پہلی جنگ عظیم کے فوجی کی آپ بیتی شائع

،تصویر کا ذریعہAP
برطانیہ میں نیشنل آرکائیو نے پہلی جنگِ عظیم کے ایک فوجی کی وہ ڈائریاں شائع کرنا شروع کر دی ہیں جن میں انھوں نے میدان جنگ کی زندگی کو بیان کیا ہے۔
سنہ 1914 میں پہلی جنگ عظیم کے آغاز سے فلینڈر اور فرانس کی فوجوں کے روانگی تک کے واقعات ہر فوجی یونٹ کی سرکاری ڈائریوں میں تحریر کیے گئے تھے۔
<link type="page"><caption> پہلی جنگ کا آخری سپاہی چل بسا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/05/110504_wwarone_claude_a.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> دوسری جنگ عظیم کے خفیہ پیغام نے ماہرین کو چکرا دیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/11/121123_message_decode_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
نیشنل آرکائیو نامی ادارے نے 15 لاکھ صفحات تحویل میں لیے تھے اور اب تک ان کا محض پانچواں حصہ ڈِجیٹل شکل میں سامنے لایا گیا ہے۔
یہ منصوبہ پہلی جنگِ عظیم کی صد سالہ تقریبات کا حصہ ہے۔
پہلی جنگ عظیم میں ہر فوجی یونٹ کو روزانہ کے کاموں کی ڈائری مرتب کرنا ہوتی تھی۔ پہلے مرحلے میں سنہ 1944 ڈائریاں ڈیجٹل شکل میں شائع کی گئیں جن میں گھڑ سوار فوج کے تین، اور پیادہ فوج کے سات تجربات بیان کیے گئے۔ یہ سنہ 1914 میں برطانوی فوج کی تعیناتی کا ابتدائی دور تھا۔
سپاہیوں کی ان ڈائریوں سے پتہ چلا ہے کہ فرانس میں دریائے مارن اور این کی لڑائیوں کے ابتدائی دنوں میں کس قدر اضطراب اور دہشت پائی جاتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھی ڈائریوں میں لڑائی کے خاتمے پر رسہ کشی، رگبی میچ اور الوداعی دعوتوں کے احوال بھی لکھے گئے۔
پہلی جنگِ عظیم کی پہلی بٹالین کے ایک فوجی کی ذاتی ڈائری بھی ڈیجیٹل شکل میں شائع کی گئی ہے۔
کیپٹن پیٹرسن یکم نومبر کو انتقال کر گئے تھے۔ ان کی موت سے چھ ہفتے قبل انھوں نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا کہ انھوں نے جو کچھ دیکھا ’وہ ناقابلِ بیان ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’جہاں دیکھیں وہاں خندقیں، آلات، خون آلود لباس، گولہ بارود، ٹوپیاں وغیرہ، اور بیچارے ساتھی جو گولی لگنےسے ہلاک ہو گئے، ہر سمت پڑے ہوئے تھے۔
’ہر طرف ایک جیسی سخت، بدنما، اور بے رحم جنگ تھی۔ میرے پاس ایسی بہت سے داستانیں ہیں‘
ان ڈائریوں کو 25 رضاکاروں نے سکین کیا اور اب یہ عوام کے لیے دستیاب ہیں۔
دی نیشنل آرکائیو میں مصنف اور فوجی ریکارڈ کے ماہر ولیئم سپینسر کا کہنا ہے: ’اس اقدام کی وجہ سے عوام، تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں، مورخین اور دنیا بھر میں محققین کے لیے سرکاری ریکارڈ کے عام ہونے سے اس تاریخی واقعے کے بارے میں مزید جاننے کے مواقع پیدا ہوں گے۔‘
نیشنل آرکائیوز ایک ایسا منصوبہ بھی پیش کرنے والا ہے جس کے تحت عام لوگوں سے کہا جائے گا کہ وہ بھی اپنی ذاتی ڈائریوں سے واقعات بتائیں۔
ایمپیئرل وار میوزیئم کے اہل کار لیوک سمتھ کا کہنا ہے کہ ان ڈائریوں میں موجود معلومات شاید پہلے کبھی کسی تاریخی کتاب میں نہ تحریر کی گئی ہوں۔
سیکرٹری ثقافت ماریا ملر کا کہنا ہے: ’نیشنل آرکائیو کی جانب سے پہلی جنگ عظیم کی ڈائریاں ڈِجیٹل شکل میں شائع کیے جانے سے ہم ان لوگوں کی آواز بھی سن سکیں گے جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی، اور ایسے میں یہ اور بھی اہم ہو جاتے ہیں جب اب کوئی فوجی براہِ راست اس جنگ کے بارے میں بات کرنے کے لیے زندہ نہیں ہے۔‘
پہلی جنگ عظیم کے آخری زندہ برطانوی سپاہی ہیری پیچ بھی 111 برس کی عمر میں سنہ 2009 میں انتقال کر گئے تھے، جب کہ دنیا میں اس جنگ کے واحد زندہ سپاہی کلاڈ کاؤلیس 110 برس کی عمر میں آسٹریلیا میں فوت ہو گئے تھے۔







