عالمی آٹو انڈسٹری پر غلبہ حاصل کرتی چین کی ’سستی اور بہتر‘ الیکٹرک گاڑیاں، مگر مغربی دنیا اِن سے خوفزدہ کیوں ہے؟

تصویر
    • مصنف, تھیو لیگٹ
    • عہدہ, انٹرنیشنل بزنس نامہ نگار

چین میں اسے ’سِیگل‘ (سمندری بگلے کی ایک قسم) کہا جاتا ہے اور اس کی ظاہری شکل و صورت بھی اس پرندے سے ملتی ہے۔ اس خوبصورت گاڑی کی چمکدار ہیڈ لائٹس شرارتی آنکھوں کی طرح نیچے کی طرف جھکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

یقیناً یہ ایک چھوٹی سی گاڑی ہے جسے بطور سستی سواری متعارف کروایا گیا ہے لیکن اس کا اثر بہت بڑا ہو سکتا ہے۔

یہ گاڑی سنہ 2023 سے چین میں دستیاب ہے جہاں یہ انتہائی مقبول ہے اور اب اسے یورپ میں ’ڈولفن سرف‘ (Dolphin Surf) کے نام سے لانچ کیا گیا ہے، کیونکہ یورپی لوگ چینیوں کے برعکس ’سِیگل‘ پرندے کو پسند نہیں کرتے۔

برطانیہ میں اسے رواں ہفتے فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس کی تعارفی قیمت تقریباً 18 ہزار پاؤنڈ ہو گی۔ یہ قیمت مغربی مارکیٹوں میں دستیاب ایک الیکٹرک گاڑی کے لیے واقعی بہت سستی ہے۔

لیکن یہ مارکیٹ میں پہلے سے دستیاب الیکٹرک گاڑیوں میں سب سے کم قیمت گاڑی نہیں ہو گی۔

لیکن ڈولفن سرف وہ نیا آنے والا ماڈل ہے اس نے طویل عرصے سے گاڑیوں کے پہلے سے موجود برانڈز کو سب سے زیادہ پریشان کر رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گاڑی کو بنانے والی کمپنی بین الاقوامی مارکیٹوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

The BYD Dolphin Surf

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty

،تصویر کا کیپشنبی وائی ڈی ’ڈولفن سرف‘ کی قیمت برطانیہ میں تقریباً 18 ہزار پاؤنڈ ہو گی، جو ایک الیکٹرک گاڑی کے لیے انتہائی کم قیمت ہے

’بی وائی ڈی‘ پہلے ہی چین کی سب سے بڑی الیکٹرک کار کمپنی ہے۔ یہ سنہ 2024 میں امریکی کمپنی ’ٹیسلا‘ کو پیچھے چھوڑتی ہوئے دنیا کی سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے والی کمپنی بن چکی ہے۔ یورپی مارکیٹ میں صرف دو سال قبل داخل ہونے کے بعد سے اس نے تیزی سے اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

بی وائی ڈی یوکے کے سیلز اینڈ مارکیٹنگ ڈائریکٹر اسٹیو بیٹی کہتے ہیں کہ ’ہم 10 سال کے اندر اندر برطانوی مارکیٹ میں نمبر ون بننا چاہتے ہیں۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بی وائی ڈی چینی کمپنیوں اور برانڈز کے اس وسیع نظام کا حصہ ہے جس کے بارے میں چند ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عالمی موٹر انڈسٹری کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے اس کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ’زیکر‘، ’شیائیوپانگ‘ اور ’اوماڈا‘ جیسے غیر معروف برانڈز بھی ’فورڈ‘ یا ’ووکس ویگن‘ جتنے ہی معروف ہو سکتے ہیں۔ یہ کلاسیک برانڈز جیسے ’ایم جی‘، ’والوو‘ اور ’لوٹس‘ کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے، جو کئی سالوں سے چینی ملکیت میں ہیں۔

یہ کمپنیاں چھوٹی گاڑیوں جیسا کہ بی وائی ڈی کی ڈولفن سرف سے لے کر ہائی اینڈ سپر کارز جیسے بی وائی ڈی کی ذیلی برانڈ یانگ وانگ کی ’یونائن‘ تک ایک وسیع رینج موجود ہے۔

برمنگھم بزنس سکول کے پروفیسر ڈیوڈ بیلے کہتے ہیں کہ ’چینی برانڈز یورپی مارکیٹ میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔‘

سنہ 2024 میں دنیا بھر میں ایک کروڑ 70 لاکھ الیکٹرک اورپلگ ان ہائبرڈ گاڑیاں فروخت ہوئیں جن میں سے ایک کروڑ دس لاکھ صرف چین میں فروخت ہوئیں۔

کنسلٹنٹ فرم ’رو موشن‘ کے مطابق چینی برانڈز نے اپنے ملک سے باہر بھی عالمی سطح پر الیکٹرک اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت کا 10فیصد حصہ حاصل کیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ چینی کاروں کا عالمی مارکیٹ میں شیئر مزید بڑھے گا۔

صارفین کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہونی چاہیے کیونکہ اس سے زیادہ معیاری اور سستی الیکٹرک گاڑیاں دستیاب ہوں گی۔ لیکن چین اور مغربی طاقتوں میں جاری کشمکش کی وجہ سے کچھ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ چینی گاڑیاں سکیورٹی رسک بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ یورپ کے معروف برانڈز کے لیے بہت بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔

برمنگھم بزنس سکول کے پروفیسر ڈیوڈ بیلے خبردار کرتے ہیں کہ ’چین کو بیٹری ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک بہت بڑا فائدہ حاصل ہے۔ یورپی مینوفیکچررز بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اگر وہ (یورپی) نیند سے بیدار ہو کر مقابلہ نہیں کرتے وہ مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں۔‘

چین کے اندر سخت مقابلہ

چین کی گاڑیوں کی صنعت سنہ2001 میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل ہونے کے بعد سے تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ لیکن یہ عمل سنہ 2015 میں اور بھی تیز ہو گیا جب کمیونسٹ پارٹی نے ’میڈ ان چائنا 2025‘ کا منصوبہ پیش کیا۔ اس دس سالہ منصوبے کا مقصد چین کو الیکٹرک گاڑیوں سمیت کئی ہائی ٹیک صنعتوں میں عالمی لیڈر بنانا تھا۔

بیرونِ دنیا خاص طور پر امریکہ نے اس منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بنا۔ چین پر الزامات لگائے گئےکہ وہ ٹیکنالوجی کی زبردست منتقلی اورانٹلیکچول پراپرٹی حقوق کی چوری کر رہا ہے۔ چین ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

سرکاری فنڈنگ کی بدولت ’بی وائی ڈی‘ جیسی کمپنیوں نے تیز رفتاری سے ترقی کی اور ’ایم جی‘ اور ’والوو‘ کی چینی مالک کمپنیوں کو الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں اہم کھلاڑی بنا دیا۔

’الیکٹرک وہیکلز یو کے‘ کے چیف ایگزیکٹیو ڈین سیزر کا کہنا ہے کہ ’چینی گاڑیوں کا معیار واقعی بہت ہی اعلیٰ ہے۔ چین نے انتہائی تیزی سے گاڑیاں بنانے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔‘

لیکن چین کے اندر بھی اس حوالے سے مقابلہ دن بدن تیز تر ہوتا جا رہا ہے جہاں برانڈز ایک حد سے زیادہ بھری ہوئی مارکیٹ میں جگہ بنانے کے لیے دھکم پیل کر رہی ہیں۔ چین کے اندر مقابلے کی اس فضا نے ان کمپنیوں کو چین سے باہر نئی مارکیٹوں کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔

اگرچہ چینی کمپنیاں مشرقی ایشیا اور جنوبی امریکہ میں پھیل چکی ہیں لیکن برسوں تک ان کے لیے یورپی مارکیٹ میں جگہ بنانا مشکل ہو رہا تھا۔ لیکن جب یورپی حکومتوں نے پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کو بتدریج ختم کر کے الیکٹرک کاروں کی طرف جانے کا فیصلہ کیا تو چین کو یورپی مارکیٹ میں قدم رکھنے کا ایک موقع مل گیا۔

چینی کمپنی ’چیری‘ کی دو ذیلی کمپنیوں ’اوموڈا‘ اور ’جیکو‘ کے یو کے پراڈکٹ مینیجر اولیور لووے کہتے ہیں کہ ’چینی برانڈز نے یہاں قدم جمانے کا ایک چھوٹا سا موقع دیکھا ہے۔‘

Lines of cars in a car park, in front of a BYD container ship

،تصویر کا ذریعہSTR via Getty

،تصویر کا کیپشنبی وائی ڈی 2024 میں الیکٹرک کاریں بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن چکی ہے

چینی کمپنیوں کے حریفوں کا کہنا ہے کہ چین میں لیبر کے کم اخراجات اور سرکاری مراعات نے چینی کمپنیوں کو نمایاں فوائد دیے ہیں۔

سوئس بینک ’یو بی ایس‘ کی سنہ 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ’بی وائی ڈی‘ مغربی حریفوں کے مقابلے میں 25 فیصد کم لاگت پر گاڑیاں تیار کرنے کے قابل ہے۔

تاہم چینی کمپنیاں اس بات کو مسترد کرتی ہیں کہ مقابلہ غیرمنصفانہ ہے۔ شیاؤ پانگ کے نائب چیئرمین برائن گو نے سنہ 2024 میں پیرس موٹر شو کے موقع پر بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی کمپنی مقابلے میں کامیاب ہے کیونکہ ’ہم نے دنیا کی سب سے زیادہ مسابقتی مارکیٹ میں بہت جدوجہد کی ہے۔‘

امریکہ کا ’نیکیڈ پروٹیکشن ازم‘

سنہ 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدات کے ممکنہ سیلاب نے کار مینوفیکچررز کے لیے شدید خدشات پیدا کر دیے۔

امریکہ میں الائنس فارامریکن مینوفیکچرنگ نے خبردار کیا کہ یہ امریکی صنعت کے لیے زندگی، موت کا مسئلہ ثابت ہو سکتی ہیں، جبکہ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ چینی کمپنیوں کو دی جانے والی ’بھاری سرکاری مراعات‘ یورپی مارکیٹ کا حلیہ بگاڑ رہی ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے سخت اقدام اٹھاتے ہوئے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر درآمدی ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کر دیے جس نے چینی کاروں کی امریکہ میں فروخت کو ناممکن بنا دیا۔

Former US President Joe Biden shaking hands with China's President Xi Jinping

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Leah Millis

،تصویر کا کیپشنبائیڈن انتظامیہ نے 2024 میں چینی کاروں پر ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کر دیا تھا

امریکہ کے بعد یورپی یونین نے بھی اکتوبر 2024 میں چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں پر35 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کر دیے تھے، تاہم برطانیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

شمیٹ آٹوموٹو ریسرچ کے بانی میتھیاس شمیٹ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ٹیرف نے اب چینی کمپنیوں کے لیے مارکیٹ شیئر حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

’سنہ 2024 میں بہت سے واقع تھے۔۔۔ لیکن چینی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ٹیرف کے نفاذ کے بعد چینی مینوفیکچررز اب اپنا لاگتی فائدہ یورپی صارفین تک منتقل نہیں کر پا رہے۔‘

’رینو‘ کا الیکٹرک کاروں کا مرکز

یورپی مینوفیکچررز اپنی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ فرانسیسی کار ساز کمپنی ’رینو‘ بھی اُن میں شامل ہے۔

فرانس کے شمال مشرق میں واقع ڈوائے کی فیکٹری میں چنگاریاں بکھیرتے روبوٹس سٹیل کے پارٹس کو جوڑ کر گاڑیوں کے ڈھانچے بناتے ہیں جبکہ مرکزی اسمبلی لائن پر خودکار نظام باڈی شیلز، دروازوں، بیٹریوں، موٹروں اور دیگر پرزوں کو یکجا کرتے ہیں۔ اس کے بعد مزدور اس کوآخری مرحلے میں دیکھتے ہیں۔

یہ فیکٹری سنہ 1974 سے ’رینو‘ کی گاڑیاں بنا رہی ہے لیکن چار سال پہلے پرانی پروڈکشن لائنز کو نئی ہائی لیول آٹومیشن اور ڈیجیٹل کنٹرولڈ سسٹمز سے بدل دیا گیا۔

فیکٹری کے ایک حصے پر چینی ملکیت والی بیٹری کمپنی AESC نے حاصل کر لیا جس نے یہاں اپنی بڑی فیکٹری قائم کی ہے۔

A Renault car on an automated assembly line

،تصویر کا ذریعہRenault

،تصویر کا کیپشن رینو فیکٹری اب چینی کار ساز کمپنیوں والے پیداواری طریقوں کو اپنا رہی ہے

یہ ’رینو‘ کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد شمالی فرانس میں ایک انتہائی جدید الیکٹرک گاڑیوں کا ’مرکز‘ قائم کرنا ہے۔ چینی مینوفیکچررز کی لین پروڈکشن تکنیک کی نقل کرتے ہوئے یہ مرکز کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بڑھا کر اور سپلائرز کو قریب ترین رکھ کر لاگت کم کرتا ہے۔

ڈوائے پلانٹ کے ڈائریکٹر پیئر اینڈریوکس وضاحت کرتے ہیں کہ ’ہمارا ہدف یہاں سستی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنا تھا جو یورپ میں فروخت کی جا سکیں۔‘

لیکن کمپنی ایک ایسی چیز کا بھی فائدہ اٹھا رہی ہے جو چینی برانڈز کے پاس نہیں۔ ڈوائے میں تیار ہونے والی ان کی تازہ ترین ماڈل رینو 5 ای- ٹیک، اپنا نام کمپنی کی سب سے مشہور کار سے مستعار لے رہی ہے۔

Collage showing Renault 5 in Paris, 1978, on the left and the new Renault 5 E-Tech on the right

،تصویر کا ذریعہGetty Images and Renault

،تصویر کا کیپشنرینو 5 - جس کی طرز پر نئی رینو 5 ای ٹیک بنائی گئی ہے

سنہ 1972 میں لانچ ہونے والی اصل رینو 5 ایک انوکھی چھوٹی گاڑی تھی جس کا ڈیزائن اور کم خرچ نے اسے ایک کلٹ کلاسک بنا دیا تھا۔

نئے ڈیزائن، جو ایک جدید ترین الیکٹرک گاڑی ہونے کے باوجود، اپنے پیشرو کے نام اور ظاہری شکل کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، تاکہ وہ اسی طرح کی مقبولیت حاصل کر سکے۔

سکیورٹی، جاسوسی سافٹ ویئر اور ہیکنگ کے خدشات

لیکن چاہے چینی گاڑیاں یورپی برانڈز کے مقابلے میں کتنی ہی پُرکشش کیوں نہ ہوں، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ہمیں سکیورٹی وجوہات کی وجہ ان سے محتاط رہنا چاہیے۔

زیادہ تر جدید گاڑیاں کسی نہ کسی طرح انٹرنیٹ سے منسلک ہوتی ہیں، مثلاً سیٹلائیٹ نیویگیشن کے لیے اور ڈرائیورز کے فونز اکثر کار کے سسٹمز سے منسلک ہوتے ہیں۔ ٹیسلا کی ایجاد کردہ ’اوور دی ائیر اپڈیٹس‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے گاڑیوں کے سافٹ ویئر کو دور سے اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔

اس نے کچھ حلقوں میں خدشات پیدا کیے ہیں کہ گاڑیوں کو ہیک کر کے سپائی ویئر چھپانے، افراد پر نظر رکھنے یا یہاں تک کہ کی بورڈ کے ایک کلک سے غیر فعال کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Tesla logo and car surrounded by lights

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنٹیسلا کی ’اوور دی ایئر اپڈیٹس‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے گاڑیوں کے سافٹ ویئر کو دور سے اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے

رواں سال کے آغاز میں ایک برطانوی اخبار نے خبر دی کہ فوجی اور انٹیلیجنس کے سربراہان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں میں سفر کے دوران سرکاری امور پر بات نہ کریں۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ جن گاڑیوں میں چینی پرزے استعمال ہوئے ہیں، انھیں حساس فوجی مقامات میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔

پھر مئی میں برطانوی خفیہ ایجنسی ’ایم آئی 6‘ کے سابق سربراہ نے دعویٰ کیا کہ چینی ساختہ ٹیکنالوجی، جس میں گاڑیاں بھی شامل ہیں، کو دور سے کنٹرول اور پروگرام کیا جا سکتا ہے۔ سر رچرڈ ڈیئرلو نے اراکین پارلیمنٹ کو خبردار کیا کہ یہ ممکن ہے کہ لندن کو ’غیر فعال‘ کیا جا سکے۔

بیجنگ نے ہمیشہ تمام جاسوسی کے الزامات کی تردید کی ہے۔

لندن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے حالیہ الزامات کو ’مکمل طور پر بے بنیاد اور مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔

ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چین نے ہمیشہ محفوظ، کھلے اور قواعد و ضوابط پر مبنی عالمی سپلائی چینز کی ترقی کی حمایت کی ہے۔ دنیا بھر میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو مقامی قوانین و ضوابط کی پابندی کرنا لازم ہے۔‘

’اب تک ایسی کوئی قابلِ اعتماد شہادت موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ چینی برقی گاڑیاں برطانیہ یا کسی اور ملک کے لیے سکیورٹی خطرہ ہیں۔‘

جاسوسی کا خدشہ: چینی کمپنیاں کیوں ترقی کو خطرے میں ڈالیں گی؟

دفاع اور سلامتی کے تھنک ٹینک ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ‘ کے تحقیق کار جوزف جارنیسکی کا کہنا ہے کہ ممکنہ خطرات کا تدارک ممکن ہے۔

’چینی کار ساز ادارے ایک نہایت مقابلہ جاتی مارکیٹ میں کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ انھیں چینی قانون کی پابندی کرنا پڑتی ہے جو قومی سلامتی کی ایجنسیوں سے تعاون کا تقاضا کر سکتا ہے، لیکن وہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ سکیورٹی خطرہ بن کر ان کی بین الاقوامی برآمدات متاثر ہوں۔‘

’چینی حکومت بھی اقتصادی ترقی کی ضرورت سے بخوبی واقف ہے۔ اُن کا مقصد صرف نگرانی کرنا نہیں ہے۔‘

لیکن کار انڈسٹری وہ واحد شعبہ نہیں ہے جہاں چینی ٹیکنالوجی برطانوی معیشت میں تیزی سے سرایت کر رہی ہے۔

مسٹر جارنیسکی کا ماننا ہے کہ اہم صنعتوں کے ریگولیٹرز کو اتنے وسائل مہیا کیے جانے چاہییں کہ وہ سائبر سکیورٹی کی نگرانی کر سکیں اور چینی مصنوعات استعمال کرنے والی کمپنیوں کو ممکنہ مسائل سے آگاہ کر سکیں۔

جہاں تک چینی ٹیکنالوجی سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں کا تعلق ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ طویل عرصے تک ہمارے درمیان موجود رہیں گی۔

ڈین سیزر کہتے ہیں کہ ’چاہے آپ کی گاڑی جرمنی یا کسی اور ملک میں بنی ہو، اس میں ممکنہ طور پر کافی چینی پرزے شامل ہوں گے۔‘

’حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر افراد کے پاس سمارٹ فونز اور دیگر آلات ہیں جو چین، امریکہ یا کوریا سے آئے ہیں، اور ہم اس پر زیادہ غور بھی نہیں کرتے۔ تو میرے خیال میں چینی صلاحیتوں کے حوالے سے کچھ حد تک خوف پھیلایا جا رہا ہے۔‘

’ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا کہ چین مستقبل کا ایک بڑا حصہ بننے جا رہا ہے۔‘

More from InDepth