پہلی جنگ کا آخری سپاہی چل بسا

کلاڈ شولز

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکلاڈ جنگ مخالف ہو گئے تھے

پہلی جنگ عظیم کے آخری زندہ سپاہی کلاڈ شولز کا آسٹریلیا میں ایک سو دس سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔

چکلز کے نام سے جانے والے کلاڈ برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ پندرہ سال کی عمر میں شاہی بحریہ میں بھرتی ہوئے اور ’رِوینج‘ نامی جہاز پر فرائض انجام دینا شروع کیے۔

وہ انیس سو بیس کی دہائی میں آسٹریلیا چلے گئے اور انہوں نے انیس سو چھپن تک فوج میں نوکری کی۔ شولز کا پرتھ کے ایک نرسنگ ہوم میں سوتے ہوئے انتقال ہوا۔ ان کے تین بچے اور گیارہ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں۔ ان کی اہلیہ کا تین برس پہلے انتقال ہوا تھا۔

شولز کی چوراسی سالہ بیٹی ڈافنے ایڈنگر نے کہا کہ ان کے والد بہت پیار کرنے والے انسان تھے اور وہ ان کی بہت کمی محسوس کریں گی۔

شولز انیس سو ایک میں وارچیسٹرشائر میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے عسکری ریکارڈ کے باوجود بعد میں امن پسند ہو گئے اور انہوں نے کبھی آسٹریلیا میں جنگی یادگار کے طور پر منائے جانے والے دن ’اینزیک ڈے‘ کی تقریبات میں حصہ نہیں لیا۔

انہوں نے اسی برس کی عمر میں لکھاری بننے کا ایک کورس مکمل کیا اور پھر اپنی یاداشتوں کب قلمبند کیا، جن کی بنیاد پر سن دو ہزار نو میں ان کی سوانح حیات ’دی لاسٹ آف دی لاسٹ‘ منظر عام پر آئی۔