا صحیح سرمایہ کاری ہے۔‘

’جب آپ بینک میں رقم جمع کرتے ہیں تو منافع کی شرح کم ہوتی ہے۔ اس لیے بہت سے لوگ سونے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ محفوظ ہے۔ اس کی وجہ سے سونے کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ مارکیٹ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔‘

پاکستان میں اس وقت سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور ایسے حالات میں متوسط طبقے کی سونے میں سرمایہ کاری سے متلعق ماہرین کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس میں سوچ سمجھ کر سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاہم وہ کہتے ہیں کہ سونے کی قیمت میں عالمی حالات کی وجہ سے مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جم اینڈ جیولری کمیٹی کے کنوینر اور سونے کے تجارت سے وابستہ عدنان قادری کہتے ہیں کہ اگر سونے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو متوسط طبقے کو سونے میں سرمایہ کاری کرنا فکرمندانہ ہو سکتی ہے۔

سونے کے شعبے کے ماہر احسن الیاس نے اس سلسلے میں صحافی تنویرملک کو بتایا کہ اس وقت سونے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے لیکن یہ سرمایہ کاری سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا یہ سرمایہ کاری طویل مدتی بنیادوں پر ہونی چاہیے تو اس کو اچھا ریٹرن حاصل ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا جو پیسے قلیل مدت کے لیے سونے کی خریداری پر لگائے جاتے ہیں وہ سرمایہ کاری نہیں ہوتی بلکہ یہ سٹہ ہوتا ہے جس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستانی معیشت اس وقت عدم استحکام کا شکار ہے اور اس وقت ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کرنا ایک بڑا چلینج ہے۔

پاکستانی معیشت کے موجودہ حالات میں سونے میں سرمایہ کاری کے بارے میں احسن محنتی نے کہا تین چار سال میں پاکستانی روپے کی قدر میں جو کمی ہوئی، اس کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ اس دوران سونے میں سرمایہ کاری پر 30 فیصد اضافہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ سونے میں سرمایہ کاری نے مہنگائی کی شرح میں اضافے کے منفی اثرات کو زائل کیا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے بہت سے خطوں میں جنگی حالات بن چکے ہیں اور ایسی صورت میں سونے کی سرمایہ کاری زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس وقت سونا بیچنا کتنا درست ہے؟

انڈیا میں سرمایہ کاری کے مشیر ستیش کمار بھی امریکی معیشت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مانتے ہیں۔

ستیش کمار کا کہنا ہے کہ ’جنوری میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں افراط زر کی شرح 3.1 فیصد ہے جو امریکی فیڈرل ریزرو کے 2 فیصد کے ہدف سے بہت زیادہ ہے۔ یہ بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔‘

لیکن قیمتیں بڑھنے کے باوجود لوگ سونے میں سرمایہ کاری کرنے کو کیوں تیار ہیں؟

ستیش کمار کہتے ہیں، ’لوگ ایک محفوظ سرمایہ کاری کے آپشن کی تلاش میں ہیں۔ تاریخی طور پر سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ انڈیا سمیت ایشیائی ممالک میں سونے کو سرمائے کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن دیگر ممالک میں سونے کو سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘

کیا قیمتیں بڑھنے پر سونا بیچنا درست ہے؟

اگر سونے کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو بہت سے لوگ اپنا سونا بیچنے کا سوچ سکتے ہیں تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

اس بارے میں احسن الیاس نے کہا کہ اس وقت سونے کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مڈل کلاس کی ایک سوچ ہوتی ہے کہ جب سونے کی قیمت بڑھتی ہے تو اس وقت سونے کی خریداری کرتی ہے اور جب سونے کی قیمت گرتی ہے تو اسے جلدی میں فروخت کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ مائنڈ سیٹ صحیح نہیں بلکہ مناسب یہی ہے کہ جب سونے کی قیمت میں کمی ہو تو اس وقت اس میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔‘

عدنان قادری نے اس سلسلے میں کہا کہ ’قیمتوں میں اضافہ ہونے پر سونا بیچنا درست ہو سکتا ہے مگر مناسب وقت پر فیصلہ کرنا ضروری ہے۔

ستیش کمار کہتے ہیں کہ ’جہاں تک سٹاک مارکیٹ کا تعلق ہے، ہم حصص اس وقت فروخت کر سکتے ہیں جب ان کی قیمتیں زیادہ ہوں لیکن سونے کو اس طرح نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ آپ کو کچھ وقت انتظار کرنا چاہیے، ایسا کرنا ہی عقل مندی ہے۔‘

کیا سونے کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہے گا؟

اگر ہم گذشتہ 20 سال پر نظر ڈالیں تو سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بازار میں سونے کی مانگ میں اضافہ ہوا۔

امریکی فیڈرل ریزرو نے کہا ہے کہ وہ شرح سود میں اضافہ کرے گا۔

ستیش کمار کا کہنا ہے کہ ’فیڈرل ریزرو کے سود کی شرح سے متعلق فیصلے کا جون میں انتظار ہے۔ یہ امریکہ میں انتخابات کا وقت ہے۔ امریکی انتخابات کے نتائج پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کا اثر ہو گا۔ سونے کی قیمت پر اثر پڑتا ہے۔ اگر مہنگائی بڑھی تو سونے کی قیمت مزید بڑھے گی۔‘

بین الاقوامی مالیاتی فرم جے پی مورگن کے اندازوں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سنہ 2025 تک سونے کی قیمت میں اضافہ جاری رہے گا۔

پاکستان میں سونے کی سالانہ ڈیمانڈ

پاکستان میں سونے کی خرید و فروخت سے متعلق کوئی مرکزی نظام نہیں جس کی بنیاد پر اس کی سالانہ خرید و فروخت کے اعداد و شمار جمع کیے جا سکیں تاہم سونے کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں سونے کی سالانہ ڈیمانڈ چار ٹن سالانہ کے لگ بھگ ہے۔

سونے اور دوسری دھاتوں کے شعبے کے ماہر عارف حبیب کارپوریشن سے وابستہ احسن محنتی نے اس سلسلے میں بتایا کہ سالانہ چار ٹن کی جو ڈیمانڈ ہے اس میں سونے کی تجارت سے لے کر شادی بیاہ کے لیے سونے کی خریداری شامل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ چار ٹن تقریباً سالانہ چار ارب ڈالر کی ڈیمانڈ بنتی ہے۔

پاکستان میں سونے کی درآمد کے سلسلے میں انھوں نے کہا کہ سونا درآمد کرنے کے لیے مرکزی بینک کی شرائط اور دوسری ریگولیٹری ضروریات سخت ہیں اور اس لیے اس آفیشل چینل سے سونا کم آتا ہے اور لوگ دوسرے ذرائع سے اسے لاتے ہیں۔

ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں 262 کلوگرام سونا درآمد کیا گیا۔

احسن محنتی نے کہا یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں جس میں سونا کم آتا ہے لیکن پاکستان انڈیا سرحد، پاکستان ایران سرحد سے یہ سونا دوسرے ذرائع سے ملک میں لایا جاتا ہے۔