یورپ کو دولتِ اسلامیہ کی نئی طرز سے خطرہ

،تصویر کا ذریعہAFP
یورپی یونین کی پولیس یوروپول کا کہنا ہے کہ ایک نئی طرز کی دولتِ اسلامیہ تنظیم بن چکی ہے جس میں سپیشل فورسز کی طرح کے دستے ہیں اور وہ یورپ کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یوروپول کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آور سنہ 2008 کے ممبئی حملوں اور پیرس حملوں کی طرز کے حملوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بات ہیگ میں یورو پول کے نئے انسداد دہشت گردی سنٹر کے آغاز کے موقع پر بتائی گئی۔
یہ ادراہ دہشت گردوں اور دیگر جرائم کے درمیان تعلق کے بارے میں مزید معلومات حاصل اور اس کا تبادلہ کرے گا۔
اس یونٹ کے قیام کی ضرورت پیرس حملوں کے بعد زیادہ محسوس کی گئی۔
اتوار کو دولتِ اسلامیہ کے جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں بظاہر پیرس حملوں میں ملوث افراد کو تیار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیرس حملوں اور مصر میں روسی جہاز کو مار گرانے کے واقعے کے بعد یہ ظاہر ہوتا کہ اب دولتِ اسلامیہ کے اہداف عالمی سطح پر پھیل گئے ہیں اور وہ ممبئی اور پیرس طرز کے حملے یورپی یونین کی رکن ریاستوں بالخصوص فرانس میں کر سکتے ہیں۔
’یہ حملے آسان اہداف پر کیے جا سکتے ہیں کیونکہ ان کی مدد سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مطابق شام اور دیگر ریاستوں سے یورپ آنے والے لوگ ان کا کمزور ہدف ہو سکتے ہیں جنھیں وہ باآسانی اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’یقیناً ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ پناہ گزینوں کے رہائشی علاقے اسلامی شدت پسندوں کے بھرتی کرنے والوں کے نشانے پر ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق امکان ہے کہ خطہ بلقان اور بعض یورپی ملکوں میں ان کے تربیتی مراکز ہوں۔
یوروپول کے مطابق اب تک 5000 یورپی باندوں کو شدت پسند بنا کر بیرونِ ملک بھیجا۔
یورو پول کے ذائریکٹر وین رائٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کے مشتبہ دہشت گردوں بالخصوص پیرس حملوں کے ذمہ داروں کا مجرمانہ پس منظر تھا وہ لوگ منشیات اور دیگر جرائم سے منسلک تھے۔
یوروپول کے انسدادِ دہشت گردی کے یونٹ میں پچاس کے قریب ماہرین ہوں گے۔
یوروپول میں مجموعی طور پر آٹھ سو افراد ہیں جو ہیگ میں واقع ہیڈ کوارٹر میں کام کرتے ہیں جو یہ اٹھائیس رکن ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔







