آسٹریلیا میں پناہ گزینوں کے حراستی مرکز میں کشیدگی

حکام کے مطابق اس حراستی مرکز میں کئی جگہ آگ جلتی ہوئی نظر آئی ہے اور محافظوں کو وہاں سے ہٹا لیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق اس حراستی مرکز میں کئی جگہ آگ جلتی ہوئی نظر آئی ہے اور محافظوں کو وہاں سے ہٹا لیا گيا ہے

آسٹریلیا میں حکام کا کہنا ہے کہ کرسمس آئی لینڈ کے حراستی مرکز میں قیدیوں نے آگ جلائی ہے اور وہاں ’شدید افراتفری‘ پائی جاتی ہے اور گڑبڑ ابھی بھی جاری ہے۔

امیگریشن محکمے نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ حفاظتی اقدام کے تحت وہاں سے محافظوں کو ہٹا لیا گیا ہے۔

اس گڑبڑ کے سبب وہاں موجود طبی، تعلیمی اور کھیل کی سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔

بیان میں بڑے پیمانے پر ’فساد‘ کی بات کو مسترد کر دیا گيا ہے اور اس پناہ گزین کیمپ کے حالات کشیدہ بتائے گئے ہیں۔

اس میں نیوزی لینڈ کے باشندے بھی ہیں جنھیں آسٹریلیا سے ملک بدر کیا جانا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب پیر کی صبح حراستی مرکز کے نزدیک پہاڑیوں کے پاس سے ایک شخص کی لاش ملی جو حراستی مرکز سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس پر ایرانی قیدیوں نے مظاہرہ کرنا شروع کر دیا کیونکہ مرنے والا کرد نسل کا ایرانی شخص فضل چگینی تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’حراستی کیمپ میں پرامن احتجاج کی اجازت ہے لیکن دوسرے قیدیوں نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے توڑ پھوڑ شروع کر دی۔‘

آسٹریلیا پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو کرسمس آئی لینڈ کے دور افتادہ مقام پر بھیج دیتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو کرسمس آئی لینڈ کے دور افتادہ مقام پر بھیج دیتا ہے

حراستی مرکز میں محصور ایک شخص نے نیوزی لینڈ کے ایک چینل کو بتایا کہ ’ہنگامے‘ کے بعد مرکز میں تعینیات گارڈز اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر چلےگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کمپلیکس میں کئی جگہ آگ بھی جلائی گئي ہے۔ اس میں موجود بعض افراد ایسے بھی تھے جن کے ویزے کی مدت ختم ہو گئی تھی اور انھوں نے مظاہرہ جاری رکھا اور املاک کو نقصان پہنچایا۔

لیکن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ مرکز کے اطراف میں سکیورٹی سخت ہے اور کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

آسٹریلیا میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو کرسمس آئی لینڈ کے دور افتادہ مقام پر بھیج دیتا ہے۔ یہ جزیرہ پرتھ کے شمال مغرب میں 2650 کلومیٹر اور انڈونیشیا کے جزیرے جاوا سے 390 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ان افراد کو پاپوا نیو گنی کے جزیرے مانس اور جنوبی بحرالکاہل کے جزیرے نارو بھی بھیجا جاتا ہے۔

کرسمس آئی لینڈ کے حراستی مرکز میں نیوزی لینڈ سے ملک بدر ہونے والے افراد کو بھی رکھا جاتا ہے۔ آسٹریلیا میں نیوزی لینڈ کے جرائم میں ملوث افرد کا ویزا منسوخ کرنے کے قانون کے بعد سے مرکز میں نیوزی لیند کے شہریوں کے تعداد بڑھ گئی ہے۔

کرد شخص کی موت پر وہاں قید ایرانیوں نے احتجاج کرنا شروع کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکرد شخص کی موت پر وہاں قید ایرانیوں نے احتجاج کرنا شروع کر دیا تھا

آسٹریلیا کے شعبہ تارکین وطن اور سرحدی سلامتی کا کہنا ہے کہ فضل چیگنی کی لاش فرار ہونے کے ایک دن بعد نزدیکی پہاڑیوں کے قریب سے ملی۔ ہلاکت کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

مہاجروں کے اتحادی ایکشن گروپ کے رکن آئن رنتول نے آسٹریلوی اخبار سڈنی مارننگ ہیرلڈ سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ’مرکزمیں موجود دیگر افراد کی طرح فضل بھی طویل عرصے سے محض شک کی بنیاد پر حراست میں رکھے جانے کی وجہ سے اعصابی تکلیف کا شکار تھا۔

’فضل نے دیگر محصورین کو بتایا تھا کہ وہ اب یہ قید برداشت نہیں کرسکتے اور یہاں سے باہر جانا چاہتے ہیں۔‘

نیوزی لینڈ میں حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان کیلون ڈیوس گذشتہ ماہ کرسمس آئی لینڈ حراستی مرکز کے دورے کے بعد سے وہاں پر موجود افراد سے رابطے میں ہیں۔

انھوں نے ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایا کہ ’ایک قیدی وہاں موجود محافظ سے پوچھ رہا تھا کہ فرار ہونے والا شخص کیسے ہلاک ہوا اور کیا اس کے چہرے پر مکہ مارا گیا تھا۔ اور یہیں سے مزید چیزیں سامنے آنا شروع ہوئیں۔‘

یہاں غیر قانونی تارکین وطن کے علاوہ ایسے لوگوں کو رکھا جاتا ہے جن کو ملک بدر کیا جانا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیہاں غیر قانونی تارکین وطن کے علاوہ ایسے لوگوں کو رکھا جاتا ہے جن کو ملک بدر کیا جانا ہے

ایک محصور شخص نے ٹی وی نیوزی لینڈ کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد ’وہاں کے محافظین حواس باختہ ہو کر اپنی ذمہ داریاں چھوڑ کر چلے گئے۔‘

اس شخص نے بتایا کہ ’مرکز میں جگہ جگہ دیواروں میں سوراخ ہیں اور کینٹین کی حالت بالکل خستہ ہے۔‘

امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ کینٹین کی حالت بہتر کرنے لے لیے کام کر رہے ہیں۔

آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ پناہ حاصل کرنے آنے والے افراد ایک انتہائی خطرناک سفر اختیار کرتے ہیں، جن کا جرائم پیشہ گینگوں سے تعلق ہوتا ہے۔اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جائے۔

کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ پناہ حاصل کرنے والوں کو روکنے کے پیچھے اکثر نسل پرستی کے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں اور اس طرز عمل سے آسڑیلیا کی شہرت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

جولائی میں ہیومن رائٹس آسٹریلیا کے ڈائریکٹر نے آسٹریلیا کی اس پالیسی کو ایک ’آفت‘ سے تشبیہ دی ہے۔ گروپ نے مانس کیمپ میں کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فروری میں مانس کیمپ میں ہنگاموں کے دوران ایک ایرانی شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ اس جرم کے الزام میں وہاں کی سالویشن آرمی کے رکن اور کیمپ کے ایک محافظ کے خلاف مقدمے کی سماعت گذشتہ ماہ کے آخر میں دوبارہ شروع کر دی گئی۔