شمالی وزیرستان: چھ فوجی اور نو شدت پسند ہلاک

شمالی وزیرستان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز گشت پر رہتی ہیں

شمالی وزیر ستان کے علاقے دتہ خیل کے قریب ایک گاؤں میں سکیورٹی فورسز پر حملے اور اس کے حواب میں کی جانے والے کارروائی میں پاکستان فوج کے ایک آفسر سمیت چھ فوجی اور نو شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے پشاور سے اطلاع دی ہے کہ دتہ خیل کے قریب ایک گاؤں میں ہفتے کی صبح سکیورٹی فورسز پر معمول کے گشت کے دوران حملہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

اس حملے میں پاکستان کی فوج کے ایک آفسر سمیت چھ فوجی ہلاک ہو گئے۔

حملے کے فوراً بعد پاکستان کی فوج نے پورے علاقے میں ایک بڑی فوجی کارروائی کی اور علاقے میں چھپے شدت پسندوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

سکیورٹی فورسز نے اس کارروائی میں نو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔

اس کارروائی کی مزید تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں ہیں اور پاکستان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے کچھ نہیں کہا جا رہا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں کو حال ہیں میں صوبۂ پختوانخواہ میں ضم کر لیا گیا اور اب یہ قبائلی ایجنسیاں صوبۂ کا باقاعدہ حصہ بن گئی ہیں۔

شمالی وزیرستان

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI

،تصویر کا کیپشناس علاقے میں شدت پسندوں سے سخت مزاحمت کا سامنا رہے ہے

شمالی وزیرستان وہ علاقہ جہاں پر فوجی کارروائی کرنے کے لیے پاکستان پر امریکہ کی طرف سے بہت دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔

سنہ دو ہزار سات کے بعد اس علاقے میں ڈیڑھ سو سے زیادہ ڈرون حملے بھی ہوئے ہیں جن میں آٹھ سو سے زیادہ مقامی اور درجنوں میں بیرونی شدت پسند مارے گئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں سنہ دو ہزار چودہ میں بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا جس کے بعد یہاں شدت پسندوں گروہوں جن میں تحریک طالبان پاکستان شامل ہے کو پسپاہی اختیار کرنا پڑی تھی اور وہ سرحد پار کر کے افغانستان چلے گئے تھے۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسرحد پر باڑ اور سرحدی چوکیاں شدت پسندوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے تعمیر کی گئی ہیں

پاکستان فوج نے افغانستان سے شدت پسندوں کے پاکستان میں داخلے کو روکنے کے لیے سرحد کے ساتھ باڑ بھی لگا دی ہے۔