محمد علی جناح کو ’انڈیا‘ کے نام پر کیا اعتراض تھا اور انھوں نے اسے ’گمراہ کُن‘ کیوں قرار دیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تابندہ کوکب
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ہندوستان، انڈیا یا بھارت۔۔۔ آپ نے یہ تینوں نام تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان کے ساتھ وجود میں آنے والی ہمسایہ ریاست انڈیا کے لیے استعمال ہوتے ہوئے دیکھے ہوں گے۔ اگرچہ پاکستان کی ہمسایہ ریاست کا سرکاری نام انڈیا ہی ہے مگر اب اسے تبدیل کر کے صرف ’بھارت‘ کہلانے کا شور ایک بار پھر اٹھ رہا ہے۔
انڈیا میں یہ مطالبہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ’انڈیا‘ وہ نام ہے جس پر تقسیمِ برصغیر کے وقت خود بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے بھی اعتراض کیا تھا اور اسے ’گمراہ کُن‘ قرار دیا تھا۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ انڈیا نام نے ابتدائی دنوں سے ہی ریاست کے اندر بھی کشمکش کو جنم دیا تھا۔ انگریزوں نے برصغیر میں اپنی سلطنت کے نام کے طور پر یونانی زبان سے اخذ شدہ لفظ ’انڈیا‘ کا انتخاب کیا تھا اور اس نام کی نوآبادیاتی بنیاد نے دستور ساز اسمبلی میں اس کے استعمال پر کچھ اعتراضات اٹھائے تھے۔
’کوئی بھی ریاست برطانوی لقب کو اپنانا نہیں چاہے گی‘
تاریخ دان پروفیسر جان کیے نے اپنی کتاب ’انڈیا: اے ہسٹری‘ میں لکھا ہے کہ ’انڈیا‘ لفظ پر کوئی کشمکش نہیں تھی کیونکہ محمد علی جناح مسلمانوں کے نئے ملک کے لیے اسلامی نام ’پاکستان‘ منتخب کر لیا تھا۔‘
جان کیے لکھتے ہیں کہ ’آزادی کے پہلے مرحلے میں ’بھارت‘ بہتر نام معلوم ہوتا تھا کیونکہ لفظ ’انڈیا‘ نوآبادیاتی تضحیک سے بہت زیادہ متاثر تھا۔‘
اُن کے بقول ’اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا کہ سنسکرت ادب کے پورے مجموعے میں کہیں بھی ’انڈیا‘ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ نہ ہی یہ اصطلاح بدھ مت یا جین تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ اور نہ ہی یہ جنوبی ایشیا میں رائج دوسری زبانوں میں سے کسی میں بھی موجود تھا۔‘
جان کیے لکھتے ہیں کہ ’محمد علی جناح اس تاثر میں تھے کہ کوئی بھی ریاست ’انڈیا‘ کے برطانوی لقب کو اپنانا نہیں چاہے گی تاہم انھیں اپنی اس غلط فہمی کا اندازہ اُس وقت ہوا جب آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے نہرو کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا تھا کہ ان کی ریاست ’انڈیا‘ کہلائے گی۔‘
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’ماؤنٹ بیٹن کے مطابق جناح کو جب پتہ چلا کہ وہ (نہرو اور کانگریس پارٹی) خود کو انڈیا کہلانے جا رہے ہیں تو وہ بہت غصے میں تھے۔ اس لفظ کے استعمال سے برصغیر کی بالادستی کا اشارہ ملتا ہے جسے پاکستان کبھی قبول نہ کرتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاریخ دان جان کیے کے مطابق محمد علی جناح کے تحفظات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ’انڈیا‘ بنیادی طور پر دریائے سندھ کے آس پاس کے علاقے کو کہا جاتا تھا جس کا زیادہ تر حصہ پاکستان کے اندر تھا۔
تاریخ دان عائشہ جلال کے مطابق تقسیم کے بعد ماؤنٹ بیٹن ’یونین آف انڈیا‘ اور پاکستان دونوں کے لیے گورنر جنرل کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کے لیے تیار تھے۔
وہ لکھتی ہیں کہ ’لیگی رہنما پاکستان کو ایک علیحدہ اور آزاد ریاست کے طور پر برقرار رکھنے کی اپنی صلاحیت کے بارے میں کافی گھبراہٹ کا شکار تھے۔ انھوں نے کانگریس کے ارادوں پر عدم اعتماد ظاہر کیا اور مسلم لیگ انڈیا کے ’یونین‘ کا لقب اختیار کرنے کے خلاف احتجاج کرتی رہی۔‘
’انڈیا گمراہ کن نام‘
’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی قانون کے پروفیسر مارٹن لاؤ نے اپنے مقالے ’اسلام اینڈ دی کانسٹیٹیوشن فاؤنڈیشن آف پاکستان‘ میں جناح کی جانب سے انڈیا کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جناح نے شکایت کی تھی کہ ’انڈیا‘ نام ’گمراہ کن‘ اور ’الجھن پیدا کرنے والا‘ ہے۔
ستمبر 1947 میں ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے محمد علی جناح کو لندن میں ہندوستانی آرٹ کی ایک نمائش کا اعزازی صدر بننے کی دعوت دی گئی۔ لاؤ لکھتے ہیں کہ محمد علی جناح نے ’انڈیا‘ نام استعمال کرنے کی وجہ سے اس دعوت نامے کو مسترد کر دیا اور ماؤنٹ بیٹن کو لکھا کہ ’افسوس کی بات ہے کہ کسی پراسرار وجہ سے ہندوستان نے لفظ ’انڈیا‘ اپنا لیا ہے جو یقینی طور پر گمراہ کن ہے اور اس کا مقصد الجھن پیدا کرنا ہے۔‘
مسلم لیگ نے تقسیم ہند سے پہلے بھی ’یونین آف انڈیا‘ کے نام پر اعتراض کیا تھا، حالانکہ ایسا کرنے کی وجوہات کے بارے میں بہت کم وضاحت تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نام بدلنے کی قانونی کوششیں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تقسیم کے دو سال بعد ستمبر 1949 میں جب انڈیا کی دستور ساز اسمبلی نے آئین کے مسودے پر بحث شروع کی تو ریاست کے لیے ’ہندوستان‘ کا نام بھی زیر غور آیا لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔
18 ستمبر 1949 کومسودہ سازی کمیٹی کے چیئرمین، بی آر امبیڈکر نے آرٹیکل 1 کے مسودے میں ایک ترمیم پیش کی، جس میں تجویز کیا گیا، ’ہندوستان یعنی بھارت ریاستوں کا ایک اتحاد ہو گا۔‘
محقق وقار مصطفیٰ ٹائمز آف انڈیا کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس تجویز نے دستور ساز اسمبلی کے اراکین میں ایک پرجوش بحث کو جنم دیا۔
’بھارت‘ نام کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اس کی گہری تاریخی اور ثقافتی جڑیں ہیں جبکہ مخالفین کا خیال تھا کہ ’انڈیا‘ دوسرے ممالک میں استعمال ہونے کی وجہ سے زیادہ موزوں نام ہے۔
اسمبلی کے ایک رکن ایچ وی کماتھ نے امبیڈکر کے جملے کو اناڑی قرار دیتے ہوئے دو متبادل نام تجویز کیے: ’بھارت یا انگریزی زبان میں انڈیا، ریاستوں کا اتحاد ہوگا۔۔۔‘ یا ’ ہند یا انگریزی زبان میں انڈیا ریاستوں کی یونین ہو گی۔‘
انھوں نے نشاندہی کی کہ بہت سے دوسرے ممالک میں ہندوستان کو اب بھی ’ہندوستان‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس کے باشندوں کو ہندو کہا جاتا تھا، چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو۔
سیٹھ گووند داس، کملا پتی ترپاٹھی، کلور سبھا راؤ، رام سہائے اور ہر گووند پنت نے بھی ’بھارت‘ کے حق میں ہونے والی بحث میں حصہ ڈالا۔
گووند داس نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہندوستان‘ ایک نسبتاً حالیہ اصطلاح تھی جسے اس خطے میں یونانیوں کی آمد کے بعد متعارف کرایا گیا تھا جبکہ ’بھارت‘ کی گہری تاریخی اور ثقافتی جڑیں قدیم تحریروں جیسے ویدوں، اپنشدوں، برہمنوں، مہا بھارت اور پرانوں میں تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ ’بھارت‘ ملک کی بھرپور تاریخ اور ثقافت کی بہتر نمائندگی کرتا ہے۔
کلور سبا راؤ نے مزید کہا کہ ’انڈیا سندھو یا انڈس سے ماخوذ ہے۔‘ جو دریائے سندھ سے قربت کی وجہ سے پاکستان کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ یہاں تک کہ انھوں نے ہندی زبان کا نام بدل کر ’بھارتی‘ رکھنے کی تجویز پیش کی تاکہ اسے ’بھارت‘ کے جذبے سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
رام سہائے نے مختلف ہندوستانی خطوں کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے ’بھارت‘ کی حمایت کی جہاں اسے عام طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔
کملا پتی ترپاٹھی نے زور دے کر کہا کہ صدیوں کی غیر ملکی حکمرانی کے باوجود ’بھارت‘ نام قائم ہے اور اس کی جڑیں ہندوستان کی ثقافت اور تاریخ میں گہری ہیں۔
ترپاٹھی نے رگ وید، اپنشد، کرشن اور بدھا کی تعلیمات، شنکراچاریہ، اور رام کی کمان اور کرشن کا پہیہ جیسی مشہور علامتوں کو اجاگر کرتے ہوئے ’بھارت‘ سے وابستہ ثقافتی اور فلسفیانہ خوبیوں کو اجاگر کیا۔ انھوں نے دلیل دی کہ ’بھارت‘ نام ایک شاندار ماضی کی نمائندگی کرتا ہے جسے قوم کو اپنانا چاہیے۔
بی آر امبیڈکر کے تحفظات کے باوجود اسمبلی کے صدر راجندر پرساد نے ہرگووند پنت کو ’بھارت ورش‘ کے لیے کیس بنانے کی اجازت دی ۔
آخر میں، دستور ساز اسمبلی کے اندر شوآف ہینڈز کے نتیجے میں کماتھ کی تجویز کے حق میں 38 اور مخالفت میں 51 ووٹ آئے۔ نتیجتاً اصل لفظ ’انڈیا یعنی بھارت ریاستوں کا ایک اتحاد ہو گا‘ غالب ہوا۔
وقار مصطفیٰ رفعت ندیم احمد کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ جناح کا ماننا تھا کہ ’انڈیا‘ تمام برصغیر کے لیے مناسب ہے نہ کہ اس کے ایک حصے کے لیے۔
’لیکن وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ نہرو نے برصغیر کی تمام تاریخی اور ثقافتی میراث پر دعویٰ تو کر دیا تھا لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ نام جغرافیائی طور پر ان کی نئی ریاست پر لاگو نہیں ہوتا تھا۔‘
احمد لکھتے ہیں ’یوں جب 1950 میں ہندوستانی آئین بنا تو اس میں نئی جمہوریہ کو ’انڈیا وہی بھارت‘ کہا گیا۔
یعنی ایک ہی جملے میں دو نام مختص کیے گئے۔ اسی لیے پاکستان کے برعکس، ملک کے نام کی بحث آج بھی انڈیا میں موجود ہے۔
احمد لکھتے ہیں کہ ’ہوا یوں کہ 5,500 سال پرانی تہذیب پر تعمیر ہونے والے پاکستان کا نام مخفف پر رکھا گیا، جب کہ بھارت، جس کا ماضی اتنا ہی قابل احترام ہے، چار ناموں پر منتج ہوا: بھارت، جس کا مطلب ہے سندھ کی سر زمین، جو آج کا پاکستان ہے۔۔۔ ہند، جس کا مطلب ہے سندھ، جو آج پاکستان میں ہے۔ ہندوستان، جس کا مطلب ہے سندھ کی سرزمین، جو پاکستان میں بھی ہے اور بھارت، ایک افسانوی بادشاہ یا قبیلہ، جس کا وجود ہو سکتا ہے ہو یا ہوسکتا ہے نہ ہو۔‘
اپنی اس دلیل کی بنیاد پر احمد جین آر میکنٹوش کی کتاب ’دا اینشنٹ انڈس ویلی‘ کو قرار دیتے ہیں۔
اب انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 1 میں انگریزی ورژن میں ’انڈیا‘ اور ’بھارت‘ کا استعمال کیا گیا ہے اور ہندی ورژن میں ’بھارت‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔
بظاہر اب تک واقعتاً ’انڈیا‘ نام کو کسی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ میڈیا میں بھی مستعمل ہونے لگا۔ البتہ سیاست کے اتار چڑھاؤ کے دوران کئی بار انڈیا کی بجائے ’بھارت‘ نام کو برقرار رکھے جانے کا مطالبہ سامنے آتا تھا۔
سنہ 2020 میں بھی انڈیا میں ملک کا نام بدلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا جاتا رہا کہ انڈیا کا نام صرف بھارت کیا جائے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے اس درخواست کو خارج کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ آئین میں پہلے سے ہی بھارت نام درج ہے۔ آئین میں لکھا ہے کہ ’انڈیا دیٹ از بھارت‘ (یعنی انڈیا جو بھارت ہے۔)
اور آج کل انڈیا میں ایک مرتبہ پھر یہ بحث شد و مد سے جاری ہے جس کا آغاز اس وقت ہوا جب انڈیا میں جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈین صدر دروپدی مرمو کی جانب سے عشائیے کے لیے بھیجے گئے دعوت نامے پر لفظ ’پریزیڈنٹ آف انڈیا‘ کی جگہ ’پریزیڈنٹ آف بھارت‘ لکھا گیا۔
فی الحال نام کے معاملے پر یہ ہنگامہ انڈیا میں سیاسی کشیدگی کا باعث بن رہا ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس مرتبہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔











