کانگریس کے ’بجرنگ دل‘ پر پابندی کے وعدے پر مودی ناراض: آخر اس ہندو تنظیم پر الزامات کیا ہیں؟

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں رواں ماہ کی دس تاریخ کو اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں اور کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں بجرنگ دل اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) جیسی جماعتوں پر پابندی کا وعدہ کیا ہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت سخت گیر ہندو تنظیموں نے بجرنگ دل کے ذکر پر کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

گذشتہ روز کرناٹک میں وزیر اعظم مودی نے ایک ریلی میں کہا کہ آج جب میں یہاں ہنومان جی کی مقدس سرزمین پر آیا ہوں تو میرے لیے اس مقدس سرزمین پر سر جھکانا بڑے اعزاز کی بات ہے لیکن بدقسمتی دیکھیں اسی وقت کانگریس پارٹی نے اپنے منشور میں بجرنگ بلی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

اس کے جواب میں کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھگوان بجرنگ بلی کا بجرنگ دل سے موازنہ کرنے پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا اور کہا کہ انھیں اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات سے پہلے آنے والے سروے اس بات کی جانب اشارہ کر رہے تھے کہ حکمراں جماعت بی جے پی مشکلات سے دوچار ہے اور وہاں کانگریس کے حکومت میں آنے کی امید ہے اور شاید اسی لیے بی جے پی اب اس بات کو کانگریس کے ہندو مخالف ہونے کے طور پر بیان کر رہی ہے، جس کا اثر شاید انتخابات میں نظر آئے گا۔

اس انتخابی نوک جھونک کے درمیان سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندو تنظیم بجرنگ دل پر کیا الزامات ہیں اور اس پر پابندی کی بات کیوں کی جاتی ہے؟

بجرنگ دل کیا ہے؟

بجرنگ دل سخت گیر ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کا یوتھ ونگ ہے۔ ہندو اپنے ایک بھگوان ہنومان کو ’بجرنگ بلی‘ بھی کہتے ہیں اور چونکہ ہنومان ہندوؤں کے بھگوان شری رام کی راون کے خلاف لڑائی میں ساتھ تھے اس لیے انھیں ان کے طاقتور حامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

وی ایچ پی کی ویب سائٹ کے مطابق بجرنگ دل کا قیام آٹھ اکتوبر سنہ 1984 کو ایودھیا میں عمل میں آيا تھا۔

ویب سائٹ کے مطابق ’ہنومان ہمیشہ شری رام کے کام کے لیے موجود رہے۔ اسی طرح آج کے دور میں بجرنگیوں کا یہ گروپ شری رام کے کام کے لیے ’بجرنگ دل‘ کی شکل میں کام کرے گا۔‘

اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے مزید لکھا گیا ہے کہ ’بجرنگ دل تنظیم کا قیام کسی کے خلاف نہیں بلکہ ہندوؤں کو سماج دشمن عناصر سے بچانے کے لیے ہے۔ اس وقت صرف مقامی نوجوانوں کو ہی ذمہ داری دی گئی تھی جو شری رام جنم بھومی تحریک کے کام میں سرگرم رہ سکیں۔ ملک کے نوجوان قوم اور مذہب کے کام کے لیے بے تاب تھے، یعنی انتظار میں تھے، موقع ملتے ہی پورے ملک میں حب الوطنی کا جذبہ بجرنگ دل کی شکل میں نمودار ہوا۔‘

اس تنظیم کو اس کے سخت گیر اور ’مسلم اور مسیحی مخالف‘ نظریات کے لیے ابتدا سے ہی سخت تنقید کا سامنا ہے۔

’دشمن‘ سے نمٹنے کا تربیتی پروگرام

یہ تنظیم بابری مسجد کے انہدام میں اپنے کردار کی وجہ سے بھی سرخیوں میں آئی تھی۔ یہ ملک بھر میں تقریبا ڈھائی ہزار اکھاڑے چلاتی ہے اور اس میں نوجوانوں کو لاٹھی، تلوار اور بندوقیں چلانا سکھائی جاتی ہیں۔

ہمارے نمائندے نتن سریواستو نے سنہ 2016 میں ایسے کیمپوں کا دورہ کیا تھا جس میں انھوں نے سینکڑوں نوجوانوں کو ’دشمن‘ سے نمٹنے کا تربیتی پروگرام دیکھا تھا۔

اس وقت وی ایچ پی کے سینیئر رہنما امبریش سنگھ نے کہا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہندو کسی بھی موقع کے لیے تیار رہیں۔ سرحد پر واقعی خطرہ بہت زیادہ ہے لیکن ملک کے اندر بھی کوئی کم خطرہ نہیں۔‘

ایک ہفتے تک چلنے والے اسی طرح کے چھ کیمپ ریاست اتر پردیش کے مختلف شہروں میں منعقد کیے گئے تھے جن میں سے ایک دارالحکومت دہلی سے متصل نوئیڈا میں تھا۔

ہر کیمپ میں سینکڑوں نوجوانوں کو تربیت دینے کے لیے زعفرانی رنگ کے لباس میں ٹیم تھی جس کا دعویٰ تھا کہ یہ جسمانی مشق ’دشمن‘ سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

اگرچہ وہ دشمن کا نام بتانے یا ان کی وضاحت کرنے سے گریز کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے ’جو بھی ہندوؤں کو دباتا ہے، وہ دشمن ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

سرکاری کانفرنس میں بھی بجرنگ دل کی جانب اشارہ

رواں سال جنوری کے آخر میں دہلی میں منعقدہ آل انڈیا ڈائریکٹر جنرل اور انسپیکٹر جنرل آف پولیس کی کانفرنس میں کچھ پولیس افسران نے ملک میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی میں اسلامی تنظیموں کے ساتھ ساتھ ہندو تنظیموں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی تھی۔

انڈین ایکسپریس میں شائع خبر کے مطابق یہ معلومات میٹنگ میں شریک عہدیداروں کی طرف سے دی گئی دستاویزات میں تھی جو کچھ عرصے تک کانفرنس کی ویب سائٹ پر موجود تھیں لیکن بعد میں انھیں ہٹا دیا گیا۔

20 سے 22 جنوری تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں پی وزیراعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی شرکت کی تھی۔ ان دستاویزات میں سے ایک میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی تنظیموں کو بنیاد پرست تنظیمیں قرار دیا گیا تھا۔

ایک اور دستاویز میں یہ بھی کہا گیا کہ بابری مسجد کا انہدام، ہندو قوم پرستی میں اضافہ، گائے کے گوشت پر قتل اور گھر واپسی تحریک کو نوجوانوں کی بنیاد پرستی کی افزائش کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایس پی سطح کے ایک افسر کی جانب سے پیش کیے گئے مقالے میں کہا گیا کہ ’انتہائی دائیں بازو کے افراد یا تنظیمیں اس ملک کے بارے میں ایک بہت ہی من مانی تصور رکھتی ہیں جس میں قوم اور اس میں رہنے والے افراد بنیادی طور پر شناخت کی سطح پر ایک ہی ہیں اور انھیں ایک اکائی میں ہونا چاہیے۔ انڈیا کو ایک ایسے معاشرے کے طور پر دکھایا جا رہا ہے کہ یہ اکثریت پسندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ (اس طرح کی) کچھ تنظیموں کے نام لیے جائيں تو یہ آنند مارگ، وشو ہندو پریشد اور ہندو سینا وغیرہ ہیں۔‘

پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات

بجرنگ دل کے اراکین پر گائے کی حفاظت کے نام پر قتل اور مبینہ ’لو جہاد‘ معاملے میں مار پیٹ کے علاوہ ویلنٹائن ڈے پر ہنگامہ آرائی، مسجد کے سامنے لاؤڈ سپیکر پر ہنومان چالیسا پڑھنے کے الزامات بھی ہیں۔

گذشتہ سال اپریل کے مہینے میں ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے بجرنگ دل کے 27 کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان پر ایسٹر کے موقعے پر مذہبی جذبات مجروح کرنے اور سرکاری اہلکاروں کو ان کی ڈیوٹی میں رخنہ ڈالنے کے جرم میں ملزم ٹھہرایا گيا۔

اسی طرح دلی کے علاقے جہانگیر پوری میں رونما ہونے والے واقعات میں بھی اس تنظیم کے اراکین کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔

سوشل میڈیا پر بحث

انڈیا کے سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بحث جاری ہے۔

ابھیشیک کمار کشواہا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’کانگریس کرناٹک انتخابات کے اپنے منشور میں بجرنگ دل پر پابندی لگانے کی بات کر رہی ہے۔ کانگریس ایک ہندو مخالف پارٹی ہے، اب تو پتا چل گیا۔‘

پروفیسر اشوک سوائیں نے کانگریس کے منشور کے بعد دلی میں بجرنگ دل کے مظاہرے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’سی آئی اے نے بجرنگ دل کو ’مذہبی جنگجو گروہ‘ کہا اور اس پر انڈیا میں پابندی لگنی چاہیے۔‘

مینک سکسینہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’بجرنگ دل ہنگامہ آرائی کرنے والوں کا گینگ ہے جو غیر قانونی اور سماج مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔‘

اسی سلسلے میں اے آر خان نامی ایک صارف نے اردو اور ہندی معروف افسانہ نگار منشی پریم چند کا ایک قول شیئر کیا کہ ’فرقہ پرستی کو براہ راست سامنے آنے میں شرم آتی ہے، اس لیے وہ قوم پرستی کا چولہ پہن کر آتی ہے۔‘