بن لادن گروپ کو سعودی ٹھیکوں کے لیے بولی دینے کی اجازت

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب میں حکومت نے تعمیراتی کمپنی ’سعودی بن لادن گروپ‘ کو سرکاری منصوبوں کے ٹھیکوں میں شرکت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
سعودی عرب کی بڑی تعمیراتی کمپنیوں میں شمار ہونے والا یہ گروپ مالی مشکلات کا شکار تھا اور حال ہی میں اس نے ہزاروں ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے کہ بن لادن گروپ اسی خاندان کی ملکیت ہے جس سے شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن دلان کا تعلق تھا۔
گذشتہ برس مسجد الحرام میں کرین کے حادثے کے بعد اس گروپ کو کسی حد تک ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور اس واقعے کے بعد سے اسے پابندیوں کا سامنا تھا۔
بن لادن گروپ مسجد الحرام میں توسیع کے منصوبے پر کام کر رہا تھا جہاں ستمبر میں کرین کے حادثے میں 107 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
بن لادن گروپ عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے سعودی حکومت کی آمدن میں کمی کی وجہ سے بھی متاثر ہوا ہے کیونکہ حکومت نے بجٹ خسارے کی وجہ سے متعدد ترقیاتی منصوبوں کو منسوخ کر دیا یا ان پر کام کو روک دیا ہے۔
بن لادن گروپ کے ایک سینیئر ایگزیکیٹو نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ ایک شاہی فرمان کے ذریعے کمپنی کو حکومتی تعمیراتی ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے ٹینڈر دینے کی دوبارہ اجازت دے دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی حکومت نے بن لادن گروپ کے اعلیٰ افسران پر عائد سفری پابندیاں بھی ختم کر دی ہیں۔
کمپنی اہلکار نے الوطن اخبار اس کی رپورٹ کی تصدیق کی جس میں شہری ہوا بازی کے محکمے کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بن لادن متعدد منصوبوں پر دوبارہ کام شروع کر سکے گی جن میں جدہ کا شاہ عبدالعزیز ایئرپورٹ شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایس بی جی کو کئی ماہ بعد ایک اچھی خبر ملی ہے جس کا موجودہ جدید سعودی عرب کی تعمیر میں بڑا حصہ ہے۔
چند دن پہلے سعودی عرب کے الوطن اخبار نے رپورٹ دی تھی کہ بن لادن گروپ نے 77 ہزار غیر ملکی کو ملازمین کو فارغ کر کے ملک چھوڑنے کی دستاویزات دی ہیں۔
اس کے علاوہ کمپنی نے انتظامی، سپروائزری اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں کام کرنے والی 17 ہزار سعودی ملازمین میں سے 12 ہزار کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمپنی نے ایک بیان میں ملازمتوں میں کٹوتی کو ملک میں تعمیراتی شعبے میں سست روی کے نتیجے میں معمول کی کارروائی قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
بلومبرگ کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر ملازمین کو ملنے والے منصوبوں کے لیے ایک خاص مدت کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔
کمپنی نے اس کے علاوہ تنخواہوں کی ادائیگی کے بغیر ملازمین کو فارغ کرنے کی تردید کی۔
منگل کو سعودی عرب کے وزیر محنت نے کہا تھا کہ ایس بی جی کے بعض ملازمین اپنے بقایاجات رواں ماہ حاصل کر لیں گے جبکہ دیگر کو بعد میں ادائیگی کی جائے گی۔
تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کمپنی تنخواہوں کے لیے رقم کہاں سے حاصل کرے گا کیونکہ گروپ پر پہلے ہی 30 ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔







