کیا پلوامہ حملے کے بعد انڈین سیاسی جماعتوں کے الیکٹورل بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی ’حبکو‘ پاکستانی ہے؟

indian rupee

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اسماعیل شیخ
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستانی کمپنی حب پاور کمپنی لمیٹڈ (حبکو) نے انڈیا میں الیکٹورل بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا انڈیا میں موجود کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس حوالے سے ابہام اس وقت پیدا ہوا جب انڈیا کے الیکشن کمیشن نے ایک دستاویز جاری کیا جس میں ملک کی سیاسی جماعتوں کے الیکٹورل بانڈز میں گذشتہ پانچ سال کے دوران کون سی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کی گئی ہے اس کی تفصیلات درج ہیں۔

اس دستاویز کے ایک حصے میں انتخابی بانڈز خریدنے والی کمپنیوں کے نام اور ان کی رقم بھی دی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں سیاسی جماعتوں کے نام اور ان کے انتخابی بانڈز کی تفصیلات دی گئی ہیں کہ انھوں نے یہ کب اور کتنی رقم کے عوض کیش کروائے تھے۔

ان میں سے ایک حب پاور کمپنی بھی تھی جس نے 18 اپریل 2019 کو انڈیا کی سیاسی جماعتوں کے 95 لاکھ انڈین روپے کے الیکٹورل بانڈز خریدے تھے۔

سوشل میڈیا پر متعدد انڈین صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جانے لگا تھا کہ یہ دراصل پاکستانی کمپنی حب پاور کمپنی لمیٹڈ ہے۔ دستاویز سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ رقم کون سی جماعت کے الیکٹورل بانڈز خریدنے میں صرف ہوئی لیکن ایک صارف انکت ماینک کی جانب سے کہا گیا کہ ’جب پورا ملک پلوامہ حملے کے بعد فوجیوں کی ہلاکت پر سوگ منا رہا تھا، تو اس وقت کوئی پاکستان سے فنڈنگ کے مزے لوٹ رہا تھا۔‘

تاہم پاکستان اور انڈیا دونوں سے ہی اس دعوے کی تردید سامنے آ گئی ہے۔

انڈین صحافی اور فیٹ چیک ویب سائٹ کے بانی محمد زبیر کا دعوٰی ہے کہ مذکورہ بالا حب پاور کمپنی پاکستانی نہیں بلکہ نئی دہلی میں رجسٹرد ایک انڈین کمپنی ہے۔

اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے انڈین گڈز اینڈ سروسز کونسل کی ویب سائٹ کا سکرین شاٹ شیئر کیا ہے۔

دوسری جانب، بی بی سی اردو کو بھیجے گئے ایک بیان میں حبکو کی جنرل مینیجر لیگل فائزہ کپاڈیا کا کہنا تھا کہ ’حبکو نے انڈیا میں کبھی کسی شخص کو کوئی ادائیگی نہیں کی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان سے باہر تمام ادائیگیاں سٹیٹ بنک آف پاکستان سے منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی کی جاتی ہیں۔

فائزہ کا مزید کہنا تھا کہ اس ساری کنفیوژن کی وجہ ایک انڈین کمپنی ہے جس کا نام ’حب پاور کمپنی‘ ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی حبکو پاور کمپنی کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق یہ ملک کی پہلی اور سب سے بڑی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی) ہے جس کی بجلی کی پیداواری صلاحیت 3581 میگاواٹ ہے اور اس کے پاور پراجیکٹس بلوچستان کے شہر حب، پنجاب کے شہر ساہیوال، سندھ میں تھر پارکر اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں موجود ہیں۔

آئیے جانتے ہیں کہ انڈیا میں الیکشن سے قبل اس وقت جن الیکٹورل بانڈز کے باعث واویلا مچا ہوا ہے وہ ہیں کیا اور ان کے تحت انڈیا کی سیاسی جماعتوں میں سرمایہ کاری کرنے والی سب سے بڑی کمپنی کون سی ہے؟

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

الیکٹورل بانڈز کیا ہے؟

انڈیا میں سنہ 2017 میں الیکٹورل بانڈز متعارف کرانے کا مقصد یہ تھا کہ ملک کی سیاست میں استعمال ہونے والی غیر قانون دولت کا راستہ روکا جا سکے۔

انڈیا میں سیاسی پارٹیوں کی فنڈنگ کے لیے الیکٹورل بانڈز متعارف کرائے گئے تھے اور ان بانڈز کے ذریعے دی جانے والی رقم پر سود نہیں لگتا یعنی ان میں کسی قسم کی کوئی کٹوتی نہیں ہوتی۔

سنہ 2018 میں متعارف کرائے جانے والے یہ بلاسود بانڈز ایک خاص مدت کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جن کے تحت سیاسی جماعتوں کو ایک ہزار سے لے کر ایک کروڑ روپے تک کی رقم دی جا سکتی ہے۔

اس اقدام کے تحت انڈیا کا کوئی بھی شہری یا کمپنی سال کے مخصوص دنوں میں الیکٹورل بانڈز خرید کر اپنی پسند کی سیاسی جماعت کی مالی مدد کر سکتا ہے اور مذکورہ سیاسی جماعت 15 دن کے اندر یہ رقم کسی بھی سرکاری بینک سے نکلوا سکتی ہے۔

قانون کے مطابق ان بانڈز کے ذریعے کسی بھی ایسی سیاسی جماعت کو پیسے دیے جا سکتے ہیں جس نے قومی یا ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں ایک فیصد سے کم ووٹ نہ حاصل کیے ہوں۔

SBI

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈیا میں انتخابات پر نظر رکھنے والی تنظیم، ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹِک ریفارمز (اے ڈی آر) کے مطابق سنہ 2019 میں ملک کی سات بڑی سیاسی جماعتوں کو ملنے والی فنڈنگ کا 62 فیصد الیکٹورل بانڈز سے آیا تھا۔

الیکٹورل بانڈز کو متعارف کرانے کا مقصد ملکی سیاست کو ناجائز پیسے سے پاک کرنا اور سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کو زیادہ شفاف بنانا تھا، لیکن اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سکیم کا نتیجہ الٹ نکلا ہے۔

جب انڈیا میں الیکٹورل بانڈز جاری کرنے کا پہلی مرتبہ اعلان کیا گیا تھا تو الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ان بانڈز کی وجہ سے انتخابات میں شفافیت کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر انڈیا کے سٹیٹ بینک، وزارت قانون اور بہت سے ارکانِ اسمبلی کا بھی یہی کہنا تھا کہ بانڈز سے ملکی سیاست میں ناجائز دولت کی ریل پیل ختم نہیں ہو گی۔

سپریم کورٹ نے 15 فروری 2024 کو الیکٹورل بانڈز کی سکیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی تھی حکام کو کہا تھا کہ وہ اپریل 2019 سے اب تک موصول ہونے والے عطیات کی تفصیلات 6 مارچ تک الیکشن کمیشن کو فراہم کرے۔ عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ وہ یہ تفصیلات 13 مارچ تک اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں جو اب کر دی گئی ہے۔

election comission

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی جے پی کے 60 ارب، کانگریس کے 16 ارب

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع کی جانے والی دستاویزات اپریل 2019 سے 11 جنوری 2024 (لگ بھگ پانچ سال) کے دورانیے کی ہیں۔

معلومات کے مطابق بی جے پی نے اس مدت کے دوران 60 ارب روپے سے زیادہ کے انتخابی بانڈز کے عوض نقد رقم سرکاری بینکوں سے نکلوائی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر کانگریس رہی جس نے 16 ارب روپے سے زیادہ کے انتخابی بانڈز کو کیش کروایا۔

سب سے زیادہ انتخابی بانڈز خریدنے والی کمپنی ’فیوچر گیمنگ اینڈ ہوٹل سروسز‘ ہے جس نے مجموعی طور پر 1368 بانڈز خریدے جن کی مالیت 13.6 ارب روپے سے زائد ہے۔ اس کے بعد میگھا انجینیئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ ہے جس نے 9.6 ارب روپے مالیت کے بانڈز خریدے اور ان کی مدد سے اپنی فیورٹ جماعت کو سپورٹ کیا۔

سنٹیاگو مارٹن نے سنہ 1988 میں تامل ناڈو میں اپنا لاٹری کا کاروبار شروع کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفیوچر گیمنگ پر لاٹری کی ٹکٹوں کی فروخت اور ان پر ملنے والے انعامات میں غبن کا الزام ہے

سب سے زیادہ ایلکٹورل بانڈز خریدنے والی فیوچر گیمنگ کے چیئرمین ’لاٹری کنگ‘ سینٹیاگو مارٹن کون ہیں؟

معلومات کے مطابق سب سے زیادہ انتخابی بانڈز خریدنے والی کمپنی ’فیوچر گیمنگ اینڈ ہوٹل سروسز‘ کے چیئرمین سینٹیاگو مارٹن ہیں۔

فیوچر گیمنگ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق مارٹن نے 13 سال کی عمر میں لاٹری کا کاروبار شروع کیا تھا اور بلآخر پورے انڈیا میں لاٹری کے خریداروں اور بیچنے والوں کا ایک وسیع نیٹ ورک بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

دوسری جانب مارٹن چیریٹیبل ٹرسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق لاٹری کا کاروبار شروع کرنے سے قبل مارٹن اپنے خاندان کی کفالت کے لیے معمولی تنخواہ پر میانمار کے شہر ینگون میں بطورِ مزدور کام کیا کرتے تھے۔

بعد ازاں وہ انڈیا واپس آ گئے جہاں انھوں نے سنہ 1988 میں تمل ناڈو میں اپنا لاٹری کا کاروبار شروع کیا۔ رفتہ رفتہ وہ اپنا کاروبار کرناٹک اور کیرالہ تک پھیلانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

مئی 2023 میں مارٹن اور ان کی کمپنی اس وقت خبروں کی زینت بنے جب انڈیا کی وزارتِ خزانہ کے تحت کام کرنے والے انفورسمنٹ ڈویژن نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے انڈین ریاست چنئی میں ان کے گھر اور دفتروں پر چھاپے مارے۔ ان چھاپوں کے دوران 457 کروڑ انڈین روپے کے اثاثے ضبط کر لیے گئے تھے۔

ان کی کمپنی پر لاٹری کی ٹکٹوں کی فروخت اور ان پر ملنے والے انعامات میں غبن کا الزام ہے۔