ہتھیاروں پر کنٹرول کے لیے یکطرفہ فیصلہ کروں گا: اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ملک میں ہتھیاروں کے ذریعے پر تشدد واقعات روکنے کے لیے وہ یکطرفہ اقدام اُٹھائیں گے۔
جمعے کو 2016 کے آغاز کے بعد عوام سے اپنے پہلے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں اٹارنی جنرل سے ملاقات کریں گے اور یہ جائزہ لیں گے کہ وہ ہتھیاروں پر کنٹرول کے لیے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔
انھوں نے امریکی کانگریس تواس ضمن میں قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ہے ، اس لیے وہ بطور صدر اپنے خصوصی اختیار استعمال کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کو اپنے حریف ریپبلکن جماعت اور ہتھیاروں کے حامی گروہوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنے پڑے گا۔
صدر نے امریکی عوام سے خطاب میں کہا کہ انھیں اس بارے کوئی اقدام نہ اُٹھانے پر بچوں، والدین اور اساتذہ کی جانب سے بہت سے خطوط موصول ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ہم ہر پر تشدد کارروائی روک نہیں سکتے لیکن ہم کسی ایک کو تو روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کیا ہے اگر کانگریس ہمارے بچوں کو ہتھیاروں کے تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے کچھ کر لے۔‘
صدر نے تسلیم کیا کہ ہتھیاروں پر قانون سازی پر پارلیمان میں اتفاق رائے پیدا کرنے میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور یہی اُن کے دورِ صدارت کی سب سے بڑی ’مایوسی‘ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار لارا بیکر کا کہنا ہے کہ صدر بہت سے معاملات میں اپنے خصوصی اختیارات استعمال کر سکتے ہیں جیسے ہتھیار خریدنے والی کی زیادہ چھان بین وغیرہ۔
نامہ نگار کا کہنا ہے منصوبے کو حتمیٰ شکل دینے میں صدر اوباما کو بہت مخالفت کا سامنا کرنا ہو گا۔
دوسری جانب امریکہ میں رائفل ایسوسی ایشن نے ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے آواز اُٹھانے والوں کے خلاف پہلے ہی سے ویڈیو سیریز شروع کر رکھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ریاست ٹیکساس میں ہتھیاروں کو ساتھ رکھنے کا قانون بھی ہے جس کے تحت عوام اپنی کمر پر ہتھیار باندھ سکتے یا اپنے بیگ میں رکھ سکتے۔ تاکہ یہ دیکھا سکیں کہ وہ مسلح ہیں۔
گذشتہ ماہ ریاست میں پولیس کے سربراہ نے صدر کو خبردار کیا تھا کہ امریکیوں کو غیر مسلح کرنے سے انقلانی تحریک شروع ہو سکتی ہے۔
اس قبل کانگریس میں ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق قانون سازی کرنے کی کوشش ناکام ہوئی تھی۔
سنہ 2013 میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن جماعت نے کانگریس میں بل جمع کروایا تھا جس کے تحت ہتھیار کی خرید و فروخت میں زیادہ تحقیقات متعارف کروائی جانی تھیں لیکن یہ قانون منظور نہیں ہو سکا۔







