بنگلہ دیش کا قیام: ڈھاکہ پر قبضہ کرنا انڈیا کی عسکری منصوبہ بندی کا حصہ ہی نہیں تھا

انڈیا

،تصویر کا ذریعہSONAM KLARA

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، دلی

سنہ 1971 کی جنگ کی سب سے انوکھی بات یہ تھی کہ مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ پر قبضہ کرنا انڈین فوج کے مرکزی منصوبے کا حصہ ہی نہیں تھا۔

انڈیا کی بنیادی عسکری حکمت عملی یہ تھی کہ مشرقی پاکستان کی زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کر کے وہاں بنگلہ دیش کی حکومت قائم کی جائے تاکہ انڈیا آنے والے ایک کروڑ مہاجرین کو وہاں واپس بھیجا جا سکے۔

انڈین فوج کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل کے کے سنگھ کے جنگی منصوبے میں تین اہم نکات تھے۔

سری ناتھ راگھون اپنی کتاب ’1971: اے گلوبل ہسٹری آف دی کریئشن آف بنگلہ دیش‘ میں لکھتے ہیں کہ اس منصوبے کا پہلا مقصد مشرقی پاکستان کی دو بڑی بندرگاہوں چٹاگانگ اور کھلنا پر قبضہ کرنا تھا، تاکہ وہاں مزید پاکستانی فوج نہ اُتر سکے۔ دوسرا مقصد ان جگہوں پر قبضہ کرنا تھا جہاں سے پاکستانی افواج ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتیں۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ تیسرا مقصد مشرقی پاکستان کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا تھا تاکہ انڈین فوجیں ایک ایک کر کے انھیں اپنے کنٹرول میں لے سکیں۔ ڈھاکہ پر قبضے کا سوچا گیا تھا، لیکن پھر اسے جان بوجھ کر ترک کر دیا گیا۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ انڈین فوج کو اس پورے آپریشن میں تین ہفتے لگیں گے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہPERMANENET BLACK

1965 کی جنگ میں انڈیا کا تجربہ یہ تھا کہ جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے اس مہم کو طول نہیں دیا جا سکا۔

جولائی 1971 میں انڈیا کے آرمی چیف جنرل سیم مانیکشا نے مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کو عسکری منصوبہ بندی سے آگاہ کر دیا تھا۔

جنرل اروڑہ نے اس منصوبے سے اتفاق کیا، لیکن ان کے چیف آف سٹاف جنرل جیکب نے اس کی مخالفت کی۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہROLI BOOKS

،تصویر کا کیپشنمیجر جنرل جے ایف آر جیکب

جنرل جیکب اور انڈین آرمی چیف سیم مانیکشا میں اختلاف

جنرل جیکب کا خیال تھا کہ ڈھاکہ پر قبضہ انڈین فوج کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔

جیکب اپنی کتاب ’سرنڈر ایٹ ڈھاکہ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جنگ سے چند ماہ قبل میں نے پاکستانی پوزیشنوں کو نظرانداز کرتے ہوئے براہ راست ڈھاکہ کی طرف مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن جب مانیکشا اور کے کے سنگھ مشرقی کمان کے ہیڈ کوارٹر پہنچے تو اختلافات پیدا ہوئے۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’جب کے کے سنگھ نے اپنا منصوبہ پیش کیا تو میں نے کہا کہ ڈھاکہ مشرقی پاکستان کا دل ہے۔ ہم ڈھاکہ پر قبضہ کیے بغیر مشرقی پاکستان پر قبضے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔‘

جیکب کے مطابق، ’مانیکشا نے کہا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اگر ہم چٹاگانگ اور کھلنا کو لے لیں تو ڈھاکہ خود ہی گر جائے گا؟ میں نے کہا کہ میں متفق نہیں ہوں۔ میں نے دہرایا کہ ہمارا بنیادی مقصد ڈھاکہ پر قبضہ ہونا چاہیے۔‘

اس پر ’مانیکشا نے کہا کہ ڈھاکہ ہماری ترجیح نہیں ہے۔ میں اس پر قبضہ کرنے کے لیے اضافی فوج نہیں دوں گا۔ جنرل اروڑہ نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہMANOHAR PUBLICATION

بعد ازاں ایئر چیف مارشل پی سی لال نے اپنی سوانح عمری 'My Years with IAF' میں لکھا کہ ’ہم یہ گمان نہیں کر رہے تھے کہ ہم پاکستانی فوج کو مکمل طور پر شکست دے کر ڈھاکہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

’انڈین فوج نے 7 دسمبر کو جیسور پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن کھلنا پر ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ہی قبضہ کیا جا سکا۔‘

جب انڈیا نے جنگ کا فیصلہ کیا

1971 کی جنگ کے 50 سال مکمل ہونے کے بعد بھی بہت سے مغربی مصنفین انڈیا کی فیصلہ کن سفارت کاری اور مکتی باہنی کی تربیت کا کریڈٹ انڈیا کو نہیں دیتے لیکن ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اس موقع پر انڈیا کی سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات کے باوجود پورا ملک متحد ہو گیا۔

ارجن سبرامنیم اپنی کتاب 'India's Wars 1947-1971' میں لکھتے ہیں کہ شروع میں اندرا گاندھی کا خیال تھا کہ انڈیا مکتی باہنی کو جس طرح کی مدد اور تربیت دے رہا ہے، وہ اکیلے پاکستانی فوج کو شکست دے سکتی ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’لیکن انھیں اندازہ نہیں تھا کہ پاکستانی فوج کی کارروائیاں بڑھتی جائیں گی اور انڈیا آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’جب نومبر تک مشرقی پاکستان سے پناہ گزینوں کی تعداد بھارت میں ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی اور پوری دنیا نے اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی تو انڈیا کے پاس مشرقی سرحد پر پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نکسن اور اندرا گاندھی کے درمیان کشیدگی

جیسے جیسے بحران بڑھتا گیا، امریکی صدر نکسن اور ان کے مشیر خارجہ امور ہینری کیسنجر دونوں ہی اندرا گاندھی کی امریکہ کی بات نہ سننے کی پالیسی سے سخت پریشان تھے۔

اس دوران امریکہ کی جانب سے بحری بیڑے کو بھجوانے کا چرچہ بھی ہوا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بھی پڑھیے

1971 کی کامیابی کا سب سے بڑا کریڈٹ انڈیا کی جنگی منصوبہ کو دیا جاتا ہے، لیکن یہ منصوبہ لیفٹیننٹ جنرل سگت سنگھ، کیپٹن سوراج پرکاش، گروپ کیپٹن وولن اور گروپ کیپٹن چندن سنگھ کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔

ارجن سبرامنیم لکھتے ہیں کہ ’اگر سگت سنگھ نے اکھوڑہ، بھیراب بازار اور سلہٹ کو نظرانداز نہ کیا ہوتا یا چندن سنگھ نے ایم آئی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فوج، ہتھیار اور توپ خانے کو دریائے میگھنا کے پار نہ اتارا ہوتا یا گروپ کیپٹن وولن نے اپنے پائلٹ نہ بھیجے ہوتے۔ تیجگاؤں ایئربیس پر حملہ، یا سوراج پرکاش اور میجر جنرل اوبن نے چٹاگانگ سیکٹر میں انڈین آرمی کی تقریباً نصف ڈویژن تعینات نہ کی ہوتی، ڈھاکہ 16 دسمبر تک نہ گرتا۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGENERAL SAGAT SINGH FAMILY

،تصویر کا کیپشنجنرل سگت سنگھ

انٹیلی جنس اور مکتی باہنی

انڈیا کی جیت کی ایک اور بڑی وجہ مکتی باہنی کا بھرپور تعاون تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل شمشیر سنگھ مہتا کا کہنا ہے کہ مکتی باہنی کا سب سے بڑا تعاون انڈین فوج کو انٹیلیجنس فراہم کرنا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم بغیر کسی انٹیلیجنس کے بنگلہ دیش گئے ہوتے تو مغربی سیکٹر کی طرح وہاں بھی پھنس جاتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ کے ابتدائی مرحلے میں مکتی باہنی کی وجہ سے ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ دشمن کہاں ہے، اگر ہمارے پاس یہ معلومات نہ بھی ہوں تو بھی ہم ان معلومات کی بنیاد پر ان کی اگلی چال کا اندازہ لگا سکتے تھے۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمکتی باہنی

اس مہم کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ آپریشن شروع ہونے سے چھ ماہ قبل انڈین فوج نے تربیت اور بنیادی ضروریات کا اندازہ لگا لیا تھا۔

دوسری طرف پاکستان کی جنگی تیاریاں تسلی بخش نہیں تھیں اور وہ مشرقی پاکستان میں شورش کو کچلنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کر رہے تھے۔

انڈیا کی فضائی برتری اور کراچی پر حملہ

تیاری کے لیے دستیاب وقت میں، انڈین فضائیہ نے کچھ نئے فضائی اڈے بنائے اور اپنے دفاع کو مزید مضبوط کیا۔

دوسری جانب 1965 کی جنگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پاکستانی فضائیہ نے نرمی دکھائی اور ایئر مارشل نور خان کی کوششوں کے باوجود اپنی کامیابی کو نئی بلندیوں تک نہ لے جا سکی۔

انڈین فضائیہ نے حاجی پیر میں پاکستانی آرٹلری بریگیڈ اور چھانگامانگا کے جنگل میں پاکستانی اسلحہ ڈپو پر حملہ کر کے پاک فضائیہ کا مورال توڑ دیا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہHARPER COLLINS

کراچی بندرگاہ کے قریب کیماڑی ریفائنری، سوئی گیس پلانٹ، منگلا ڈیم اور سندھ میں اٹک ریفائنری پر بمباری نے بھی انڈین فضائیہ کے تسلط میں اضافہ کیا۔

جس طرح انڈین بحریہ نے کراچی پر حملے کے لیے میزائل کشتیوں کا استعمال کیا اس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

حملے کے دوران میزائل بوٹ کے عملے نے آپس میں روسی زبان میں بات کی جس سے پاکستانی ان کی زبان نہ سمجھ سکے۔

پاکستانی بحریہ جارحانہ حکمت عملی بنانے میں ناکام رہی۔ وہ انڈین بحری جہاز آئی این ایس کھکری کو ڈبونے میں ضرور کامیاب ہوئے لیکن ان کی آبدوز غازی جو کہ وکرانت کو ڈبونے آئی تھی، وشاکھاپٹنم کے ساحل کے قریب خود ہی ڈوب گئی۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہHARPER COLLINS

،تصویر کا کیپشنآئی این ایس وکرانت

فوجی ماہرین کے درمیان ابھی تک یہ بحث جاری ہے کہ اگر جنرل سیم مانیکشا اپریل میں مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کے اندرا گاندھی کے حکم کو مان لیتے تو کیا ہوتا۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا فائدہ انڈیا کو ہی ہوتا کیونکہ اس وقت تک پاکستان کی تیاری تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔

لیکن ارجن سبرامنیم کا ماننا ہے کہ ’اگر ایسا ہوتا تو وہ مکتی باہنی کی مدد حاصل نہیں کر پاتے، جو انڈین فوج کی آنکھ اور کان کا کام کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ انڈیا کے فیلڈ کمانڈر اندھے تیر برسا رہے ہوتے۔‘

جہاں تک بنگلہ دیش کی مہم کے نفسیاتی پہلو کا تعلق ہے، جنرل نیازی جنگ کے پہلے ہفتے میں مزاحمت کرنے کی ہمت کھو چکے تھے۔

تنگیل پیرا ڈراپ اور ڈھاکہ کے گورنمنٹ ہاؤس پر مگ 21 اور ہنٹر طیاروں کے حملے نے جنرل نیازی کو نفسیاتی طور پر توڑ دیا تھا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہRAGHU RAI

لیفٹیننٹ جنرل شمشیر سنگھ مہتا کہتے ہیں کہ ’اگر جنرل جیکب ایسٹرن کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں نہ ہوتے تو پاکستانی فوج ہتھیار نہ ڈالتی۔ جہاں سگت سنگھ فوجی معاملات میں باصلاحیت تھے، جیکب دشمن کے دماغ کو پڑھنے میں ماہر تھا۔‘

1971 کی جنگ نے جنگ میں سینیئر قیادت کے کردار کو واضح کیا تھا۔

تینوں آرمی چیفس نے 30 اور 40 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افسروں کی صلاحیتوں کو پہچان کر انھیں جنگ میں اہم ذمہ داریاں دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔

جنرل سیم مانیکشا نے قابل افسران، لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ، میجر جنرل جیکب، لیفٹیننٹ جنرل سگت سنگھ اور میجر جنرل اندر گل کو رکھا تھا، جو جنگ سے کئی ماہ قبل ان کے ساتھ کام کر چکے تھے۔

ایئر چیف مارشل پی سی لال نے بھی اہل افسران کی نشاندہی کی اور ونائک مالسے، میلی وولن اور چندن سنگھ کو اہم ذمہ داریاں سونپیں۔

ایڈمرل نندا نے ایڈمرل نیلکانتا کرشنن، ایس این کوہلی اور سوراج پرکاش کی شکل میں ایسے منتخب افسران کا انتخاب کیا تھا جو جنگی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہROBEY LAL

،تصویر کا کیپشنسیم مانیکشا، ایڈمرل نندا اور ایئر چیف مارشل پی سی لال

نوجوان افسروں میں ارون کھیترپال، ہوشیار سنگھ، نرمل جیت سنگھ سیکھون، بہادر کریم نوینا اور ڈان لازارس نے بہادری کی نئی مثال قائم کی تھی۔

جہاں تک انڈیا سیاسی قیادت کا تعلق ہے، اندرا گاندھی اور جگجیون رام کو جنگ کی قیادت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی انھیں فوجی معاملات کی گہری سمجھ تھی۔

لیکن انھوں نے واضح سیاسی اہداف کو سامنے رکھ کر فوجی سربراہوں کو کام کرنے کی مکمل آزادی دے کر اس معاملے میں عسکری قوتوں کی بہت مدد کی۔

آرمی چیف کی جانب سے دیے گئے مشورے کو تفصیلی حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا۔

سیاسی عزم اور قومی سلامتی کے ذمہ دار لوگوں کے درمیان مناسب ہم آہنگی نے اس جنگ میں انڈیا کو فتح دلائی۔

پاکستانی جنگی قیدیوں سے سلوک

انڈیا

،تصویر کا ذریعہHARPER COLLINS

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس جنگ میں پاکستان کی فوج نے انڈین فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نئے ملک نے جنم لیا۔

کئی پاکستانی جنگی قیدیوں نے بعد میں اعتراف کیا کہ انڈیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔ آرمی ہیڈ کوارٹرز نے حکم دیا تھا کہ پاکستانی فوجیوں کے ساتھ جینیوا معاہدے کے مطابق سلوک کیا جائے۔

لیفٹیننٹ جنرل تھامس میتھیو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آگرہ میں ان کی پیرا یونٹ کو پاکستانی جنگی قیدیوں کو رکھنے کے لیے اپنی بیرکیں خالی کرنے کے بعد خیموں میں رہنا پڑا۔ پاکستانی جنگی قیدیوں کے کیمپ کا معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے دو سپاہیوں کے ساتھ ہاتھ میں چھڑی لیے کیمپ میں داخل ہوا، مجھے دیکھتے ہی زیادہ تر پاکستانی فوجی اپنے بستروں کے پاس محتاط انداز میں کھڑے ہو گئے، لیکن پاکستانی سپیشل فورسز کے کچھ سپاہی مجھے دیکھتے رہے۔

جب جنرل میتھیو نے وجہ پوچھی تو وہ خاموش رہے لیکن ایک سپاہی نے ہمت کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ میری بیوی اور بچے کیسے ہیں۔

جنرل میتھیو کا کہنا ہے کہ میں نے انھیں یقین دلایا کہ میں ان کا پتہ لگا کر آپ کو اس کی معلومات دوں گا۔ میں نے اس سپاہی کی تفصیلات لے کر دہلی میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کو بھیج دیں۔ کچھ دنوں بعد جب میں نے اس سپاہی کو بتایا کہ اس کا خاندان محفوظ ہے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔