ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’پورن سٹار کو پیسے دینے‘ کے مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ، آنے والے دنوں میں گرفتاری کا امکان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل ایک پورن سٹار کو مبینہ طور پر خاموش رہنے کے لیے رقم ادا کرنے کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
فردِ جرم کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں ہیں۔
سابق صدر پر الزام ہے کہ افیئر کے متعلق سٹورمی ڈینیئلز نامی پورن سٹار کی خاموشی خریدنے کی کوشش میں مبینہ طور پر ان کے وکیل نے انتخابات سے ایک ماہ قبل انھیں ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے۔
ڈینیئلز نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں نے ہوٹل کے کمرے میں سیکس کیا تھا، ٹرمپ اس کی ’سختی سے تردید‘ کرتے ہیں۔
مارچ 2018 میں نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو میں ڈینیئلز نے بتایا تھا کہ انھیں اس افیئر کے بارے میں بات نہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
ایک گرینڈ جیوری نے سابق صدر پر ان الزامات کی تحقیقات کے بعد ان پر فرد جرم عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
ان کی وکیل سوسن نیکلس نے جمعرات کی شام ایک بیان میں فرد جرم کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ نے کوئی جرم نہیں کیا، انھیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہم عدالت میں بھرپور طریقے سے اس کا مقابلہ کریں گے۔‘
یاد رہے ٹرمپ الزامات کا سامنا کرنے والے پہلے سابق امریکی صدر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق صدر فلوریڈا میں رہائش پذیر ہیں اور توقع ہے کہ وہ اپنی باقاعدہ گرفتاری اور عدالت میں پہلی سماعت کے لیے نیویارک شہر جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سابق صدر کی انگلیوں کے نشانات ریکارڈ کروانے اور ان کا مگ شاٹ لینے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریپبلکنز کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے لیے نامزد کردہ تمام اور ممکنہ دعویداروں میں ٹرمپ اس وقت واضح طور پر سب سے آگے ہیں۔
ان سے کئی دیگر معاملات میں بھی تفتیش جاری ہے۔
دیگر تحقیقات میں جنوری 2021 کو یو ایس کیپیٹل ہنگامے میں ان کے کردار کی تحقیقات، ریاست جارجیا میں 2020 کے انتخابات میں اپنی ہار کو جیت میں بدلنے کی کوششیں اور عہدہ چھوڑنے کے بعد خفیہ دستاویزات کو انھوں نے کس طرح سنبھالا، یہ سب شامل ہیں۔
امریکی قانون کسی بھی امیدوار کو اس بنیاد پر مہم چلانے یا صدر بننے سے نہیں روکتا جس پر کوئی جرم ثابت ہوا یا چاہے وہ جیل میں ہی کیوں نہ ہو۔
تاہم صدر ٹرمپ کی گرفتاری ان کی صدارتی مہم کو پیچیدہ ضرور بنا دے گی۔
ادھر سابق پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز نے ٹوئٹر پر مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’آپ سب کی حمایت اور محبت کا شکریہ۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’مجھے اتنے پیغامات موصول ہو رہے ہیں کہ میں سب کا جواب نہیں دے سکتی۔‘
ان کے مطابق لوگ ان سے آٹوگراف کی درخواست بھی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سٹورمی ڈینیئلز کو چپ رہنے کے لیے رقم ادا کرنے کی وجہ سے فرد جرم عائد کی جا رہی ہے۔ اس ادائیگی کا مقصد تھا کہ سٹورمی ڈینیئلز ٹرمپ سے اپنے تعلق پر خاموش رہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے رقم کی ادائیگی تو قانونی تھی تاہم ٹرمپ نے اس ادائیگی کو کاروباری اخراجات کے طور پر پیش کیا اور نیو یارک میں کاروباری ریکارڈ میں غلط بیانی ایک جرم ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سٹورمی ڈینیئلز کون ہیں؟
ڈینیئلز کا اصل نام سٹیفنی کلفرڈ ہے اور وہ سنہ 1979 میں لوزیانا میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ پورن انڈسٹری میں پہلے بطور پرفارمر آئی تھیں جس کے بعد سنہ 2004 میں انھوں نے ہدایت کاری اور لکھنا بھی شروع کیا تھا۔
ان کا فرضی نام دراصل میوزک بینڈ موٹلے کرو کے بیسسٹ نکی سکس کی بیٹی سٹورم اور امریکی میں مقبول شراب جیک ڈینیئلز سے لیا گیا ہے۔ یہ شراب ’جنوبی امریکہ میں خاصی مقبول ہے‘ اور خود بھی جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے کے باعث کلفرڈ نے یہ نام چنا۔
آپ کو شاید ’40 ایئر اولڈ ورجن‘ اور ’ناکڈ اپ‘ جیسی فلموں اور مرون فائیو کے گانے ویک اپ کال کی میوزک ویڈیو میں ان کا کردار یاد ہو گا۔
انھوں نے لوزیانا سے امریکی سینیٹ کے لیے بطور امیدوار الیکشن لڑنے کے بارے میں سوچا تھا تاہم ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے نزدیک کوئی بھی سنجیدگی سے ان کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈینیئلز بتاتی ہیں کے ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلی ملاقات جولائی 2006 میں ایک فلاحی مقصد کے لیے منعقدہ گالف ٹورنامنٹ میں ہوئی۔ یہ ٹورنامنٹ لیک ٹاہا کے قریب ایک گالف کورس پر منعقد ہوا جو کیلی فورنیا اور نیواڈا کے درمیان واقع ہے۔
ان ٹچ ویکلی کو دیے گئے سنہ 2011 کے انٹرویو میں جس کی مکمل شکل جنوری 2018 میں نشر کیا گیا ڈینیئلز بتاتی ہیں کہ ٹرمپ نے انھیں رات کے کھانے پر بلایا اور پھر وہ ان کے ہوٹل کے کمرے میں گئیں۔
انھوں نے انٹرویو میں بتایا کہ ’وہ اپنے صوفے پر نیم دراز تھے اور ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے پجامہ پینٹس پہن رکھی تھیں۔‘
ڈینیئلز کا دعویٰ ہے کہ دونوں نے اس ہوٹل کے کمرے میں سیکس کیا۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں جو مارچ 2018 میں نشر ہوا، اس میں ڈینیئلز نے بتایا کہ انھیں اس افیئر کے بارے میں بات نہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
جنوری سنہ 2018 میں امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اس وقت کے وکیل مائیکل کوہن نے ڈینیئلز کو اکتوبر 2016 میں صدارتی انتخاب سے ایک ماہ قبل ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی رقم دی تھی۔ یہ انتخاب صدر ٹرمپ جیت گئے تھے۔ تحریر کے مطابق ایسا ڈینیئلز کی جانب سے مبینہ طور پر نیشنل انکوائرر کو افیئر کی کہانی بیچنے کی کوشش کے بعد کیا گیا تھا۔
امریکہ کے اعتماد کو چوٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کے واشنگٹن نامہ نگار گیری او ڈونوغے لکھتے ہیں کہ ٹرمپ پر فرد جرم عائد ہونے کا فیصلہ صرف ان کے اور ری پبلکن جماعت کے لیے ہی ایک اہم لمحہ نہیں بلکہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے کیوں کہ پہلی بار کسی صدر پر فرد جرم عائد ہونے جا رہی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ اگر ایک انداز سے دیکھا جائے تو کسی سربراہ مملکت پر فرد جرم عائد ہونا اور اس کے جیل جانے کا امکان کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیوں کہ دنیا بھر میں ایسا ہوتا رہا ہے۔
تاہم وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ خود کو اس ضمرے میں سب سے الگ سمجھتا رہا ہے کیوں کہ واشنگٹن دنیا کے لیے اخلاقی اور جمہوری شمع کی طرح کا کردار ادا کرتا رہا۔
اسی لیے، گیری کے مطابق، یہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کا مسئلہ نہیں بلکہ امریکی اعتماد پر ایک ضرب ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ میں جمہوریت کے مرکز، کیپیٹل ہل، پر 2021 میں ہم پہلے ہی ایک پر تشدد ہجوم کی جانب سے حملہ ہوتا ہوا دیکھ چکے ہیں اور ملک بری طرح تقسیم کا شکار ہے۔
’ایک ایسے وقت میں جب چین عالمی سطح پر اپنے سفارتی اثر و رسوخ کی مہر ثبت کر رہا ہے اور روس یوکرین پر حملہ آور ہے، یہ واضح ہے کہ مختلف محاذوں پر ایسے متعدد چیلنجز اٹھ چکے ہیں جو دنیا میں امریکہ کی پوزیشن کے لیے خطرہ ہیں۔‘
’مورخ 20ویں صدی کو امریکہ کی صدی کہتے ہیں لیکن کیا اس صدی کے لیے بھی ایسا کہیں گے؟‘









