ابوسیاف کی بیوہ پر امریکی کارکن کی ہلاکت کا الزام

میولر ایک امدادی کارکن کی حیثیت سے سنہ 2013 میں شام گئی تھیں اورانھیں اغوا کرلیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمیولر ایک امدادی کارکن کی حیثیت سے سنہ 2013 میں شام گئی تھیں اورانھیں اغوا کرلیا گیا تھا

امریکی حکام کا کہنا ہےکہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سابق سینیئر رہنما کی بیوہ کے خلاف ایک امریکی یرغمالی کی ہلاکت کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکی شہری کیلا میولر کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ حلب میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں جبکہ گذشتہ سال شام میں ان کی موت ہو گئی۔

دولت اسلامیہ کے سابق سینیئر رہنما ابوسیاف کی بیوہ 25 سالہ نسرین اسد ابراہیم بہار کو امّ سیاف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور وہ اس وقت عراق میں زیرحراست ہیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ام سیاف نے میولر کو قید میں رکھا تھا اور دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو بار بار ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی اجازت دی تھی۔

ام سیاف کے خاوند، ابو سیاف کو ایک حلف نامے میں دولت اسلامیہ کے تیل اور گیس کا وزیر بتایا کيا ہے جو کہ براہ راست بغدادی کو جوابدہ تھے۔

امریکی شہری کیلا میولر کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ حلب میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنامریکی شہری کیلا میولر کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ حلب میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں

وہ گذشتہ سال مئی میں شام میں ایک عمارت پر امریکی فوج کے خصوصی دستوں کے حملے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

ان کی بیوہ کو استغاثہ کی کارروائی کے لیےعراقی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ وہ اس قانونی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں لیکن وہ ’کیلا کے لیے انصاف کے حصول کا کام کرتے رہیں گے۔‘

امریکی انٹیلی جنس ادارے ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ان چارج پال ایبٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم ہمیشہ امریکی شہریوں کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کی شناخت، تلاش اور ان کی گرفتاری کے لیےسرگرم رہیں گے۔‘

میولر ایک امدادی کارکن کی حیثیت سے شام گئی تھیں جب سنہ 2013 میں انھیں اغوا کر لیا گیا تھا۔