’جہاز کے پر کا ٹکڑا یقینی طور پر ملائشیا کے لاپتہ طیارے کا ہے‘

فرانسیسی حکام نے ری یونین جزیرے کے آس پاس تلاش کا دائرہ بڑھایا تھا تاہم انھیں مزید کوئی ٹکڑا نہیں ملا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی حکام نے ری یونین جزیرے کے آس پاس تلاش کا دائرہ بڑھایا تھا تاہم انھیں مزید کوئی ٹکڑا نہیں ملا

فرانس میں ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ جولائی میں ری یونین جزیرے سے ملنے والے جہاز کے پر ’یقینی طور پر‘ سنہ2014 میں لاپتہ ہونے والی ملائشیئن ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کے طیارے کا ہے۔

جہاز کے ملنے والے پر کے ٹکڑے جسے فلیپرن کہا تھا ہے، اس کا معائنہ فرانس میں بین الاقوامی ایوی ایشن ماہرین نے کیا ہے۔

فرانسیسی حکام نے ری یونین جزیرے کے آس پاس تلاش کا دائرہ بڑھایا تھا تاہم انھیں مزید کوئی ٹکڑا نہیں ملا۔

یاد رہے کہ مارچ سنہ 2014 میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہونے والے طیارے میں اس وقت 239 مسافر سوار تھے۔

اس سے قبل ملائشیا کی حکومت کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ پر کا یہ ٹکڑا ایم ایچ 370 ہی کا ہے۔

فرانیسی تفتیش کار ابھی تک جہاز کا ملبہ ملنے والے مقام کے بارے میں زیادہ محتاط رہے تھے۔

تاہم جمعرات کو ان کا کہنا تھا سپین میں ایئربس ڈیفینس اور سپیس (اے ڈے ایس۔ایس ای یو) کے ایک ٹیکنیشن جنھوں نے بوئنگ کے حصے تیار کیے تھے، انھوں نے باضابطہ طور پر جہاز کے پر کے ٹکرے پر دیے گئے سیریل نمبروں میں سے ایک کی شناخت کی ہے جو ایم ایچ 370 کا ہی تھا۔

تحقیقات کرنے والے میجسٹریٹ اور ایک ایوی ایشن ماہر جمعرات کو اے ڈی ایس۔ ایس اے یو کے ہیڈکوارٹرز بھی گئے تھے۔

 ایم ایچ 370 کے بیشتر مسافروں کا تعلق چین سے تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن ایم ایچ 370 کے بیشتر مسافروں کا تعلق چین سے تھا

دوسری جانب جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں کے لواحقین نے فرانسیسی اور ملائشین حکام کے بیانات میں بظاہر اختلاف کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے اور انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان سے سچ چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایم ایچ 370 کے بیشتر مسافروں کا تعلق چین سے تھا۔

ادھر آسٹریلیا کے ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو بحرہند کے جنوبی علاقوں میں سمندر کی تہہ میں جہاز کی ملبے کی تلاش کے لئے معاونت کر رہی ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ تلاش جاری رہے گی کیونکہ ’کروڑوں کی تعداد میں لوگ جو ہمارا آسمان استعمال کرتے ہیں ہم ان کے مقروض ہیں۔‘