دنیا کا نایاب ترین بلڈ گروپ ’گولڈ بلڈ‘ کیا ہے؟

کسی بھی حادثے یا بیماری کی حالت میں خون کی منتقلی نے جدید دور کی طب کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
اگر کبھی کسی آپریشن یا حادثے کے بعد مریض کو خون کی ضرورت ہو تو خون کے عطیہ کی مدد سے اُس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
لیکن ہر ایک خون کی منتقلی نہیں کی جا سکتی ہے۔ دنیا میں کئی افراد ایسے ہیں جن کا بلڈ گروپ نایاب ہے اور بلڈ بینک کے ذریعے ملنے والا خون کا عطیہ اُن کے بلڈ گروپ سے میچ نہیں کرتا۔
ایسے ہی ایک نایاب بلڈ گروپ آر ایچ نل (RH Null) ہے۔ دنیا میں صرف 50 افراد ہی ایسے ہیں جن کا یہ بلڈ گروپ ہے۔ کسی حادثے یا بیماری کی صورت ان افراد کو خون ملنا کا امکان نہ ملنے کے برابر ہے۔ اسی لیے آر ایچ نل بلڈ گروپ والے افراد کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے خون کی بوتل محفوظ کر کے رکھیں۔
لیکن نایاب ہونے کے ساتھ ساتھ یہ خون مختلف وجوہات کے سبب بہت قیمتی ہے۔ ریسرچ اور طبی کمیونٹی عموماً اسے گولڈ بلڈ کہتی ہے۔
اس بلڈ گروپ کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ عالمی سطح پر خون منتقل کرنے میں بھی مدد کر سکتا ہے کیونکہ سائنسدان مدافعت کے مسائل پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقے تلاش کر رہے ہیں جو عطیہ کردہ خون کے استعمال کو محدود کرتا ہے۔

ہمارے جسم میں گردش کرنے والے خون کی تفریق خون کے سرخ خلیوں میں موجود کچھ اہم مارکرز (چیزوں) کی موجودگی یا غیر موجودگی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
ان مارکز کو اینٹی جنز کہتے ہیں جو پروٹین یا شوگر پر مشتمل ہوتے اوریہ خلیے کی بیرونی سے سطح سے چپکے ہوتے ہیں جسم کا مدافعتی نظام ان کو تلاش کر لیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یونیورسٹی آف برسٹل میں سیل بائیولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ایش ٹوئے کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کو کوئی ایسا خون لگایا گیا ہے جس کے اینٹی جنز آپ کے اپنے خون کے اینٹی جنز سے مختلف ہو تو جسم ان کا مقابلے کرنے کے لیے اینٹی باڈیز بناتا ہے اور اگر آپ کو دوبار خون لگایا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔‘
سب سے زیادہ مدافعتی ردعمل دینے والے دو بلڈ گروپ سسٹم ہیں جنھیں اے، بی، او اور Rhesus (Rh) ہیں۔
اے بلڈ گروپ والے شخص کے ریڈ بلڈ سیل میں اے اینٹیجن اور بی بلڈ گروپ والے کے خون میں بی اینٹیجن ہوتے ہیں جبکہ اے بی بلڈ گروپ والے افراد میں اے اوربی دونوں اینٹیجنز ہوتے ہیں او بلڈ گروپ والے افراد میں کوئی اینٹیجن نہیں ہوتا ہے۔ ہر بلڈ گروپ آر آیچ پازیٹو یا آر آیچ نیگیٹو ہوتا ہے۔
عمومی طور پر او بلڈ گروپ والے افراد کو یونیورسل ڈونر کہا جاتا ہے کیونکہ اُن کے خون میں اے, بی یا آر آیچ اینٹیجنز نہیں ہوتے ہیں۔
لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ اس وقت ہمیں تقریباً 47 مختلف بلڈ گروپس اور 366 اینٹیجنز کے بارے میں پتہ ہے۔
اس کے مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو او نیگیٹو بلڈ لگایا جائے تب بھی کسی دوسرے اینٹی جن کی وجہ سے مدافعتی ردعمل ہو سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ 50 سے زائد آر آیچ اینٹیجنز ہوتے ہیں اور جب آر آیچ نیگیٹو کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آر آیچ ڈی اینٹیجن لیکن اُن کے خون کے سرخ خلیوں میں کوئی دوسری آر ایچ پروٹین ہوتی ہیں۔
دنیا بھر میں آر ایچ اینٹیجز کی بہت سی اقسام ہیں اور انھیں میچ کرنے والا ڈونر تلاش کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔

ایسے افراد جن کا بلڈ گروپ آر ایچ نل ہوتا ہے ان میں تمام 50 آر ایچ اینٹیجنز نہیں ہوتے ہیں لیکن یہ افراد کوئی اور خون نہیں لگا سکتے ہیں۔
آر ایچ نل بلڈ گروپ تمام آر ایچ بلڈ والوں کو لگایا جا سکتا ہے۔
یہ او ٹائپ آر ایچ نل خون کو انتہائی قیمتی بناتا ہے کیونکہ کئی افراد یہ خون استعمال کر سکتے ہیں۔
ہنگامی حالات میں جب مریض کا بلڈ گروپ معلوم نہ ہو او ٹائپ آر ایچ نل بلڈ لگایا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں ری ایکشن ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ سے سائنسدان اس ’گولڈن بلڈ‘ کی نقل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر ٹوئے کا کہنا ہے کہ ’مدافعتی نظام آر ایچ اینٹیجنز کی وجہ سے ردعمل ظاہر کرتا ہے اوراگر خون میں کوئی بھی اینٹیجن نہ ہو تو یہ ری ایکشن نہیں ہوتا ہے۔ اگر یہ او ٹائپ آر ایچ نل تو یہ کافی حد تک یونیورسل ہے۔‘
2018 میں ڈاکٹر ٹوئے اور اُن کی ٹیم نے لیبارٹری میں آر ایچ نل خون کو دوبارہ بنایا۔
انھوں نے خون کے سرخ خلیوں کی مدد سے لیبارٹری میں خلیے کی پیدا کیے۔ ٹیم نے چین ایڈیٹنگ تکنیک استعمال کرتے ہوئے پانچ مختلف بلڈ گروپس اینٹیجنز کو ختم کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خون کے خلیے تمام بڑے بلڈ گروپس کے لیے مطابقت پذیر ہو گئے۔ جیسے آر ایچ نل اور Bombay phenotype بلڈ گروپ جو 40 لاکھ افراد میں سے کسی ایک کا ہوتا ہے۔
ان نایاب بلڈ گروپ والے افراد کو او، اے، بی یا اے بی خون نہیں دیا جا سکتا ہے۔
تاہم دنیا کے کئی ممالک میں جین ایڈیٹنگ کی تکنیک متنازع اور ریگولیٹیڈ ہے اور اس لحاظ سے انتہائی مطابقت پذیر اس خون کی طبی مقاصد کے لیے دستیابی میں کچھ وقت لگے گا۔ اسے کلینیکل ٹرائلز اور مزید ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزرنا ہو گا۔
ڈاکٹر ٹوئے نے ایک کمپنی سکارلیٹ تھیرسپیوٹکس کی بنیاد رکھی ہے جو آر ایچ نل سمیت نایاب بلڈ گروپس کے حامل افراد کے خون کے عطیات جمع کر رہی ہے۔ اُن کی ٹیم کو امید ہے کہ اس خون کو سیل لائنز بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا جسے لیبارٹری میں بنایا جا سکتا ہے تاکہ خون کے سرخ خلیے غیر معینہ مدت تک تیار کیے جا سکیں۔ اس کے بعد لیبارٹری سے تیار کردہ خون کو ہنگامی حالات کے لیے ذخیرہ کرنے کے لیے منجمد کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ٹوئے پراُمید ہیں کہ وہ بغیر جین ایڈیٹنگ کیے نایاب بلڈ گروپس کا بلڈ بینک بنائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم یہ ایڈیٹنگ کیے بغیر کر سکتے ہیں، تو بہت اچھا، لیکن ایڈیٹنگ بھی ایک آپشن ہے۔ ہم احتیاط سے عطیہ دہندگان کا انتخاب کر رہے ہیں تاکہ ان کے تمام اینٹیجنز کو زیادہ تر لوگوں کے لیے ممکنہ حد تک ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

2021 میں، امیونولوجسٹ گریگوری ڈینومے اور ورسیٹی بلڈ ریسرچ انسٹیٹوٹ ملواکی سے وابستہ سائنسدانوں نے جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے انسانی سٹیم سیل سے آر ایچ نل سمیت نایاب بلڈ گروپس بنائے۔
ان اسٹیم سیلز میں ایمبریونک سٹیم سیلز جیسی خصوصیات ہوتی ہیں اوریہ مناسب حالات کے پیش نظر انسانی جسم میں کوئی بھی سیل بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسرے سائنسدانوں نے ایک اور قسم کے سٹیم سیلز استعمال کیے جو پہلے سے ہی خون کے خلیات بنانے کے لیے پروگرام کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک اس بات کا تعین نہیں کیا گیا ہے کہ سیلز کی کون سی قسم ہے۔
مثال کے طور پر کیوبیک، کینیڈا میں لاول یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حال ہی میں اے پازیٹو خون کے عطیہ سے اسٹیم سیلز نکالے۔ اس کے بعد انھوں نے جین ایڈینٹگ ٹیکنالوجی Crispr-Cas9 استعمال کی تاکہ اسے اور آر ایچ اینٹیجنز کی جین ڈنگ کو حذف کیا جا سکے، جس سے یہ او ٹائپ آر ایچ نل سرخ خون کے خلیات پیدا ہوتے ہیں۔
بارسلونا، اسپین میں محققین نے بھی حال ہی میں ایک آر ایچ نل خون کے عطیہ دہندہ سے سٹیم سیلز لیے، اور Crispr-Cas9 کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خون کو ٹائپ اے سے ٹائپ او میں تبدیل کیا۔
تمام تحقیق کے باوجود لیبارٹری میں تیار کردہ مصنوعی خون کو اس پیمانے پر بنانا کہ لوگ اسے استعمال کر سکیں، ابھی بہت دور ہے۔ اس میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سٹیم سیلز بھی میچور ریڈ بلڈ سیلز میں نمو پاتے ہیں۔
جسم میں، خون کے سرخ خلیے ریڈ بلڈ سیلز بون میرو کے اسٹیم سیلز سے تیار ہوتے ہیں، جو ان کی نشوونما کے طریقہ کار کی رہنمائی کے لیے پیچیدہ سگنلز پیدا کرتے ہیں۔ لیبارٹری میں اس کی نقل تیار کرنا مشکل ہے۔
فی الوقت ڈاکٹر ٹوئے ری سٹور ٹرائل کی قیادت کر رہے ہیں، یہ دنیا کا پہلا کلینیکل ٹرائل ہے جو لیبارٹری میں عطیے کئے گئے سٹیم سیلز کو صحت مند رضاکاروں پر جانچ رہا ہے لیکن انسانوں میں اس کے استعمال کے لیے مزید دس تک کا عرصہ درکار ہے۔
ٹوئے کا کہنا ہے کہ ’اس وقت، کسی کے بازو سے خون نکالنا بہت عام سی بات ہے لیکن ہمیں مستقبل قریب میں خون عطیہ کرنے والوں کی ضرورت ہوگی۔‘











