’صدر کو وزیر اعظم کی سمری مسترد کرنے کا اختیار نہیں‘

صدر ممنون حسین

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر ممنون حسین سے بھی سپریم کورٹ نے وضاحت طلب کر لی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ صدر مملکت کو وزیر اعظم کی طرف سے قومی احتساب بیورو میں پراسیکوٹر جنرل تعینات کرنے کے بارے میں بھجوائی گئی سمری کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) میں پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی نہ ہونے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پراسیکوٹر جنرل کی تعیناتی کی سمری وزارت قانون نے وزیر اعظم کی مشاورت سے صدر مملکت کو بھجوائی تھی تو پھر وہ کس قانون کے تحت اس سمری کو مسترد کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر صدر مملکت کو اس سمری کے بارے میں کوئی تحفظات تھے تو وہ اس کو واپس وزیر اعظم کو بھجوا سکتے تھے لیکن مسترد کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ نے صدر مملکت کی طرف سے اس سمری کو مسترد کیے جانے کے بارے میں وضاحت بھی طلب کی ہے۔

سیکریٹری قانون نے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت کی طرف سے پراسییکوٹر کی تعیناتی کے لیے جو سمری بجھوائی گئی تھی اس کو مسترد کیے جانے کے بعد نیب میں پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی تاخیر کا شکار ہے۔

حکمراں جماعت نے نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مشاورت سے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی کے لیے پانچ افراد کے ناموں پر اتفاق کیا تھا جن میں سے کسی ایک کو نیب کا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کیا جانا تھا۔

ان ناموں میں جسٹس ریٹائرڈ فصیح الملک، جسٹس ریٹائرڈ اصغر حیدر، جسٹس ریٹائرڈ ناصر سعید شیخ ، مدثر خالد اور شاہ خاور شامل ہیں۔

صدر مملکت نے اس سمری کو مسترد کرتے ہوئے تین نام نیب کے چیئرمین کو بھجوائے تھے کہ ان پر غور کریں ان ناموں میں وقار حسن میر، چوہدری رمضان اور نجیب فیصل چوہدری شامل ہیں تاہم نیب کے چیئرمین نے صدر مملکت کی طرف سے بھجوائے گئے ان ناموں پر اتفاق نہیں کیا ا ور اُنھیں مسترد کردیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں درخواست کو مسترد کردیا تھا اور نیب کا پراسیکوٹر جنرل نہ ہونے کی وجہ سے نیب اس مقدمے کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو قائل نہ کرسکا۔

دوسری جانب نیب نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹی کے بارے میں ایک ضمنی ریفرنس بھی دائر کیا ہے۔

اس ریفرنس میں ملزمان کی طرف سے مختلف ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس ضمنی ریفرنس میں سات سرکاری گواہان بنائے گئے ہیں جن میں نیب کے حکام کے علاوہ وزارت اطلاعات کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ نیب حکام کے مطابق ان سرکاری گواہوں میں پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاء بھی سرکاری گواہوں میں شامل ہیں۔