جہاز کی تلاش کرنے والا سونر ڈیٹیکٹر کھو گیا

،تصویر کا ذریعہReuters
ملائیشیا کے طیارے ایم ایچ 370 کو تلاش کرنے والی آسٹریلین ٹیم کا سونر ڈیٹیکٹر نامی وہ آلہ کھو گیا ہے جو غرقاب جہازوں کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔
<link type="page"><caption> ایم ایچ 370 کی تلاش ممکنہ طور پر صحیح علاقے میں جاری</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151203_search_mh370_search_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
اتوار کو گہرے پانی میں تلاش کرنے والا یہ آلہ سمندر میں ابلتے ہوئے کیچڑ سے ٹکرایا۔ آتش فشاں کی طرح ابلتے اس کیچڑ کی دھار سمندر کے فرش سے 2200 میٹر تک بلند جا رہی تھی۔
ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ آلہ اور میٹر لمبی تار جس کی ساتھ یہ منسلک تھا اب سمندر کی تہہ میں پڑے ہیں۔
تاہم ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ انھیں دوبارہ حاصل کر لی گی۔
طیارے کی تلاش کرنے والی مشترکہ ٹیم نے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا کہ تلاش کا آپریشن جو جون میں ختم کیا جانا ہے وہ اس واقعے کے باعث کسی تاخیر کا شکار ہوگا یا نہیں۔
ملائیشیا کے طیارے کی پرواز ایم ایچ 370 مارچ سنہ 2014 میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس میں 239 افراد سوار تھے۔
سیٹیلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر یہ کہا گیا تھا کہ یہ جہاز بحرِ ہند میں گر کر تباہ ہوا۔ لیکن اب تک اس جہاز کا محض ایک ٹکڑا مل پایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تلاش کے کام میں مشغول بحری جہاز فرگو ڈسکوری واپس آسٹریلوی ساحل پر آئے گا اور متبادل تار لگوا کر ایک دوسرے آلے کی مدد سے تلاش کا کام دوبارہ شروع کرے گا۔
طیارے کی تلاش کا کام جنوبی بحرِ ہند کے ایک لاکھ بیس ہزار مربع میل کے سمندر علاقے میں کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images







