کولمبیا میں باغیوں سے امن معاہدے پر جشن

 معاہدے کی خوشی میں سینکڑوں افراد بگوٹا شہر کے مختلف حصوں میں جمع ہوئے اور انھوں نے نعرے لگا کر خوشی کا اظہار کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن معاہدے کی خوشی میں سینکڑوں افراد بگوٹا شہر کے مختلف حصوں میں جمع ہوئے اور انھوں نے نعرے لگا کر خوشی کا اظہار کیا

کولمبیا میں سینکڑوں افراد نے حکومت اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے فارک باغیوں کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔

52 سال پر محیط پرتشدد جدوجہد کے بعد ہونے والے اس امن معاہدے کا اعلان کیوبا کے شہر ہوانا میں کیا گیا جہاں گذشتہ دو سال سے زائد عرصے سے امن مذاکرات ہو رہے تھے۔

پانچ دہائیوں سے زائد عرصے میں ہونے والے پرتشدد کارروائیوں میں سوا دو لاکھ کے قریب افراد ہلاک اور کئی لاکھ بےگھر ہو چکے ہیں۔

کولمبیا کے صدر مینوئل سینٹوس نے امن معاہدے کو ’جنگ کی تکالیف، دکھ اور المیے‘ کے خاتمے کا آغاز قرار دیا۔

کولمبیا کی حکومت اور فارک مذاکرات کاروں نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ کولمبیا کی حکومت اور فارک تنظیم کا حتمی، مکمل اور منطقی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

کیوبا میں ہونے والی ایک تقریب میں کولمبیا کے وفد کے سربراہ امبرٹو دی لا کال اور فارک کے چیف مذاکرات کار ایوان ماکیز نے دستخط کیے۔

فریقین نے سماجی تفریق ختم کرنے، تشدد کا نشانہ بننے والوں کے لیے انصاف کی فراہمی اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

کیوبا میں ہونے والی ایک تقریب میں کولمبیا کے وفد کے سربراہ امبرٹو دی لا کال اور فارک کے چیف مذاکرات کار ایوان ماکیز نے معاہدے پر دستخط کیے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکیوبا میں ہونے والی ایک تقریب میں کولمبیا کے وفد کے سربراہ امبرٹو دی لا کال اور فارک کے چیف مذاکرات کار ایوان ماکیز نے معاہدے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کی خوشی میں سفید لباس میں ملبوس سینکڑوں افراد بگوٹا شہر کے مختلف حصوں میں جمع ہوئے اور انھوں نے کولمبیا کا قومی پرچم لہرا کر اور نعرے لگا کر خوشی کا اظہار کیا۔

فریقین کی درمیان ہونے والے اس معاہدے کی ابھی عوامی ووٹ کے ذریعے توثیق ہونا باقی ہے جو دو اکتوبر کو ہو رہے ہیں۔

کولمبیا کے سابق صدر الوارو اریبے اس معاہدے کو مسترد کرانے کیے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

فارک کیا ہے؟

کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج، جنھیں ہسپانوی زبان میں ان کے نام کے پہلے حروف کی وجہ سے فارک کے نام سے جانا جاتا ہے، ملک کی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی سب سے بڑی باغی تنظیم ہے۔

اس کا قیام سنہ 1964 میں کمیونسٹ پارٹی کے مسلح ونگ کی حیثیت سے آیا تھا اور اس کے ارکان مارکسسٹ لیننسٹ نظریے کے پیرو کار ہیں۔

فارک کے ارکان گذشتہ 52 سال سے کولمبیا کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے آ رہے ہیں اور یہ لاطینی امریکی کی طویل ترین مسلح تحریک ہے۔

اس تنظیم نے بانی ارکان چھوٹے کاشت کار اور ہاری تھے جنھوں نے مشترکہ طور پر اس وقت کولمبیا میں پائی جانے والی انتہائی عدم مساوات کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔

اگرچہ فارک میں کچھ شہری گروپ بھی تھے لیکن یہ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنی تاریخ میں بڑی حد تک دیہی چھاپہ مار تنظیم ہی رہی ہے۔