’جنگی جرائم کے قریباً 100 مشتبہ مرتکب برطانیہ میں‘

برطانوی وزارت داخلہ نے ایسے 99 افراد کی نشاندہی کی ہے جو برطانیہ میں رہنا چاہتے ہیں
،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزارت داخلہ نے ایسے 99 افراد کی نشاندہی کی ہے جو برطانیہ میں رہنا چاہتے ہیں

گزشتہ سال برطانیہ میں داخلے, شہریت، پناہ اور قیام کی مدت میں توسیع کی اجازت چاہنے والے درخواست گزاروں میں ایسے 100 افراد شامل ہیں جن پر جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا شبہ ہے۔

ان باتوں کی نشاندہی برطانیہ کی وزارت داخلہ نے کی ہے اور بی بی سی کو جاری کیے گئے اعدادوشمار سے یہ بات مترشح ہے۔

ان میں سے بیشتر معاملات میں ایسے افراد شامل ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے ممکنہ طور پر برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔

جنگی جرائم کے مشتبہ مرتکب افراد کا تعلق افغانستان، ایران، عراق، لیبیا، روانڈا، سربیا اور سری لنکا سے بتایا جا رہا ہے۔

دفتر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں سنجیدہ ہے کہ برطانیہ ’جنگی جرائم کے مرتکبین کی جائے پناہ‘ بن کر نہ رہ جائے۔

برطانیہ میں انسانی حقوق گروپس ایسے مجرموں کے خلاف زیادہ سے زیادہ عدالتی کارروائی چاہتے ہیں کیونکہ عدالتیں ایسے لوگوں کو ان کے ملک میں تشدد یا موت کے خطرے کے پیش نظر انسانی حقوق کی بنیاد پر واپس ملک بدر کرنے پر پابندی لگا دیتی ہیں۔

یہ اعدادوشمار معلومات کی فراہمی کی آزادی کے تحت بی بی سی کے ذریعے داخل کی گئي ایک درخواست کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔

جنوری 2012 کے بعد 15 مہینوں کے دوران وزارت داخلہ کے دفتر نے قریب 800 ایسے معاملوں کا مطالعہ کیا جن افراد پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا شبہ تھا۔

اس سے قبل برطانوی امیگریشن کے شعبے نے 2005 سے 2012 کے درمیان 700 سے زیادہ افراد کی نشاندہی کی تھی جو جنگی جرائم کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

نسل کشی کے تدارک کی کثیر جماعتی پارلیمانی گروپ کے سربراہ اور رکن پارلیمان مائیکل میک کان کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ حکومت اس بارے میں شفافیت کا مظاہرہ کرے کہ آیا جنگی جرائم کے یہ مشتبہ افراد کہیں برطانیہ میں تو نہیں رہ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’وزارت داخلہ میں جو تنظیم اسے دیکھتی ہے یعنی یوکے بی اے (برطانوی بورڈر ایجنسی) وہ اتنے مواقع پر ناکام ہوئی ہے کہ ہم اس کا شمار بھول گئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’مجھے اس بارے میں گہری تشویش ہے کہ دفتر داخلہ کو جتنا صاف گو ہونا چاہیے وہ اتنا نہیں ہے اور ہمیں اس بارے میں گہرائی میں جانا چاہیے تاکہ ملک کے شہریوں کو مطلوب تحفظ فراہم کیا جا سکے۔‘

واضح رہے کہ مئی 2013 میں روانڈا کے پانچ افراد برطانیہ میں گرفتار کیے گئے تھے جن پر یہ شبہ تھا کہ انھوں نے 1994 کی نسل کشی میں حصہ لیا تھا جس میں قریب آٹھ لاکھ افراد مارے گئے تھے۔

ان سے کئی لوگ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے برطانیہ میں رہ رہے تھے اور ان میں سے ایک نے تو ایسیکس کے کیئر ہوم میں کام بھی کیا تھا۔

ان میں سے تین ابھی بھی حراست میں ہیں جبکہ دو کو ضمانت پر رہائی مل چکی ہے۔ یہ لوگ روانڈا کی نسل کشی میں اپنی شمولیت سے انکار کرتے ہیں۔

ان کو ملک بدر کرنے کی ایک کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب ہائی کورٹ کے ججز نے کہا کہ انہیں وہاں ’حقیقی خطرہ‘ ہے اور یہ کہ انہیں روانڈا میں انصاف نہیں مل پائے گا۔

روانڈا کی نسل کشی میں بچ جانے والی بیتھا اوازیننکا کا کہنا ہے کہ انہیں یہ سوچ کر کافی ’تکلیف ہوئی‘ کہ روانڈا کے جنگی مجرم ’برطانیہ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں‘۔

انھوں نے بی بی سی سے کہا ’یہ نسل کشی میں بچ جانے والے کے لیے کافی افسوسناک ہے جنھوں نے اتنی تکالیف اٹھائیں اور انھیں انصاف نہیں ملا۔ انھیں وہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں انھوں نے جرم کیا ہے لیکن اگر انہیں روانڈا نہیں بھیجا جاتا تو کم از کم برطانیہ میں ہی ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اس سے یہ پیغام جائے گا کہ آپ جہاں جاؤگے آپ نے جو کیا ہے اسے بھگتنا پڑے گا۔‘