’ہندوستانی فوجیوں‘ کے لیے برطانیہ میں مہم

ہندوستان کی تقسیم سے قبل وہاں سے تعلق رکھنے والے دس لاکھ سے زیادہ فوجیوں نے پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کی جانب سے حصہ لیا۔
اس جنگ کے دوران 70 ہزار ہندوستانی فوجی مارے گئے تاہم تاریخ دانوں سمیت کئی افراد کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی قربانیوں کو فراموش کر دیا گیا ہے۔
برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا ’ہاؤس آف لارڈز ‘ کے رکن لارڈ نوین ڈھولکا نے ان فوجیوں کے جنگ میں حصہ داری کے حوالے سے ایک مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں خاص کر برطانیہ میں بچوں کو پڑھائی جانے والے تاریخ کی کتابوں میں ان کا ذکر شامل کرانا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ’ تاریخ میں طالب علموں کو دوسری برادریوں کی حصہ داری کے بارے میں نہیں پڑھایا جاتا ہے اور جب بھی ان سے اس بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں تو اس کے بارے میں انھیں زیادہ علم نہیں ہوتا۔
’میں چاہتا ہوں کہ ہندوستانی فوجیوں کے پہلی عظیم میں کردار کے بارے میں سکولوں میں بچوں کو پڑھایا جائے۔‘
انھوں نے کہا ہے کہ برطانیہ کو اپنا گھر کہنے والے ہندوستانی تارکین وطن کی برطانیہ میں سکونت کے حوالے سے تذکرے میں یہ لازمی پہلو یا حصہ ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ لوگوں کے لیے اہم ہے کہ وہ اس کو سمجھیں، کن حالات میں لوگ اس ملک میں آئے، ان سے کیسا سلوک کیا گیا اور شروع کے دنوں میں تمام منفی اسباب کے برعکس کس طرح ہماری برادری نے ترقی کی۔‘
کتابوں میں صرف ایک تصویر کے نیچے درج معلومات کے علاوہ جی سی ایس ای کے امتحانات کی کتابوں میں ہندوستانیوں کی حصہ داری کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کنگز کالج میں ڈاکٹر شنتانو داس نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ہندوستانی فوجیوں کی شمولیت کے بارے میں متعدد کتابیں تحریر کی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تنازع کی سنگینی سے مراد اس جنگ میں مارے جانے والے یورپی اور ان کے بچے اور ان کے بیٹے یا ان کے والد لیے جاتے ہیں اور ان کا اس کہانی میں مرکزی کردار ہے کیونکہ میرے خیال میں جب آپ کچھ یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ اپنی خاندان سے شروع کرتے ہیں اور وہ غریب ہندوستانی جو پڑھے لکھے بھی نہیں تھے انھیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
ہم نے اس مہم کے لیے محکمۂ تعلیم سے رجوع کیا لیکن ہمیں ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

لارڈ ڈھولکا نے ایک ایسے وقت میں پارلیمان کے خصوصی کمرے میں اس مہم کا آغاز کیا ہے جب لندن کے قریب واقع برائٹن شہر میں ایک فیسٹیول منعقد ہو رہا ہے جس میں ہندوستانی فوجیوں کی کامیابیوں کا جشن منایا جایا گیا اور اس وقت کے بارے میں بتایا جائے گا جب وہ اس ساحلی شہر کے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
اجے چھاپرا اس نمائش میں فنکارانہ امور کے ڈائریکٹر ہیں۔
یہ فوجی گمنام ہو گئے اور ہماری منظر کشی میں ان کی صرف پرچھائیں ہیں اور ہم ان پرچھائیوں کو کس طرح سے اپنی زندگی میں لا سکتے ہیں؟ ہم نے ان کو آواز دی، ہم نے ان کو زبان دی، ہم نے ان کو حرکت دی، ہم نے ان کو زندگی دی اور ہم نے ان میں جان ڈال دی۔‘
اس نمائش میں ہندوستانی فوجیوں کی کہانیوں کو رقص، سیمینار اور تھیٹر کے ذریعے اجاگر کیا جائے گا۔







