’آئیں مل کر فن پارے تلاش کریں‘

ہینری مور کا 30 لاکھ پاؤنڈز کا قیمتی فن پارہ ’ری سائکلنگ فیگر‘ ہرٹ فوردشائر سے سنہ 2005 میں چرالیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنہینری مور کا 30 لاکھ پاؤنڈز کا قیمتی فن پارہ ’ری سائکلنگ فیگر‘ ہرٹ فوردشائر سے سنہ 2005 میں چرالیا گیا تھا

برطانیہ میں تاریخی ورثے کی حفاظت کے لیےکام کرنے والے ادارے ’ہسٹورک انگلینڈ‘ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ انگلینڈ کے گمشدہ عوامی فن پاروں کو تلاش کرنےمیں ان کی مدد کریں۔

ادارے نے یہ مہم دس سال قبل اس وقت شروع کی تھی جب بیسویں صدی کے برطانوی مجسمہ ساز ہینری مور کا کانسی کا فن ہ پارہ ان کے پرانےگھر کے احاطے سے چوری ہوگیا تھا۔

ادارے کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ جنگ عظیم دوم کے بعد کا بہت سے فن پارے یا تو تباہ ہوگئے ہیں یا فروخت کر دیے گئے ہیں اور یا پھر سکولوں اور پارکوں جیسے عوامی مقامات سے چوری ہوگئے ہیں۔

ہسٹورک انگلینڈ نے اپنی ویب سائٹ پر ان گمشدہ فن پاروں کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے۔

ان گمشدہ فن پاروں میں لین چاڈوک کا مجسمہ ’دی واچرز‘ بھی شامل ہے جسے لندن کی روہیمپٹن یونیورسٹی سے اٹھا لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ باربرا ہیپورتھ کا ’ٹوفورمز‘ (ڈیوائڈڈ سرکل) بھی سنہ 2011 میں جنوبی لندن میں واقع ڈلوچ پارک سے چوری ہوگیا تھا۔

ہسٹورک انگلینڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈنکن ولسن نے کہا ہے کہ ’انگلینڈ کے عوامی آرٹ پر مشتمل قومی خزانے کا ایک بڑا حصہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہورہا ہے۔ ہسٹورک انگلینڈ کی تحقیق اس ورثے کو بازیاب کروانے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے کیونکہ یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ سنہ 1945 کے بعد غائب ہونے والے ان تمام فن پاروں کے ساتھ کیا ہوا۔‘

باربرا ہیپورتھ کا (ڈیوائڈڈ سرکل) بھی سنہ 2011 میں جنوبی لندن میں واقع ڈلوچ پارک سے چوری ہوگیا تھا
،تصویر کا کیپشنباربرا ہیپورتھ کا (ڈیوائڈڈ سرکل) بھی سنہ 2011 میں جنوبی لندن میں واقع ڈلوچ پارک سے چوری ہوگیا تھا

انھوں نے کہا کہ ’ہم کوشش کرہے ہیں کہ جنگ کے بعد بچ جانے والے آرٹ کی بہتر طریقے سے حفاظت کی جائے اور اسے عوامی مقامات پر ہی واپس لایا جائے۔‘

’لیکن ہم ساتھ یہ شعور بھی دینا چاہتے ہیں کہ اس آرٹ کی حفاطت کتنی ضروری ہے اور اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ان گمشدہ فن پارو کو ڈھونڈنے میں ہماری مدد کریں۔‘

ہینری مور کا 30 لاکھ پاؤنڈز کا قیمتی فن پارہ ’ری سائکلنگ فیگر‘ ہرٹ فوردشائر سے سنہ 2005 میں چرالیا گیا تھا۔ پولیس کا خیال ہے کہ چوری کرنے کے بعد اسے پگھلا کر محض 1500 پاونڈ میں بیچ دیا گیا تھا۔

بہت سے فن پارے لوٹ مار میں بھی غائب ہوگئے جس میں کیمبرج سے غائب ہونے والا بیری فلینگن کا سٹیل کا تجریدی مجسمہ بھی شامل ہے۔

ہسٹورک انگلینڈ کویقین ہے کہ عوامی مقامات پر موجود فن پاروں کو خطرہ لاحق ہونے کی بڑی وجوہات خام دھات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور حکومت کی جانب سے امداد میں کمی ہیں۔

سنہ 2012 میں ویک فیلڈ کونسل چوری کے خدشے کے پیش نظر ہینری مور کے فن پارے کو عوامی نمائش سے ہٹا کر اسے محفوظ مقام پر منتقل کردیا تھا۔