’شام یا عراق میں آسٹریلوی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں‘

 آسٹریلوی خصوصی افواج کے دستوں کے تقریباً 90 ارکان عراق اور شام میں انسداد دہشت گردی کی ایجنسیوں کی مشاورت پر مامور ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن آسٹریلوی خصوصی افواج کے دستوں کے تقریباً 90 ارکان عراق اور شام میں انسداد دہشت گردی کی ایجنسیوں کی مشاورت پر مامور ہیں

آسٹریلیا کے وزیراعظم میلکم ٹرن بال کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ پہلے ہی سے کمزور ہے اور آسٹریلیا اس کے مقابلے کےلیے مزید افواج شام اور عراق بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

میلکم ٹرن بال نے یہ بات دولت اسلامیہ کی جانب سے پیرس حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد آسٹریلیا کی پارلیمان سے خطاب کے دوران کہی۔

آسٹریلیا عراق اور شام میں بمباری کرنے والے اس اتحاد کا حصہ ہے جس کی رہنمائی امریکہ کر رہا ہے۔

ٹرن بال نے کہا کہ عراق یا شام میں آسٹریلوی افواج کی تعیناتی نہ ہی ’ممکن‘ ہے اور نہ ہی ’قابل عمل‘ ہے۔

ان کے خیالات آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم ٹونی ایبٹ سے بالکل مختلف ہیں، جنھوں نے دولت اسلامیہ کو ’موت کا فرقہ‘ قرار دیا تھا۔

میلکم ٹرن بال نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دولت اسلامیہ پروپیگنڈے پر یقین رکھتی ہے اور ’ہمیں اس اشتہار بازی میں آ کر بےوقوف نہیں بننا چاہیے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس تنظیم کو عراق اور شام میں عسکری طریقوں سے مات دینا ضروری ہے، جہاں انھوں نے وسیع علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دولت اسلامیہ کا نظریہ تو دقیانوسی ہے لیکن ان کا انٹرنیٹ کا استعمال انتہائی جدید ہے، ان کے پاس بندوقوں سے زیادہ سمارٹ فونز ہیں اور جنگجوؤں سے زیادہ ٹوئٹر اکاؤنٹس ہیں۔

’وہ وسیع رقبے پر قابض ہونے کے اہل نہیں ہیں، حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جہاں ان کا براہ راست اختیار ہے، وہ مخالف قوتوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اور ان پر فوج کا دباؤ بھی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی رہنماؤں کے اتفاق رائے میں شام پر کسی بڑے پیمانے کی کارروائی کی کوئی خواہش نہیں پائی جاتی۔

اس وقت آسٹریلوی خصوصی افواج کے دستوں کے تقریباً 90 ارکان عراق اور شام میں انسداد دہشت گردی کی ایجنسیوں کی مشاورت پر مامور ہیں جبکہ 300 کے قریب فوجی عراقی فوجیوں کی تربیت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔