ایمیزون کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
برازیل میں حکام کے مطابق ایمیزون کی جنگلات میں مختلف مقامات میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
اس آگ سے ایمیزون کے خطے میں مقامی قبائل کے نصف سے زائد وسائل متاثر ہوئے تھے۔
<link type="page"><caption> ایمیزون کی کٹائی: فائدے اور نقصانات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2009/06/090612_deforestation_boom" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> برازیل: ایمیزون میں درختوں کی گنتی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2013/01/130125_brazil_rain_forest_rk" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ برازیل کی ریاست مارنہاؤ میں ارایبوئیا کے محفوظ شدہ علاقے میں 12000 مقامی قبائلی رہتے ہیں۔
ان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ آگ ایک ماہ سے زائد عرصہ قبل باغی کسانوں اور درختوں کی کٹائی کرنے والوں کی جانب سے لگائی گئی تھی جو علاقے کے قدرتی وسائل ہتھیانا چاہتے تھے۔
سینکڑوں کی تعداد میں فائرفائٹرز اور فوجیوں نے آگ بچھانے کی کوششیں کرتے رہے تھے۔
ایک مقامی اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کا کام حالیہ بارشوں نے آسان کر دیا، جس نےریاست میں تقریباً 90 فیصد آگ کو بجھا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برازیل کے انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹ اینڈ رینیوایبل نیچرل ریسورسز کے ریجینل ڈائریکٹر لیسیانو ایوریسٹو نے بتایا کہ بقیہ دس فیصد آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ماحولیات سے وابستہ غیرسرکاری تنظیم گرین پیس کا کہنا ہے کہ درختوں کی کٹائی کرنے والوں نے قبائلیوں کو خوفزدہ کرنے اور ارایبوئیا میں ان کے نگرانی کے پروگرام کو روکنے کے لیے آگ لگائی تھی۔
اس علاقے میں گواجاجارا نسل کے 12000 قبائلی آباد ہیں۔
انہی میں اوا گواجا نامی ایک قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد محض 80 ہے، جو جنگل کے اندرونی علاقوں میں رہتے ہیں۔
رواں سال برازیل میں ایمیزون کے جنگل میں آگ لگنے کے 13000 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں۔







