پوپ فرانسس کا انتباہ ’دنیا بے حسی کی طرف جا رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہFranco Origlia
مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کرسمس کے دن اپنے پیغام میں خبردار کیا ہے کہ دنیا بحرانوں اور حادثات کے بارے میں اس قدر بے حس ہوتی جا رہی کہ اب رونما ہونے والے بحرانوں کا بہت کم ہی نوٹس لیا جاتا ہے۔
دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے اربوں مسیحیوں سے اپنے سالانہ پیغام میں پوپ فرانسس نے شام، یمن اور عراق کے علاوہ افریقہ، یورپ اور ایشیا میں پائی جانے والی بے چینی اور ابتر صورت حال کی طرف اشارہ کیا۔
پوپ فرانسس نے کووڈ کی عالمی وبا کے بارے میں کہا کہ اس وبا کا اثر یہ پڑا ہے کہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے بھی اقوام عالم کا عزم کمزور پڑ گیا ہے۔
اس سال انھوں نے کھلے میں تقریر کی جبکہ گذشتہ سال انھوں نے ہال کے اندر تقریر کی تھی۔
ہزاروں کی تعداد میں مسیحیوں کے کیتھولک فرقے کے پیروکاروں نے روم میں سینیٹ پیٹرز چرچ کے باہر کووڈ کی پابندیوں کی پاسداری کرتے ہوئے چہروں پر ماسک لگا کر پوپ فرانسس کا سالانہ خطاب سنا۔
عالمی وبا کے مضر سماجی اثرات پر بات کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا کہ لوگوں میں اپنی جان چھڑانے کا رحجان بڑھ رہا ہے بجائے اس کے وہ مل کر آگے آئیں اور صورت حال کا مقابلہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر مذاکرات سے گریز کرنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور خدشہ یہ ہے کہ یہ پیچیدہ بحران عارضی حل کی طرف لے جائے گا اور تنازعات کو حل کرنے کے لیے مشکل اور طویل راستہ اختیار کرنے سے لوگ گریز کرنے لگیں گے۔
'ہمارے سامنے تنازعات، جھگڑوں اور بحرانوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا اختتام ہوتا نظر نہیں آتا اور ہم اب ان پر توجہ بھی نہیں دیتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'ہم اس صورت حال کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ بڑے بڑے حادثات خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔'
انھوں نے شام، عراق اور یمن کی طرف اشارہ کیا کہ اتنے بڑے بڑے المیے جن کو ہر کسی نے نظر انداز کیا اور وہ خاموشی سے کئی سال سے جاری ہیں۔
انھوں نے لوگوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطین اور اسرائیل کے تنازعہ کو ذہن میں رکھیں اور لبنان میں معاشی اور سماجی بحران سے بھی غافل نہ ہوں جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
پوپ فرانسس نے گذشتہ چالیس برس سے مشکالات کا شکار افغانستان کے لوگوں کی مشکلوں کو دور کرنے کے لیے دعا کی اور ساتھ ہی انھوں نے میانمار میں عدم برداشت اور تشدد کا نشانہ بننے والے مسیحیوں اور ان عبادت گاہوں کو محفوظ رکھنے کی بھی دعا کی۔







