تیونس کے دارالحکومت میں دھماکے میں 12 ہلاک، کرفیو نافذ

جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت تیز بارشوں کے باعث سڑکوں پر پانی جمع تھا اور ٹریفک بہت زیادہ تھی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت تیز بارشوں کے باعث سڑکوں پر پانی جمع تھا اور ٹریفک بہت زیادہ تھی

تیونس کے حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت تیونس میں صدارتی گارڈز کی بس پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صدارتی محل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ مرکزی شاہراہ پر اس وقت ہوا جب رش سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دھماکہ صدارتی محل کے گارڈز کی بس پر حملہ تھا۔

تیونس کے صدر نے 30 روز کی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور دارالحکومت تیونس میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

تیونس میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب یا تو یہ بس معزول صدر زین العابدین کی جماعت کے ہیڈکوارٹر کے باہر پہنچی یا اس کے قریب پہنچی۔

جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت تیز بارشوں کے باعث سڑکوں پر پانی جمع تھا اور ٹریفک بہت زیادہ تھی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے صدارتی محل کے ذرائع نے بتایا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا یہ بارودی مواد سے بس پر حملہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ جون میں تیونس شہر سوس میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے ایک ہوٹل پر حملہ کیا تھا جس میں 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔