’ریستوران میں زندہ مگرمچھ پھینکنے‘ کا الزام

،تصویر کا ذریعہTwitter
امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک فاسٹ فوڈ ریستوران کے اندر مبینہ طور پر مگرمچھ پھینکنے کے بعد ایک شخص کو پولیس کی جانب سے حملہ کرنے کا الزام کا سامنا ہے۔
23 سالہ جاشوا جیمز پر الزام عائد ہے کہ انھوں نے ’وینڈیز‘ نامی ایک ریستوران کی ڈرائیو تھرو کھڑکی کے اندر ایک زندہ مگرمچھ پھینکا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جاشوا کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے اپنے ایک دوست کے ساتھ شرارت کرنا چاہتے تھے جو وینڈیز میں کام کرتے ہیں۔
مگرمچھ کو واپس جنگل لوٹا دیا گیا ہے۔
’فلوریڈا فش اینڈ وائلڈ لائف کنزرویشن کمیشن‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مقامی چینل ڈبلیو پی ٹی وی کا کہنا تھا کہ فلوریڈا میں جیوپٹر نامی علاقے سے تعلق رکھنے والے جاشوا کو ایک سڑک کے کنارے ایک مگرمچھ ملا جسے انھوں نے کسی طرح اپنی گاڑی کے پیچھے ڈال کر بند کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق انھوں نے پھر رائل پام بیچ میں واقع ریستوران پہنچ کر اس کی ڈرائیو تھرو والی کھڑکی سے کھانے کا آرڈر دیا اور پھر تین فٹ لمبے مگرمچھ کو کھڑکی کے اندر پھینک دیا۔ یہ واقعہ گذشتہ سال اکتوبر میں پیش آیا تھا لیکن ملزم کو اب حراست میں لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جاشوا کو مگرمچھ کو غیر قانونی طور پر رکھنے اور لے جانے کے الزامات کا سامنا بھی ہے۔
ان کی والدہ لنڈا جیمز نے ٹی وی چینل کو بتایا کہ ان کے بیٹے کی حرکت ایک ’بے وقوفانہ مذاق‘ تھی۔
ٹی وی چینل نے پولیس کی طرف سے لکھی جانے والی واقعے کی رپورٹ سے مگرمچھ کی تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔



