عراق میں سعودی سفیر کے بیان پر شدید غصہ

،تصویر کا ذریعہAFP
عراق میں تعینات کیے جانے والے نئے سعودی سفیر کے ایک بیان کے بعد عراق میں شیعہ سیاست دانوں میں کافی غصہ پایا جاتا ہے۔
سعودی سفیر ثامر ال سبحان نے ایک ٹیلی وژن ال سماریہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ شیعہ پیرا ملٹری گروہوں کو چاہیے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ فوج کو لڑنے دیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ثامر ال سبحان کا کہنا تھا کہ ’حاشد ال شابی نامی فورسز کی سنی عرب اور کرد علاقوں میں ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ عراقی معاشرے کے بیٹوں کو قابل قبول نہیں۔‘
شیعہ ارکان پارلیمان نے جن کا عراقی سیاست پر زیادہ اثر و رسوخ ہے، سعودی سفیر پر عراق کے اندورنی معماملات میں دخل اندازی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ جبکہ ان میں سے کئی سعودی سفیر کو عراق سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حاشد ال شابی کے ترجمان احمد ال اسدی کا کہنا ہے کہ ’سبحان اس ملک کے سفیر ہیں جو دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔‘
انھوں نے ثامر ال سبحان کو عراق سے نکالنے اور ان کے بیان پر انھیں سزا دینے کا بھی کہا ہے۔
دوسری جانب پارلیمان میں موجود سنی عرب بلاک اور عراقی فورسز کے اتحادیوں نے سعودی سفیر کے بیان کو ’انتہائی فطری‘ کہتے ہوئے ان کے خلاف ’سیاسی مہم ‘پر تنقید کی ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے شیعہ عالم نمر ال نمر کو سزائے موت دیے جانے کے بعد سعودی عرب کے خلاف مظاہروں اور غصے کی لہر شروع ہو گئی تھی اور اس دوران ثامر ال سبحان کو عراق سے نکالنے کے مطالبات بھی سامنے آئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







