حمص میں جان بوجھ کر طبی عملے کو نشانہ بنایا گیا: ایم ایس ایف

،تصویر کا ذریعہReuters
بین الاقوامی تنظیم میڈیسن سان فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے گذشتہ سنیچر کو شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں ہسپتال پر کیے جانے والے بیرل بم حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
طبی امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ ’زعفرانیہ میں دو بم حملے کیے گئے، پہلے حملے کے فوراً بعد دوسرا حملہ کیا گیا جس میں جان بوجھ کر طبی عملے کو نشانہ بنایا گیا۔‘
’پہلے حملہ آبادی والے علاقے میں کیا گیا جس کے بعد مزید تین بم اس ہستپال کے قریب گرائے گئے جہاں زخمیوں کو لایا گیا تھا۔ہسپتال کے وہ حصے جہاں ایم ایس ایف کے اہکار کام کر رہے تھے تباہ ہو گئے ہیں۔‘
تاہم شامی صدر بشار الاسد نے ان کی فورسز کی جانب سے بیرل حملے کیے جانے کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔
ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ’پہلا بیرل بم زعفرانیہ کے آبای والے علاقے میں ہیلی کاپٹر سے گرایا گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص اور ایک نوجوان لڑکی ہلاک ہوئے جبکہ 16 دیگر افراد زخمی ہوئے۔‘
ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ’پہلے بیرل بم کے 40 منٹ بعد جب زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی تھی کہ اچانک دو مزید بیرل بم ہسپتال کے داخلی دروازے کے سامنے گرائے گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایم ایس ایف کے مطابق پانچ مزید شدید زخمی افراد اس وقت دم طور گئے جب انھیں قریبی گاؤں کے ہسپتال لے جایا گیا۔
بین الاقوامی طبی امدادی ادارے کے ڈائریکٹر آف آپریشن کا کہا ہے کہ ’ان دوہرے حملوں کی حکمت عملی سے جو نقصان ہوتا ہے اسے تصور کرنا بھی خوفناک ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب منگل کے روز اطلاعات کے مطابق شامی حکومت اور باغی جنگجوؤں کے درمیان حمص شہر کے علاقوں میں لڑائی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
حمص میں صوبائی گورنر کا کہنا ہے کہ ’اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ آخری علاقہ ال وائیر کو باغی جنگجو جلد خالی کر دیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ باغی جنگجوؤں کا سلسلہ وار انخلا آئندہ دو ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔جس کے بدلے میں سرکاری فورسز علاقے پر شیلنگ اوراس کا محاصرہ ختم کر دیں گی۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ سال بھی اسی طرح کے معاہدے کے تحت باغی جنگجوؤں سے حمص شہر کے دیگر حصوں کو خالی کرایا گیا تھا۔







