’میں ابھی تک خوف سے کانپ رہا ہوں‘

افراتفری میں مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ بعد میں میرا دوست کدھر گی‘
،تصویر کا کیپشنافراتفری میں مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ بعد میں میرا دوست کدھر گی‘

یلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ہوائی اڈے اور میٹرو سسٹم میں ہونے والے دھماکوں کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا۔

ایئر پورٹ پر کیا ہوا

’میں نے فوجیوں کو ایک شدید زخمی شخص کو گرد وغبار سے نکالتے ہوئے دیکھا۔ خدا کرے وہ شخص بچ گیا ہو۔‘

یہ الفاظ ہیں ٹام کے جو ان دنوں ہوئی اڈے پر تربیتی ملازمت (انٹرن شپ) کر رہے ہیں۔ ٹام کا کہنا تھا کہ انھوں نے آج بھی اپنے دن کا آغاز معمول کے مطابق صبح آٹھ بجے کیا۔

’’دفتر پہنچنے کے بعد ہم لوگ ابھی اپنی اپنی میزوں کی جانب جا ہی رہے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ ہماری دائیں جانب، تقریباً 15 میٹر کے فاصلے پر ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ پہلے تو ہم یہی سمجھے کہ کوئی بڑا اشتہار (بِل بورڈ) یا اس قسم کی کوئی بڑی چیز گر گئی ہے۔ میرے دفتر کے دوسرے ساتھی ابھی سوچ ہی رہے تھے کیا آخر ہوا کیا۔ میں نے یکدم شور مچایا بھاگو، بھاگو۔

ہم تیز تیز بھاگتے ہوئے اس جگہ سے دور آ گئے۔

اس بھاگ دوڑ میں میرا ایک ساتھی چھلانگ لگا کر ڈیسک کی دوسری جانب جا پہنچا۔ شور شرابے میں مجھے پتا ہی نہ چلا کہ وہ بعد میں گیا کدھر۔‘

تھوڑی ہی دیر میں ایک اور دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکہ پہلے سے زیادہ زور دار تھا۔

’ہر کوئی چیخ رہا تھا، دوڑ رہا تھا، میں خود ابھی تک سنبھل نہیں پایا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہHorst Pilger

،تصویر کا کیپشن’ہر کوئی چیخ رہا تھا، دوڑ رہا تھا، میں خود ابھی تک سنبھل نہیں پایا ہوں‘

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مجھے لگا کہ اب کوئی چیز مجھ پر آن گرے گی۔ اتنے میں میرے دو ساتھیوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ باہر کی جانب بھاگنے کے بجائے دفتر کے اندر آ جاؤ اور دروازہ بند کر دو۔

میرے قریب ہی فوجی ایک شخص کو ملبے سے نکال رہے تھے۔ خدا کرے وہ شخص بچ گیا ہو۔‘‘

ہر کوئی چیخ رہا تھا، دوڑ رہا تھا

’ہر کوئی چیخ رہا تھا، دوڑ رہا تھا، میں خود ابھی تک سنبھل نہیں پایا ہوں۔‘

یہ الفاظ نِلس لیڈکے کے ہیں جو دھماکے کے وقت ایئر پورٹ کے اندر تھے۔

’’ یہ دھماکہ کسی بِگ بینگ سے کم نہ تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے آپ کے پڑوسی کوئی بہت ہی بھاری بھرکم چیز زینے سے نیچے پھینک رہے ہوں۔

ہر چیز تھرا تھرا رہی تھی۔ اور ایک جگہ سے تھوڑا تھوڑا دُھواں بھی اُٹھ رہا تھا۔

مجھے یہ سمجھنے میں ایک دو لمحے لگے کہ ہوا کیا ہے۔ مجھے لگا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ جلد ہی میں نے دیکھا کہ ہر شخص چیخ رہا تھا اور اس جگہ سے بھاگ رہا تھا۔ میں نے بھی یہی کیا اور وہاں سے بھاگ نکلا۔ میں ابھی تک کانپ رہا ہوں۔‘‘

’ہم نے بہت سے زخمی لوگ دیکھے‘

اودیتا اسلام آج صبح اپنے والدہ کو ایئر پورٹ پر چھوڑنے آئے تھے۔

’میں اور میری والدہ پرواز سے پہلے ایئر پورٹ پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کہ ہم نے اپنی دائیں جانب ایک زور دھماکہ سنا۔ ہر کسی نے بھاگنا شروع کر دیا۔

تھوڑی ہی دیر بعد ہم نے اپنی بائیں جانب ایک اور دھماکہ سنا۔

گرو وغبار اتنا زیادہ ہو گیا کہ ہمارے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا

،تصویر کا ذریعہRalph Usbeck via AP

،تصویر کا کیپشنگرو وغبار اتنا زیادہ ہو گیا کہ ہمارے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا

ہر طرف افراتفری تھی اور کسی چیز کے جلنے کی بو آ رہی تھی اور دھماکوں والی جگہ سے دھواں بھی اٹھ رہا تھا۔

جلد ہی گرو وغبار اتنا زیادہ ہو گیا کہ ہمارے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا۔ ہم لوگ فوراً باہر کی جانب بھاگے۔

ہم نے بہت سے زخمی لوگ دیکھے۔

’’ہم نے بہت سے زخمی لوگ دیکھے۔

میں نے ایک ماں اور اس کے زخمی بچوں کو دیکھا۔ میں نے انھیں مدد کی پیشکش کی، لیکن انھوں نے کہا کہ ہم لوگ وہاں سے نکل جائیں کیونکہ دوسرے اہلکار ان لوگوں کی مدد کر رہے تھے۔

میں نے ابتدائی طبی امداد کی تربیت لی ہوئی ہے اور میرے پاس اس کا سرٹیفیکیٹ بھی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں ایمبولینس بھی پہنچ گئی، اور ہم باہر نکل آئے۔

ہم لوگ تھوڑی دیر کار پارک میں رکے، پھر وہاں پر موجود اہلکاروں نے ہمیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔‘‘