مسیسپی میں ’مذہبی آزادی‘ کا متنازع بل منظور

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی ریاست مسیسیپی کے گورنر نے ایک متنازع بل منظور کیا ہے جس کے تحت کمپنیوں کو اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر ہم جنس پرستوں کو خدمات فراہم کرنے سے انکار کی اجازت ہوگی۔
گورنر فل برائنٹ نے مساوی حقوق کی تنظیموں اور اداروں کی مخالفت کے باوجود منگل کو ایچ بی 1532 کی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد اسے ایک قانون کی شکل دے دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بل ’اپنے مذہبی عقائد اور اخلاقی اقدار پر ایمانداری سے قائم رہنے والوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔‘
اس بل کے مخالف احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ بل ہم جنس پرستوں، اور جنس تبدیل کرنے کے خواہش مند افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کی قانونی اجازت دیتا ہے۔
یہ بل اس وقت متعارف کروایا گیا ہے جب امریکہ کی دیگر ریاستیں بھی اسی ہی طرح کے بل منظور کرنے کے بارے میں غور کررہی ہیں۔
ابھی حال ہی میں شمالی کیرولائینا کی ریاست نے ایک بل منظور کیا ہے جس میں ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کے تحفظ کی نفی کی گئی ہے اور ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر اپنی جنسی شناخت کے مطابق بنائے گئے مخصوص ریسٹ روم استعمال کریں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
شمالی کیرولائینا کی بیشتر کمپنیوں کے مالکان اور سی ای اوز نے اس خط پر دستخط کردیے ہیں جس میں گورنر پیٹ مک کوری سے اس قانون کو ختم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
جبکہ پے پال نامی کمپنی نے احتجاجا یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس قانون کے ختم نہ ہونےکی صورت میں اپنے نئے آپریشن سینٹر کھولنے کا ارادہ واپس لے سکتی ہے جس میں ریاست کے تقریبا 400 افراد کو نوکری دی جانی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاست جارجیا کے گورنر نے کو بھی اس ہی طرح کے ایک بل کو ریاست کی بڑ ی منافع بخش کمپنیوں کے دباؤ پر ختم کرنا پڑا۔
گذشتہ برس امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کے فیصلے کے بعد مذہبی گروہ متحرک ہوگئے ہیں، جن کے دباؤ میں آکر امریکی ریاستیں مذہبی عقائد کی بنیاد پر قانون بنارہی ہیں۔
مسیسیپی بل کے مقصد میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ ان لوگوں کے عقائد کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کا رشتہ صرف ایک عورت اور مرد کے درمیان ہی قائم ہوسکتا ہے اور جنسی تعلقات صرف شادی کے بعد ہی استوار کیے جاسکتے ہیں اور یہ کہ انسانوں کو اپنی جنس تبدیل نہیں کروانی چاہیے۔
گورنر برائنٹ نے بل پر دستخط کرنے کے بعد ٹوئٹر پر اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ بل امریکی آئین کے تحت شہریوں کو دیے جانے والے حقوق کی نفی نہیں کرتا اور اسے بنانے کا مقصد 'لوگوں کی ذاتی زندگی میں حکومت کی دخل اندازی کو روکنا ہے۔‘
چرچ، مذہبی فلاحی ادارے اور نجی کمپنیاں اس قانون کو ان افراد کوخدمات دیتے وقت استعمال کرسکتی ہیں جن کے طرز زندگی سے ان کو اختلاف ہے۔ لیکن سرکاری ادارے ریاست کے کسی بھی فرد کو خدمات فراہم کرنے سے انکار نہیں کرسکتے، البتہ ایک سرکاری ملازم انفرادی طور پر اس قانون کا استعمال کرسکتا ہے۔
اس بل میں اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر کوئی ریسٹ رومز یا ڈریسنگ رومز کو جنسی بنیاد پر بنانا چاہتا ہے تو وہ ایسا کرنےمیں آزاد ہے۔
امریکہ کی سول لبرٹیز یونین نے اس بل کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ بل عدل، انصاف اور مساوات کے بنیادی امریکی اصولوں کے منہ پر طمانچہ ہے، اور کسی بھی قسم کی مذہبی آزادی کو تحفط فراہم نہیں کرتا۔‘
’یہ بل ریاست کے لوگوں کے حقوق پر حملہ ہے اور ریاست کے لیے بے عزتی اور شرم کا باعث ہے۔‘







