جرمن کابینہ کی ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف جنگ کی حمایت

،تصویر کا ذریعہGetty
جرمنی کی کابینہ نے شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں فوجی مدد فراہم کرنے کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔
خطے میں جاسوسی کرنے والا ٹورناڈو ہوائی جہاز، ایک بحری جنگی جہاز اور 1200 فوجیوں کو بھیجنے کی تجویز پر بدھ کو پارلیمان میں رائے شماری ہوگی۔
<link type="page"><caption> جرمنی کا ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف مزید اقدامات کا عزم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151126_france_paris_attack_germany_merkal_sz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’تمام ممالک دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہوں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151121_un_resolution_against_islamic_state_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
جرمنی نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ پیرس میں 12 نومبر کو ہونے والے حملوں کے بعد فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کی درخواست پر کیا ہے۔
خیال رہے کہ جرمنی کی افواج جنگی کارروائیوں میں شریک نہیں ہوں گی۔
امید کی جارہی ہے کہ جرمنی کے ارکان پارلیمان اس مشن کی حمایت کریں گے، جس سے یہ بیرون ملک جرمنی کا سب سے بڑا فوجی آپریشن بن جائے گا۔
دوسری جانب بدھ کو برطانوی پارلیمان میں بھی شام میں ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف جنگ میں شمولیت کے حوالے سے بحث اور ووٹنگ ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے جرمنی کی افریقی ملک مالی میں مزید 650 فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ وہاں پہلے ہی 1500 جرمن فوجی تعینات ہیں۔
جرمنی کے وزیرخارجہ فرینک والٹر سٹینمیئر نے منگل کو کابینہ کے اجلاس سے قبل ’بلد‘ اخبار کو بتایا تھا کہ ‘ہم جو کر رہے ہیں وہ فوجی لحاظ سے ضروری ہے، جو اہم بہترین انداز میں کر سکتے ہیں، اور جس کی ہم سیاسی طور پر حمایت کر سکتے ہیں۔ دولت اسلامیہ جیسے مخالف کے لیے ہمیں بھرپور صلاحیت کی ضرورت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
دوسری جانب جرمنی کی فوجی سروسز کی ایسوسی ایشن نے واضح مقاصد کے تعین کے بغیر جنگ میں شامل ہونے کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین آندرے ووئسٹنر نے جرمنی ٹی وی کو بتایا: ’اگر اس لڑائی کو سنجیدہ انداز میں لیا جائے تو یہ دس سال سے زیادہ عرصہ جاری رہ سکتی ہے۔‘
گرین پارٹی کی چیئروومن سائمون پیٹر اس مشن کے اقوام متحدہ کی قرارداد کے بغیر اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’اس تعیناتی کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے، کوئی سیاسی منصوبہ نہیں اور اسی وجہ سے یہ غیرذمہ داری ہے۔‘
منگل کو شائع ہونے والی ایک عوامی رائے شماری میں 45 فی صد جرمن شہریوں نے جرمنی کی فوجی شمولیت کی حمایت اور 39 فیصد نے مخالفت کی ہے۔
خبررساں ادارے ڈی پی اے کے لیے کی جانے والی رائے شماری میں 71 فیصد نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے سے جرمنی میں حملے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔‘







