’مصری طیارے کے ڈیٹا ریکارڈر کی مرمت کر لی گئی‘

امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ماہرین حادثے کی وجوہات بیان کرسکیں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ماہرین حادثے کی وجوہات بیان کرسکیں گے

مصر کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ حادثے کا شکار ہونے والے ایجپٹ ایئر کے طیارے کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کی فرانس میں کامیابی کے ساتھ مرمت کر لی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے ایئر بس اے 320 کے کاک پٹ وائس ریکارڈر پر کام ’چند گھنٹوں میں‘ شروع کر دیا جائے گا۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ماہرین حادثے کی وجوہات بیان کر سکیں گے۔

خیال رہے کہ 19 مئی کو ایجپٹ ایئر کی پیرس سے قاہرہ جانے والی پرواز ایم ایس 804 بحیرۂ روم میں گر کر تباہ ہوگئی تھی اور اس میں سوار تمام 66 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر کے تفتیشی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کی فرانس کی حادثات کی تفتیش کرنے والی ایجنسی کی لیبارٹری میں کامیابی سے مرمت کر لی گئی ہے‘

وائس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کو عام طور کر بلیک بکس بھی کہا جاتا ہے اور پیر کو اسے مرمت کے لیے قاہرہ سے پیرس پہنچایا گیا تھا۔ اس بلیک بکس کو ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے لیے قاہرہ واپس بھیجا جائے گا۔

19 مئی کو ایجپٹ ایئر کی پیرس سے قاہرہ جانے والی پرواز ایم ایس 804 بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہوگئی تھی

،تصویر کا ذریعہAlex Snow Airteamimages.com

،تصویر کا کیپشن19 مئی کو ایجپٹ ایئر کی پیرس سے قاہرہ جانے والی پرواز ایم ایس 804 بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہوگئی تھی

پیرس میں استغاثہ حادثے سے متعلق قتل عام کی تفتیش شروع کر رہی ہے۔

استغاثہ کی خاتون ترجمان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس کا آغاز حادثے کی تفتیش کے طور پر ہوگا کیونکہ تاحال اس میں دہشت گردی کے شواہد نہیں ملے۔

تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ایئر بس اے 320 کو جان بوجھ کر نہیں گرایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ فلائٹ ریکارڈر مصری ساحل سے 290 کلومیٹر شمال میں 3,000 میٹر گہرائی سے جہاز کے ملبے سے ملے تھے۔

یونان کے تفتش کاروں کے مطابق جہاز پہلے 90 ڈگری پر بائیں جانب اور پھر دائیں جانب 360 ڈگری پر گھوما۔

جہاز کی بلندی 11 ہزار میٹر سے کم ہو کر 4,600 میٹر ہوئی اور پھر جہاز 3,000 میٹر کی بلندی پر آنے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔