شام میں جنگ بندی کا پہلا دن نسبتاً پر امن

ابھی تک مجموعی طور پر جنگ بندی قائم ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنابھی تک مجموعی طور پر جنگ بندی قائم ہے

شام سے ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ پیر کی شام سے نافذ جنگ بندی بہت حد تک صحیح طور پر قائم ہے اور پہلے دن کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ انھیں 15 گھنٹوں سے جاری جنگ بندی میں کسی شہری کی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ہیں۔

٭ <link type="page"><caption> شام میں امن کا طویل اور پُرخطر سفر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/09/160908_syria_long_path_to_piece_sr" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> امریکہ اور روس شام میں جنگ بندی کےمعاہدے پر متفق</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/09/160909_syria_us_russia_pact_rh" platform="highweb"/></link>

شام کا جنگ زدہ شمالی شہر حلب بھی ابھی تک پرامن ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے جنگ بندی کے اس معاہدے کو ممکنہ طور پر ’متحدہ شام کے لیے آخری موقعے‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔

تاہم جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے بعض خبروں میں حکومت اور باغیوں دونوں جانب سے اکا دکا حملوں کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔

آبزرویٹری نے کہا کہ انھوں نے بعض رپورٹس دیکھی ہیں جن میں حما صوبے کے بعض گاؤں پر فضائی بمباری اور دمشق کے قریب شیلنگ ہوئي ہے۔

حلب کے علاقے میں بچے ایک بم پر کھیل رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنحلب کے علاقے میں بچے ایک بم پر کھیل رہے ہیں

شام کی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ بندی پر پورے ملک میں سات دنوں تک عمل کیا جائے گا لیکن اسے مسلح جنگجوؤں کی جانب سے کسی خلاف ورزی کی صورت میں فیصلہ کن انداز میں جواب دینے کا حق حاصل ہے۔

باغیوں کے کئی دھڑوں کی جانب سے اس معاہدے کی محتاط پزیرائي کی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ انھوں نے اس کے نفاذ پر خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔

یہ معاہدہ جمعے کو روس اور امریکہ کے درمیان مہینوں کی بات چیت کے بعد طے پایا ہے۔ اس کے تحت دونوں جانب سے محصور علاقوں میں انسانی بنیادوں پر دی جانے والی بے روک ٹوک امداد بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں اور بطور خاص حلب تک امداد پہنچانے کے لیے پرامید ہیں۔

اگر یہ معاہدہ سات دنوں تک برقرار رہا تو امریکہ اور روس جہادی عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ حملے کریں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں محصور علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے پرامید ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنانسانی حقوق کی تنظیمیں محصور علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے پرامید ہیں

شام میں باغی گروہ فری سیریئن آرمی نے کہا ہے کہ وہ اس جنگ بندی میں مثبت انداز میں معاونت کریں گے تاہم ان کا خیال ہے کہ اس سے شامی حکومت کو فائدہ پہنچے گا۔

ادھر ایک اور طاقتور تنظیم احرار الشام نے اس معاہدے کو پہلے تو مسترد کر دیا تھا لیکن اب ان کا رویہ نرم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اس سے قبل صدر بشار الاسد نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ شام کی ’حکومت اب بھی دہشت گردوں سے ایک ایک علاقہ واپس لینے اور تعمیر نو کے لیے پرعزم ہے۔‘

شام میں شورش کا آغاز پانچ سال پہلے صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت سے ہوا تھا اور اب تک اس میں کم سے کم تین لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔