شام: ’اتحادیوں کے ممکنہ فضائی حملے میں 26 شہری ہلاک‘

گذشتہ ہفتے برطانیہ بھی شام میں مشترکہ فضائی کارروائیوں کا حصہ بن گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے برطانیہ بھی شام میں مشترکہ فضائی کارروائیوں کا حصہ بن گیا تھا

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی حصے میں ممکنہ طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے میں بچوں سمیت 26 عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ صوبہ الحسکہ میں الہاؤل کے قریب الخان گاؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

<link type="page"><caption> فوجی اڈے پر اتحادیوں کا حملہ کھلی جارحیت ہے: شام</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151207_us_led_attack_kill_syrian_gov_forces_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’شام میں برطانوی مداخلت غیر قانونی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151206_assad_interview_syria_britain_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

عراق میں امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لیں گے۔

اس سے قبل شام کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اتحادی افواج نے صوبہ دیر الزور میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے اور اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’کھلی جارحیت‘ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ اس صوبے کا اکثریتی علاقہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے زیر قبضہ ہے۔

تاہم امریکی فوج نے اصرار کیا کہ کیمپ کے قریبی علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

اتحادی افواج شام میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو ستمبر 2014 سے نشانہ بنا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناتحادی افواج شام میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو ستمبر 2014 سے نشانہ بنا رہی ہیں

صوبہ الحسکہ میں ہونے والے فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کا ’سنجیدگی‘ سے لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر یہ اطلاع ’قابل بھروسہ‘ ہوئی تو اس کی تحقیقات کی جائیں گی اور اس کو منظرعام پر لایا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ علاقہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور اتحادی افواج کے فضائی حملوں کے مدد یافتہ کرد اور عرب گروہوں کے درمیان جنگ کا مرکز رہا ہے۔

اتحادی افواج شام میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو ستمبر 2014 سے نشانہ بنا رہی ہیں اور وہ اس حوالے سے دمشق کے حکام کے ساتھ معاونت نہیں کر رہیں۔

دوسری جانب روس نے اس سال ستمبر سے صدر بشار الاسد کے مخالفین اور دولت اسلامیہ کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

گذشتہ ماہ فرانس کے شہر پیرس میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ کی جانب سے قبول کیے جانے کے بعد فرانس نے بھی شام پر کیے جانے والے فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ گذشتہ ہفتے برطانیہ بھی شام میں فضائی کارروائیوں کا حصہ بن گیا تھا۔