آسٹریلوی جنگلات میں شدید آگ سے تاریخی علاقہ تباہ

،تصویر کا ذریعہFIRE AND EMERGENCY SERVICES
آسٹریلیا کے مغربی جنگلات میں لگنے والی آگ نے مضافاتی قصبے کو مکمل تیاہ کر دیا ہے اور آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
مغربی آسٹریلیا کے دارالحکومت پرتھ کے تاریخی علاقے یرلوپ کا ایک تہائی حصہ مکمل تباہ ہوچکا ہے۔
حکام کے مطابق آگ کی وجہ سے تین افراد لاپتہ ہیں۔
علاقے میں رات بھر 60 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا جس کی وجہ سے مغربی آسٹریلیا کے علاقے میں آگ کے شعلے 50 میٹر کی بلندی کو چھونے لگے۔
آگ کی وجہ سے مختلف علاقوں کو بدستور خطرات لاحق ہیں اور آج بھی تیز ہواؤں کی وجہ سے صورتحال کے مزید خراب ہونے کے خدشات ہیں۔
مغربی آسٹریلیا کے آتشزدگی سے متعلق کام کرنے والے کمشنر وین گریگزن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یرلوپ میں لگنے والی شدید نوعیت کی آگ سے نمٹنا بہت مشکل تھا۔
انھوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کے دوران آگ بجھانے کے دوران چار فائر فائٹر زخمی ہوئے جبکہ ایک آگ بجھانے والی گاڑی تباہ ہوگئی۔
اس وقت آگ 50 ہیکٹر سے زیادہ کی اراضی کو جلا کر راکھ کر چک ہے اور سے ہاروے اور پریسٹن کے ساحلی علاقوں کو خطرات لاحق ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہtwitter
ایک مقامی سیاستدان مرے کوپر نے بی بی سی کو بتایا کہ املاک کو ’شدید‘ نقصان پہنچا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ رضاکاروں نے انھیں بتایا شہر کا شراب خانہ، بولنگ کلب اور لکڑی کے تاریخی کارخانے تباہ ہوچکے ہیں۔
کوپر کے مطابق ’آپ کو یہاں آگ بجھانے والے تجربہ کار رضاکار ملیں گے جو سالوں سے یہاں تعینات ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے اس سے پہلے کبھی اس طرح کی آگ نہیں دیکھی۔ آگ بھڑکی اور ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا جو اس آگ کو روک سکتا۔اس آگ سے شہر مکمل طور پر تباہ ہوسکتا ہے۔‘
یرلوپ کے رہائشی ایلکس گوانووچ نے آسٹریلوی نشریاتی ادارے کو بتایا ’آگ بہت زیادہ شدید نوعیت کی تھی یکے بعد دیگرے مختلف مقامات پر آگ بھڑکتی چلی گئی۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہوا بھی بہت تیز تھی۔ یہ بہت تباہ کُن تھا۔‘
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے جمعے کو بھی 60 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
طوفان اور سمندری ہواؤں نے اگر آگ کو تیزی سے کسی اور سمت میں موڑ دیا تو اس سے صورتحال مزید غیر یقینی ہوسکتی ہے۔







