مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے ایک اعلان کے مطابق پاکستانی فوج کے مزید دستوں کو مشاورتی اور تربیتی مشن پر سعودی عرب میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر نواف سیعد المالکی اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ایک ملاقات میں کیا گیا۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سعودی سفیر اور پاکستانی فوج کے سربراہ کے درمیان یہ اہم ملاقات راولپنڈی میں پاکستان فوج کے ہیڈ کواٹر میں جمعرات کو ہوئی۔
آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کتنے مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان کی تعیناتی کی مدت کیا ہو گی۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے درمیان جنرل باجوہ اور سعودی عرب کے سفیر نے خطے کی دفاعی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فوج کے تازہ دم دستے سعودی عرب میں پہلے سے موجود پاکستانی فوجیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور پاکستان فوج کے ان دستوں کو سعودی عرب سے باہر کسی ملک میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ چند سال قبل سعودی عرب نے یمن پر حملے سے پہلے پاکستان سے اپنی فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی جس کو پارلیمنٹ کی ایک قراد داد پیش ہونے کے بعد مسترد کر دیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی عرب میں 1180 پاکستانی فوجی پہلے سے تعینات ہیں جو سنہ 1982 میں ہوئے ایک باہمی معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے گئے تھے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات ہیں اور پاکستان کا نام 41 ممالک پر مشتمل اس اتحاد میں شامل ہے جو سعودی عرب نے اسلامی شدت پسندی کو ختم کرنے کے نام پر قائم کیا ہے۔
اس اسلامی اتحاد کی مشترکہ فوج کی سربراہی بھی پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپ دی گئی تھی۔
یہ اتحاد سعودی عرب کے جواں سال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال تشکیل دیا تھا۔











