امریکہ میں خام تیل کی برآمد پر 40 سالہ پابندی ختم

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ کے سیاستدانوں نے خام تیل کی برآمد پر عائد 40 سالہ پابندی اٹھانے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ اقدام سینیٹ کی جانب سے منظور کیے گئےایک کھرب ایک ارب ڈالر کے اخراجات کے بل کا حصہ ہے جو سنہ 2016 تک امریکی حکومت کو رقوم مہیا کرے گا۔
<link type="page"><caption> عالمی بازارِ حصص میں مندی، امریکہ میں خام تیل 40 ڈالر پر آ گیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/08/150822_fall_in_world_stock_markets_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> تیل کی گرتی قیمتیں، امریکی کمپنیاں خوش</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2014/11/141106_usa_oil_boom_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
تیل کی قیمتوں میں کئی ہفتوں کی گرواٹ کے بعد جمعے کو بڑھوتی دیکھی گئی۔ مارکیٹ میں اس وقت خام تیل کی کثیر مقدار موجود ہے۔
امریکہ میں تیل کی پیداوار کرنے والی کمپنیاں اب عالمی بازاروں میں خام تیل فروخت کر سکیں گی۔
امریکہ میں تیل کی پیداوار اور تلاش کرنے والے کمپنیاں اس پابندی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ یہ پابندی اس وقت سے قائم ہے جب سنہ 1970 کی دہائی میں عرب تیل پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
تاہم اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ہٹانے سے تیل کی صنعت سے متعلق نوکریاں کم ہو جائیں گی اور یہ ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخراجات کے اس بل میں شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی پر لاگو ٹیکس میں چھوٹ بھی شامل ہے جبکہ ریپبلکنز نے وعدہ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی فنڈ کی پچاس کروڑ ڈالر کی رقم نہیں روکی جائے گی۔
صدر اوباما نے اس بل کی کو قانون کی شکل دیتے ہوئے اس پر جمعے کو دستخط کر دیے۔
عالمی منڈیو تک رسائی سے آئندہ مہینوں یا برسوں میں امریکی برآمدات میں کوئی بڑی تبدیلی تو نہیں آئے گی تاہم اس سے تیل کی پیداوار کرنے والوں کو قدرے لچک مل جائے گی۔
امریکہ کی خام تیل کے ایکسپورٹرز کے سربراہ جارج بیکر کا کہنا ہے کہ ’اب چونکہ ہمارے لیے میدان ہموار ہے تو امریکہ کو بالآخر یہ موقع ملا ہے کہ وہ قوم کی مکمل صلاحتیوں کو سمجھ سکے۔‘







