’20 درہم کماتے ہیں، شرٹیں کہاں سے خریدیں‘

پاکستان سپر لیگ
،تصویر کا کیپشندبئی میں کھیلوں کا سامان فروخت کرنے والی زیادہ تر دکانوں پر پاکستان سپر لیگ سے جڑی اشیا فروخت کے لیے موجود ہی نہیں ہیں اور جن کے پاس ہیں بھی تو وہ گذشتہ سال کی ہی ہیں
    • مصنف, ذیشان علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

متحدہ عرب امارت میں جاری دوسری پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے یہاں لوگوں میں تھوڑا بہت جوش و خروش تو ضرور ہے لیکن یقیناً ویسا نہیں جیسا پاکستان میں اس لیگ کے ہونے سے ہو سکتا تھا۔

پاکستان سپر لیگ کے میچ دبئی اور شارجہ میں کھیلے جا رہے ہیں جنھیں دیکھنے کے لیے زیادہ تعداد یہاں ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کی ہے۔

آپ دبئی کی سڑکوں پر نکلیں اور وہاں گھومنے والوں سے پی ایس ایل کے حوالے سے کوئی سوال پوچھیں تو جواب میں وہ آپ سے سوال کرتے ہیں 'یہ کیا ہے، ہم تو نہیں جانتے۔'

لیکن اگر یہی لیگ پاکستان میں ہو رہی ہوتی اور آپ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں یہ سوال کرتے تو جواب مختلف ہوتا۔

دبئی میں کھیلوں کا سامان فروخت کرنے والی زیادہ تر دکانوں پر پاکستان سپر لیگ سے جڑی اشیا فروخت کے لیے موجود ہی نہیں ہیں اور جن کے پاس ہیں بھی تو وہ گذشتہ سال کی ہی ہیں۔

کھیلوں کا سامان فروخت کرنے والے ایک دکاندار سے جب اس حوالے سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا 'اب تو لوگ آن لائن ہی خریداری کر لیتے ہیں۔'

محمد نعمان رضا دکاندار
،تصویر کا کیپشنمجھے اس بات کی توقع نہیں تھی کہ اس بار پی ایس ایل کی ٹیموں کے یونیفارم تبدیل ہو جائیں گے: محمد نعمان رضا

محمد نعمان رضا نامی دکاندار کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کی توقع نہیں تھی کہ اس بار پی ایس ایل کی ٹیموں کے یونیفارم تبدیل ہو جائیں گے، اس لیے انھوں نے گذشتہ سال کے یونیفارم ہی فروخت کرنے کے لیے منگوا لیے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا 'گذشتہ سال کی نسبت اس بار شرٹس کم فروخت ہو رہی ہیں اور گذشتہ سال کی طرح کاروبار نہیں ہے۔'

اسی حوالے سے ملازمت کے لیے آئے چند پاکستانیوں سے بات کی تو ان میں سے ایک شخص نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا 'ہم دن کے 20 درہم کماتے ہیں، شرٹیں کہاں سے خریدیں اور میچ کہاں سے دیکھیں۔'

کرکٹ بیٹ
،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال کی طرح اس بار کاروبار نہیں ہے: محمد نعمان رضا

ان کا کہنا تھا کہ پیسے مل بھی جائیں تو اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ میچ دیکھنے جائیں۔

جو لوگ میچ دیکھنے جاتے ہیں وہ سٹیڈیم کے قریب ہی بسنے یا ملازمت کرنے والا طبقہ ہے کیونکہ سٹیڈیم تک جانے کے لیے بھی آپ کو اچھا خاصہ راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے بعد میچوں کا دوبارہ آغاز شارجہ میں ہوگا جہاں عام طور پر پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد میچ دیکھنے کے لیے آتی ہے۔

گذشتہ سال بھی شارجہ میں ہی تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد پی ایس ایل کے میچز دیکھنے آئی تھی اور انتظامیہ کو اس بار بھی ایسے ہی ہجوم کی امید ہے۔