اسامہ بن لادن کی ہلاکت: سی آئی اے کی ’لائیو ٹویٹنگ‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے پانچ سال قبل اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے واقعے کو ٹوئٹر پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
٭ <link type="page"><caption> اسامہ بن لادن پاکستان میں کیا کرنا چاہتے تھے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/03/160302_osama_bin_laden_letter_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
٭<link type="page"><caption> اسامہ کی موت، کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150617_obl_controversy_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
سی آئی اے کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے مشن کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال یوں پیش کی جارہی ہے جیسے یہ واقعی ابھی رونما ہورہا ہو۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
ٹوئٹر پر اس مشن کی تفصیلات اور انٹیلی جنس معلومات شیئر کی جارہی ہیں جس کے باعث امریکہ کو مطلوب ترین شخص کا کھوج لگایا گیا تھا۔
تاہم ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس کا ردعمل خاصا منفی رہا، ایک صارف نے اس اقدام کو ’مضحکہ خیز اور شرمندگی‘ کا باعث قرار دیا۔ کچھ صارفین کی جانب سے اس کی تعریف بھی گئی۔
دیگر افراد کی جانب سے ایسی تصاویر شیئر کی گئیں جن میں لوگ آنکھیں گھماتے ہوئے اور اپنے ہاتھ سر پر رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
خیال رہے کہ ٹوئٹر پر سی آئی اے کی جانب سے عموماً تاریخی نوعیت کی معلومات شیئر کی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے حملوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ وہ مئی 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کی کارروائی کے دوران ہلاک کیے گئے تھے۔







