’دولتِ اسلامیہ کو شکست دینا ہماری ذمہ داری ہے‘

صدر اردوغان نے اپنے بیان میں کہا کہ شام میں جاری آپریشن فرات نامی ترک فوجی آپریشن دولتِ اسلامیہ کے خلاف پہلا قدم ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر اردوغان نے اپنے بیان میں کہا کہ شام میں جاری آپریشن فرات نامی ترک فوجی آپریشن دولتِ اسلامیہ کے خلاف پہلا قدم ہے

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو شکست دینا ترکی کی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ترکی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ شدت پسند ان کے ملک میں کوئی کارروائی کرنے کے قابل نہ ہوں۔

ادھر ترک فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے فضائی حملوں میں دولتِ اسلامیہ کے 20 جنگجؤ مارے ہیں۔

یاد رہے کہ دو روز قبل ہی مذاکرات کے بعد امریکہ اور روس نے شام میں 12 ستمبر کو غروب آفتاب سے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں طے کیا گیا ہے کہ باغیوں کے کنٹرول میں مخصوص علاقوں کے خلاف شامی حکومت کارروائی نہیں کرے گی۔

شام میں جنگ بندی کے لیے امریکہ اور روس کی جانب سے منصوبے کے اعلان کے بعد باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں کم سے کم 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ادلب میں ایک بازار پر حملے میں 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حلب میں ہونے والے فضائی حملوں میں 45 لوگ مارے گئے ہیں۔

صدر اردوغان نے اپنے بیان میں کہا کہ شام میں جاری آپریشن فرات نامی ترک فوجی آپریشن دولتِ اسلامیہ کے خلاف پہلا قدم ہے۔

اسی بیان میں انھوں نے ترکی کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم کرد ورکرز پارٹی کو شکست دینے کے عزم کی تائید بھی کی۔

یاد رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد روس کے حامی ہیں۔ امریکہ اور روس کے درمیان مذاکرات میں طے پایا کہ دونوں ممالک کا مشترکہ سینٹر قائم کیا جائے گا جو اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور النصرہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

یہ منصوبہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے دوران ایک روزہ بات چیت میں طے پایا۔

جان کیری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس منصوبے کے تحت شامی حکومت اور باغی دونوں ہی کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ شام میں باغیوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ شامی حکومت بھی سنجیدگی دکھائے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ روس نے شامی حکومت کو اس منصوبے سے آگاہ کیا ہے اور شامی حکومت اس پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔