حسکہ پر شامی بمباری کے بعد امریکی طیارے وہاں پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی فوج کے مطابق شام کے شہر حسکہ میں موجود امریکی سپیشل فورسز کو شامی طیاروں کی بمباری سے بچانے کے لیے جنگی طیارے بھیجے گئے ہیں۔
امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون کے بقول جب امریکی فضائیہ کے طیارے وہاں پہنچے تو شامی طیارے واپس جا رہے تھے۔
پیٹاگون کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس بقول شامی طیاروں کی بمباری سے امریکی فوجی براہراست متاثر نہیں ہوئے ہیں۔
٭ <link type="page"><caption> حلب کے زخمی بچے کی تصویر پر غم و غصہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160818_aleppo_boy_outrage_ra" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> دولتِ اسلامیہ ’انسانی ڈھال‘ استعمال کر کے شہر سے فرا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160819_syria_manbij_photo_sr" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> ر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/08/160819_syria_manbij_photo_sr" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ شام کی حکومتی افواج کے جنگی طیارے دو روز سے حسکہ میں کرد علاقوں میں بمباری کر رہے ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد نے علاقے سے نقل مکانی کی ہے۔
حسکہ شامی کرد ملیشیا وائی پی جی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور شامی حکومت کا موقف ہے کہ فضائی بمباری کرد جنگجوؤں کی جانب سے اشتعال انگیزی کا جواب ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ کے 300 انتہائی تربیت یافتہ فوجی اس وقت شام کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور یہ امریکی فوجی باغی جنگجوؤں کو تربیت فراہم کرنے ساتھ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پینٹاگون کا کہنا تھا کہ امریکہ کی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد نے جمعرات کو زمین پر موجود اتحادی افواج کو شامی فوجوں کی بمباری سے بچانے اور ان کے وہاں سے انخلا کے لیے طیارہ بھیجا ہے۔
خیال ہے کہ وائی پی جی کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف سرگرم ہے تاہم حال ہی میں اس نے حسکہ صوبے میں کئی اضلاع میں حکومتی قبضہ ختم کیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر براک اوباما نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مقامی ملیشیا کی مدد کے لیے خصوصی فوجی دستے تعینات کرنے کی اجازت دی تھی تاہم وہ بڑے پیمانے پر زمینی فوج بھیجنے سے مسلسل انکار کرتے آئے ہیں۔







