’لا مارسیئز کے کیا معنی ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty
منگل کو فرانس اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے دوستانہ فٹبال میچ میں فرانسیسی قومی ترانہ لا مارسیئز صرف فرانس کے کھلاڑی ہی نہیں بلکہ انگلش کھلاڑی بھی گائیں گے۔ بی بی سی کے جان کیلی نے یہی جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس اثر انگیز ترانے کے پیچھے کیا داستان ہے۔
یہ ، قطعی بہادری کا ترانہ ہے۔ سترہ سو بانوے میں جب آسٹرین اور پروشیائی دستوں نے فرانس پر حملہ کیا تو فرانسیسی فوج کے ایک کپتان کلاڈ جوزف نے یہ ترانہ ترتیب دیا۔
سٹراسبرگ کے میئر نے فرانسیسی فوجی افسر روگے ڈی لائل سے ایک ایسا ترانہ لکھنے کو کہا جس سے فوجی دستوں کے اندر اپنے وطن کی حفاظت کرنے کا جزبہ اجاگر ہو۔ اس ترانے کا پہلا نام ’شانٹ ڈی گے پو لامی ڈو رن‘ تھا۔ اور اسے مارشل نکولس کے نام کیا گیا تھا، جو کہ باوارین فوج کے کمانڈر تھے۔
اس ترانے کے بول ویسے تو وطن کے بچوں کو ملک کے سنہرے دنوں کے آنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن اس نغمے میں ایک لرزہ خیز انتباہ بھی ہے۔اس مخصوص حصے کے بول ’وحشی فوجیوں‘ کا ذکر کررہے ہیں جو کہ ’ظلم کا پرچم اٹھائے فرانسیسی عوام کی طرف اشارہ کر کے کہہ رہے ہیں کہ یہ فوجی تمھارے بیٹوں اور عورتوں کا گلا کاٹنے کے لیے آ رہے ہیں۔‘
آگے جا کر اسی نغمے کے بول ہم وطنوں کو ہتھیار اٹھا کر ’مارچ‘ کرنے کا کہتے ہیں۔
چناچہ اس نغمے کی اہمیت موجودہ وقت میں پیرس حملوں کے بعد اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سائمن شاما نے بی بی سی ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے جو فرانس میں کیا ہے، لا مارسیئز اس لحاظ سے اس صورتحال کی ایک بہت درست مثال ہے۔ انھوں نے اسے دنیا کا عظیم ترین ترانہ قرار دیا ہے۔



